<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:49:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:49:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایم کیو ایم (پاکستان) نے وفاق میں 4 وزارتیں مانگ لیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1225965/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان اگلی حکومت کے لیے پاور شیئرنگ پر اتفاق کے ایک روز بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے وفد نے (ن) لیگ کے ساتھ ملاقات کرکے وفاقی کابینہ میں تین سے چار وزارتوں کو مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1816168/mqm-wants-four-ministries-as-jui-f-also-seeks-role-in-centre"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ایم کیو ایم نے ڈپٹی اسپیکر نیشنل اسمبلی کا عہدہ لینا چاہتی تھی لیکن مسلم لیگ (ن) پہلے ہی وہ پیپلزپارٹی کو دے چکی ہے، اب ایم کیو ایم وفاقی کابینہ میں 4 وزارتوں کے لیے اصرار کر رہی ہے کیونکہ جماعت کو ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ نہیں مل سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی کابینہ میں وزارتوں کے علاوہ ایم کیو ایم کا مطالبہ ہے کہ قانون سازی کرکے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جائے، جس کی جانب سے اختیارات کی منتقلی کا طویل عرصے سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم کیو ایم پنجاب کے رہنما محمد زاہد نے ڈان کو بتایا کہ مسلم لیگ (ن) نے موجودہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو برقرار رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1225931"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامران ٹیسوری کی سربراہی میں ایم کیو ایم پاکستان کے وفد میں فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال شامل تھے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی اسحٰق ڈار اور ایاز صادق کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جمعیت-علمائے-اسلام-ف-کی-ن-لیگ-سے-ملاقات" href="#جمعیت-علمائے-اسلام-ف-کی-ن-لیگ-سے-ملاقات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جمعیت علمائے اسلام (ف) کی (ن) لیگ سے ملاقات&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مذاکرات ہوئے، جس میں ممکنہ طور پر پیپلزپارٹی کے سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت کی تشکیل کا منصوبہ زیر بحث آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ اسحٰق ڈار نے جے یو آئی (ف) کے رہنما عبدالغفور حیدری کو کہا کہ بلوچستان میں اقتدار کے حوالے سے پاور شیئرنگ کے لیے جے یو آئی (ف) کافی دیر سے (ن) لیگ کے پاس آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحٰق ڈار نے جے یو آئی (ف) کے رہنما کو بتایا کہ مسلم لیگ (ن) پہلے ہی بلوچستان حکومت کی تشکیل پر پیپلزپارٹی کے ساتھ منصوبہ بنا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان رپوٹس کی مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے تردید کی ہے، ایک بیان میں (ن) لیگ کی سیکریٹری اطلاعات نے بتایا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان بدھ کو مذاکرات ہوئے اور اس کا باضابطہ بیان بھی جاری کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے شرکا نے فیصلہ کیا کہ بلوچستان کو درپیش چیلنجز صوبے میں ’مضبوط جمہوری حکومت‘ کا مطالبہ کرتے ہیں، مزید کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یہ ملک کے مفاد میں ہے کہ بلوچستان میں مختلف سیاسی قوتیں مل کر بیٹھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان اگلی حکومت کے لیے پاور شیئرنگ پر اتفاق کے ایک روز بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے وفد نے (ن) لیگ کے ساتھ ملاقات کرکے وفاقی کابینہ میں تین سے چار وزارتوں کو مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1816168/mqm-wants-four-ministries-as-jui-f-also-seeks-role-in-centre"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ایم کیو ایم نے ڈپٹی اسپیکر نیشنل اسمبلی کا عہدہ لینا چاہتی تھی لیکن مسلم لیگ (ن) پہلے ہی وہ پیپلزپارٹی کو دے چکی ہے، اب ایم کیو ایم وفاقی کابینہ میں 4 وزارتوں کے لیے اصرار کر رہی ہے کیونکہ جماعت کو ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ نہیں مل سکتا۔</p>
<p>وفاقی کابینہ میں وزارتوں کے علاوہ ایم کیو ایم کا مطالبہ ہے کہ قانون سازی کرکے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جائے، جس کی جانب سے اختیارات کی منتقلی کا طویل عرصے سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ایم کیو ایم پنجاب کے رہنما محمد زاہد نے ڈان کو بتایا کہ مسلم لیگ (ن) نے موجودہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو برقرار رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1225931"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کامران ٹیسوری کی سربراہی میں ایم کیو ایم پاکستان کے وفد میں فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال شامل تھے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی اسحٰق ڈار اور ایاز صادق کر رہے تھے۔</p>
<h1><a id="جمعیت-علمائے-اسلام-ف-کی-ن-لیگ-سے-ملاقات" href="#جمعیت-علمائے-اسلام-ف-کی-ن-لیگ-سے-ملاقات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جمعیت علمائے اسلام (ف) کی (ن) لیگ سے ملاقات</h1>
<p>دوسری جانب، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مذاکرات ہوئے، جس میں ممکنہ طور پر پیپلزپارٹی کے سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت کی تشکیل کا منصوبہ زیر بحث آیا۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ اسحٰق ڈار نے جے یو آئی (ف) کے رہنما عبدالغفور حیدری کو کہا کہ بلوچستان میں اقتدار کے حوالے سے پاور شیئرنگ کے لیے جے یو آئی (ف) کافی دیر سے (ن) لیگ کے پاس آئی ہے۔</p>
<p>اسحٰق ڈار نے جے یو آئی (ف) کے رہنما کو بتایا کہ مسلم لیگ (ن) پہلے ہی بلوچستان حکومت کی تشکیل پر پیپلزپارٹی کے ساتھ منصوبہ بنا چکی ہے۔</p>
<p>تاہم ان رپوٹس کی مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے تردید کی ہے، ایک بیان میں (ن) لیگ کی سیکریٹری اطلاعات نے بتایا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان بدھ کو مذاکرات ہوئے اور اس کا باضابطہ بیان بھی جاری کر دیا گیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے شرکا نے فیصلہ کیا کہ بلوچستان کو درپیش چیلنجز صوبے میں ’مضبوط جمہوری حکومت‘ کا مطالبہ کرتے ہیں، مزید کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یہ ملک کے مفاد میں ہے کہ بلوچستان میں مختلف سیاسی قوتیں مل کر بیٹھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1225965</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Feb 2024 09:48:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/02/2209414472172d7.png?r=094634" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/02/2209414472172d7.png?r=094634"/>
        <media:title>— فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
