<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:46:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:46:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک، انسٹاگرام اورتھریڈز پر اے آئی مواد کی نشاندہی کا فیچر پیش کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1225495/</link>
      <description>&lt;p&gt;فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز کی مالک کمپنی میٹا نے تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے تمام پلیٹ فارم پر آنے والے وقت میں ایسا فیچر پیش کرے گی، جس سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے فیچر کی نشاندہی ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت میٹا کے تمام پلیٹ فارمز سمیت انٹرنیٹ پر بہت سارا مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار وائرل ہو رہا ہے اور تمام کمپنیاں ایسے ٹولز بھی پیش کر رہی ہیں، جن کی مدد سے اے آئی مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیس بک نے بھی متعدد ایسے ٹولز پیش کر رکھے ہیں، جن کی مدد سے مواد کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے چند ماہ میں ایسے فیچر پیش کرے گی کہ فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز پر شیئر ہونے والے اے آئی مواد کی نشاندہی ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا نے اپنی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://about.fb.com/news/2024/02/labeling-ai-generated-images-on-facebook-instagram-and-threads/"&gt;&lt;strong&gt;بلاگ پوسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا کہ وہ دنیا کے متعدد پلیٹ فارم سے اشتراک کر رہی ہے اور جیسے ہی ان کا اشتراک مکمل ہوجائے گا، فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز پر اے آئی مواد کی نشاندہی کے فیچرز پیش کردیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق فیچرز کے تحت تمام پلیٹ فارمز پر جیسے ہی کوئی صارف اے آئی تصویر شیئر کرے گا تو کمپنی مذکورہ تصویر پر کیپشن دے کر صارفین کو بتائے گی تصویر مصنوعی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216340"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اے آئی ویڈیوز اور آڈیوز کی بھی نشاندہی کی جائے گی اور کیپشنز کے ذریعے صارفین کو آگاہ کیا جائے گا کہ مذکورہ مواد مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اگر بعض تصاویر کے بیک گراؤنڈ کو اے آئی کی مدد سے تبدیل کرکے شیئر کیا جائے گا تب بھی صارفین کو کیپشنز کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح بعض مشکوک اور مبہم مواد پر بھی کمپنی کیپشن کے ذریعے آگاہی دے گی کہ مذکورہ مواد فائنل نہیں ہے یا اس متعلق کوئی تصدیق نہیں ہوسکے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کی جانب سے مذکورہ فیچرز کے پیش کرنے کے اعلان کے بعد کمپنی کی تعریفیں کی جا رہی ہیں اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دوسری کمپنیاں بھی ایسے ہی فیچرز پیش کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://about.fb.com/wp-content/uploads/2024/02/01_AI-Labeling_IG_Carousel-01.jpg?fit=960%2C836'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز کی مالک کمپنی میٹا نے تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے تمام پلیٹ فارم پر آنے والے وقت میں ایسا فیچر پیش کرے گی، جس سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے فیچر کی نشاندہی ہو سکے گی۔</p>
<p>اس وقت میٹا کے تمام پلیٹ فارمز سمیت انٹرنیٹ پر بہت سارا مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار وائرل ہو رہا ہے اور تمام کمپنیاں ایسے ٹولز بھی پیش کر رہی ہیں، جن کی مدد سے اے آئی مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>فیس بک نے بھی متعدد ایسے ٹولز پیش کر رکھے ہیں، جن کی مدد سے مواد کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم اب میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے چند ماہ میں ایسے فیچر پیش کرے گی کہ فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز پر شیئر ہونے والے اے آئی مواد کی نشاندہی ہو سکے گی۔</p>
<p>میٹا نے اپنی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://about.fb.com/news/2024/02/labeling-ai-generated-images-on-facebook-instagram-and-threads/"><strong>بلاگ پوسٹ</strong></a> میں بتایا کہ وہ دنیا کے متعدد پلیٹ فارم سے اشتراک کر رہی ہے اور جیسے ہی ان کا اشتراک مکمل ہوجائے گا، فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز پر اے آئی مواد کی نشاندہی کے فیچرز پیش کردیے جائیں گے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق فیچرز کے تحت تمام پلیٹ فارمز پر جیسے ہی کوئی صارف اے آئی تصویر شیئر کرے گا تو کمپنی مذکورہ تصویر پر کیپشن دے کر صارفین کو بتائے گی تصویر مصنوعی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216340"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسی طرح اے آئی ویڈیوز اور آڈیوز کی بھی نشاندہی کی جائے گی اور کیپشنز کے ذریعے صارفین کو آگاہ کیا جائے گا کہ مذکورہ مواد مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا۔</p>
<p>اسی طرح اگر بعض تصاویر کے بیک گراؤنڈ کو اے آئی کی مدد سے تبدیل کرکے شیئر کیا جائے گا تب بھی صارفین کو کیپشنز کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔</p>
<p>اسی طرح بعض مشکوک اور مبہم مواد پر بھی کمپنی کیپشن کے ذریعے آگاہی دے گی کہ مذکورہ مواد فائنل نہیں ہے یا اس متعلق کوئی تصدیق نہیں ہوسکے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے یا نہیں۔</p>
<p>میٹا کی جانب سے مذکورہ فیچرز کے پیش کرنے کے اعلان کے بعد کمپنی کی تعریفیں کی جا رہی ہیں اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دوسری کمپنیاں بھی ایسے ہی فیچرز پیش کریں گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://about.fb.com/wp-content/uploads/2024/02/01_AI-Labeling_IG_Carousel-01.jpg?fit=960%2C836'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1225495</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Feb 2024 19:52:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/02/17192255552df6c.jpg?r=192329" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/02/17192255552df6c.jpg?r=192329"/>
        <media:title>—فوٹو: میٹا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
