<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 03:12:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 03:12:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر نے 30 فیصد زائد ٹیکس اکٹھا کر لیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1225860/</link>
      <description>&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2024 کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران 30 فیصد زائد ٹیکس اکٹھا کیا ہے، جس کی بنیادی وجہ بُلند افراط زر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1815913/high-inflation-helps-fbr-collect-30pc-more-revenue"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایف بی آر نے یکم جولائی 2023 تا وسط فروری کے درمیان 51 کھرب 50 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 39 کھرب 73 ارب روپے اکٹھا کیے تھے، یہ 28 فیصد سے زائد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کی کارکردگی رپورٹ وزارت خزانہ کی جانب سے ایسے وقت میں جاری کی گئی، جب نگران وزیر خزانہ نے ٹیکس مشینری کے اعلیٰ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے عبوری کابینہ سے منظوری طلب کی، جس نے رپورٹ کے مطابق، فروری کے ابتدائی 15 دن میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے مہینے میں سالانہ بنیادوں پر ٹیکس میں 17 فیصد، اگست 2023 میں 36 فیصد، ستمبر میں 21 فیصد، اکتوبر میں 37 فیصد، نومبر میں 38 فیصد، دسمبر میں 34 فیصد اور جنوری میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم جولائی 2023 تا جنوری 2024 کے درمیان مقامی ٹیکسز تقریباً 40 فیصد بڑھے، جبکہ امپورٹ ڈیوٹیز و دیگر لیویز کی مد میں 16 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194702"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدی ٹیکسز بڑھنے کی رفتار میں سست روی کی مختلف وجوہات ہیں، جس میں وقت کے ساتھ درآمدی ڈیوٹیز میں کمی، جبکہ حال ہی میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے درآمدات کو محدود کرنا بھی شامل ہے، جو زرمبادلہ کی قلت کے بعد توازن ادائیگی کو بہتر کرنے کے لیے عائد کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، درآمدات سے محصولات کی وصولی 151 ارب روپے رہی، جس کی وجہ درآمدی قدر میں بہتری کے اثرات تھے، ساتھ ہی انسداد اسمگلنگ مہم سے مالی سال 2023 کے مقابلے میں مالی سال 2024 کے دوران تقریباً 69 فیصد کا ضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان میں کسٹم فورس کو بڑھا کر انسداد اسمگلنگ کی کوششوں کو بہتر بنانے کے امکانات موجود ہیں، صوبے میں اس وقت صرف  378 اہلکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی ٹیکسز سے ریونیو اکٹھا کرنا اچھی تبدیلی ہے، رواں مالی سال میں مجموعی آمدنی میں مقامی ٹیکسز کا حصہ 64 فیصد ہے، جس کی بنیادی وجہ تقریباً 30 فیصد کی مہنگائی کا ہونا ہے، جبکہ درآمدی ٹیرف کا حصہ 3 سال پہلے 50 فیصد سے کم ہو کر 36 فیصد پر آ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران انکم ٹیکس میں 40 فیصد کا اضافہ ہوا،  بینکوں، پیٹرولیم مصنوعات، ٹیکسٹائل، توانائی، غذائی اشیا اورخدمات کے شعبے سے زیادہ ٹیکس اکٹھا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کی تاریخ میں غیر معمولی مہنگائی کے باوجود جولائی تا جنوری سیلز ٹیکس کی مد میں صر ف 19 اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 61 فیصد زیادہ ریونیو اکٹھا کیا، زیادہ تر ٹیکس تمباکو، سیمنٹ، مشروبات، ایئرلائنز، کھاد اور آٹو سیکٹر سے وصول کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران کسٹمز ٹیکس میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2024 کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران 30 فیصد زائد ٹیکس اکٹھا کیا ہے، جس کی بنیادی وجہ بُلند افراط زر ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1815913/high-inflation-helps-fbr-collect-30pc-more-revenue"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایف بی آر نے یکم جولائی 2023 تا وسط فروری کے درمیان 51 کھرب 50 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 39 کھرب 73 ارب روپے اکٹھا کیے تھے، یہ 28 فیصد سے زائد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر کی کارکردگی رپورٹ وزارت خزانہ کی جانب سے ایسے وقت میں جاری کی گئی، جب نگران وزیر خزانہ نے ٹیکس مشینری کے اعلیٰ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے عبوری کابینہ سے منظوری طلب کی، جس نے رپورٹ کے مطابق، فروری کے ابتدائی 15 دن میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p>ابتدائی اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے مہینے میں سالانہ بنیادوں پر ٹیکس میں 17 فیصد، اگست 2023 میں 36 فیصد، ستمبر میں 21 فیصد، اکتوبر میں 37 فیصد، نومبر میں 38 فیصد، دسمبر میں 34 فیصد اور جنوری میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>یکم جولائی 2023 تا جنوری 2024 کے درمیان مقامی ٹیکسز تقریباً 40 فیصد بڑھے، جبکہ امپورٹ ڈیوٹیز و دیگر لیویز کی مد میں 16 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194702"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>درآمدی ٹیکسز بڑھنے کی رفتار میں سست روی کی مختلف وجوہات ہیں، جس میں وقت کے ساتھ درآمدی ڈیوٹیز میں کمی، جبکہ حال ہی میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے درآمدات کو محدود کرنا بھی شامل ہے، جو زرمبادلہ کی قلت کے بعد توازن ادائیگی کو بہتر کرنے کے لیے عائد کی گئی۔</p>
<p>تاہم، درآمدات سے محصولات کی وصولی 151 ارب روپے رہی، جس کی وجہ درآمدی قدر میں بہتری کے اثرات تھے، ساتھ ہی انسداد اسمگلنگ مہم سے مالی سال 2023 کے مقابلے میں مالی سال 2024 کے دوران تقریباً 69 فیصد کا ضافہ ہوا۔</p>
<p>بلوچستان میں کسٹم فورس کو بڑھا کر انسداد اسمگلنگ کی کوششوں کو بہتر بنانے کے امکانات موجود ہیں، صوبے میں اس وقت صرف  378 اہلکار ہیں۔</p>
<p>مقامی ٹیکسز سے ریونیو اکٹھا کرنا اچھی تبدیلی ہے، رواں مالی سال میں مجموعی آمدنی میں مقامی ٹیکسز کا حصہ 64 فیصد ہے، جس کی بنیادی وجہ تقریباً 30 فیصد کی مہنگائی کا ہونا ہے، جبکہ درآمدی ٹیرف کا حصہ 3 سال پہلے 50 فیصد سے کم ہو کر 36 فیصد پر آ گیا ہے۔</p>
<p>رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران انکم ٹیکس میں 40 فیصد کا اضافہ ہوا،  بینکوں، پیٹرولیم مصنوعات، ٹیکسٹائل، توانائی، غذائی اشیا اورخدمات کے شعبے سے زیادہ ٹیکس اکٹھا ہوا ہے۔</p>
<p>ملک کی تاریخ میں غیر معمولی مہنگائی کے باوجود جولائی تا جنوری سیلز ٹیکس کی مد میں صر ف 19 اضافہ ہوا۔</p>
<p>ایف بی آر نے ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 61 فیصد زیادہ ریونیو اکٹھا کیا، زیادہ تر ٹیکس تمباکو، سیمنٹ، مشروبات، ایئرلائنز، کھاد اور آٹو سیکٹر سے وصول کیا گیا۔</p>
<p>مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران کسٹمز ٹیکس میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1225860</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Feb 2024 12:08:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/02/211205062bd9624.png?r=120520" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/02/211205062bd9624.png?r=120520"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
