<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:52:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:52:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اس ملک میں آئین کی کوئی حیثیت نہیں، حاکمیت ہمارے ملازمین کی ہے، مولانا فضل الرحمٰن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1226036/</link>
      <description>&lt;p&gt;جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس الیکشن میں ہماری اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی 75سالہ تاریخ کے کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیے، اس ملک آئین کی کوئی حیثیت نہیں، آئین کاغذ کے چند ورقوں کے مجموعے کا نام ہے, یہاں تو حاکمیت اعلیٰ ہماری پارلیمنٹ کی بھی نہیں ہے، ہمارے ملازمین کی حاکمیت ہے، ہم اس نظام کے ساتھ کس طرح چلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کے الیکشن کے بعد ہمارا یہ خیال تھا کہ 2024 کا الیکشن منصفانہ اور شفاف ہو گا لیکن ایک بار پھر ہماری خواہش، آرزو، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے فروغ کو جس طرح کچل دیا گیا ہے تو مجھے اب فکر اس بات کی ہے کہ اگر ایک الیکشن کے بعد مسلسل دوسرا الیکشن بھی متنازع ہو تو پھر پارلیمان کی اہمیت کیا ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وہ پارلیمان جس کو ہم سپریم ادارہ کہتے ہیں، جس میں عوام کے براہ راست نمائندے بیٹھتے ہیں، اگر اسٹیبلشمنٹ براہ راست مداخلت کر کے ایک ایک حلقے سے اپنی مرضی سے نمائندوں کو چنے گی تو پھر ظاہر ہے کہ وہ عوام کا نمائندہ نہیں ہو گا، ایسی پارلیمنٹ کی کیا اہمیت ہو گی جسے عوام اپنا نمائندہ تصور نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1226022"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جو بھی پارلیمنٹ میں بیٹھا ہو گا کہیں نہ کہیں سے کوئی انگلی اس کی طرف انگلی اٹھے گی کہ اس کو بھی تو ایجنسیوں اور اداروں نے پاس کیا ہے، یہ بھی تو اداروں کا بندہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے جس کو مخالف دیکھا اس کے خلاف کرپشن کے کیس کر دیے، میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس الیکشن میں ہماری اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی 75سالہ تاریخ کے کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیے، شرم آنی چاہیے ان لوگوں کو، وردیاں عزت نہیں دیا کرتیں بلکہ وردی کے اندر کردار کی عزت ہوتی ہے، کم از کم جمعیت علمائے اسلام اس کردار سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کے علمبردار ہیں، ہمارے بزرگوں نے اس آئین پر دستخط کیے ہیں، اس آئین کے بانی ہیں اس لیے اس آئین کے تحفظ ہم اپنی ذمے داری تصور کرتے ہیں لیکن آئین کی کوئی حیثیت نہیں، آئین کاغذ کے چند ورقوں کے مجموعے کا نام ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں، جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ وہ جمہوریت جو ہمارے آئین کے تحت قرآن و سنت کے تابع ہے اور اکثریت کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قرآن و سنت کے منافی فیصلہ دے سکے، ہم دنیا کو کیا جواب دیں گے، حاکمیت اعلیٰ تو اللہ رب العالمین کی ہے لیکن یہاں تو حاکمیت اعلیٰ ہماری پارلیمنٹ کی بھی نہیں ہے، ہمارے ملازمین کی حاکمیت ہے، کس طرح ہم اس نظام کے ساتھ چلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعیت علمائے اسلام(ف) کے قائد نے کہا کہ ہم مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے دوستوں کا احترام کرتے ہیں، ہم نے ساتھ مل کر تحریک چلائی ہے حالانکہ ہمارے کارکن سڑکوں پر ہوتے تھے اور ان پارٹیوں کے قائدین صرف کنٹینر پر ہوتے تھے اور تب بھی ہمیں قبول تھے اور میں آج ان سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ 2018 میں بھی آپ کا یہی مینڈیٹ تھا اور 2024 میں بھی آپ کا وہی مینڈیٹ ہے، کچھ سیٹیں اوپر نیچے ہو سکتی ہیں، اسی مینڈیٹ کے ساتھ آپ نے اس وقت کہا تھا کہ دھاندلی ہوئی ہے اور آج کہتے ہیں کہ الیکشن ٹھیک ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں پاکستان تحریک انصاف سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کا بھی تقریباً وہی مینڈیٹ ہے جو 2018 میں تھا، اس وقت آپ حکومت بنا رہے تھے تو الیکشن شفاف تھے، آج آپ حکومت نہیں بنا سکتے تو الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، اس وقت موقف کچھ اور اس دفعہ کا موقف کچھ اور تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1226008"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام ہے جس نے اس وقت دھاندلی ہوئی تو کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے اور آج بھی ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے اور ہم الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے، جب پارلیمنٹ اہمیت کھو بیٹھے گی اور بظاہر ایک بنی بنائی پارلیمنٹ ہو جو عوام کی منتخب نظر نہ آئے اور اس پر تحفظات ہوں تو سوچنا تو جائز ہے ناں کہ ہم آئندہ کے لیے سیاست کا حصہ بنیں یا نہ بنیں، پھر ہم پارلیمانی سیاست کریں یا نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  پیپلز پارٹی کی حکومت اور مسلم لیگ(ن) شامل ہو یا مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہو تو پیپلز پارٹی شامل ہو، یہ روز ایک دوسرے کو بلیک میل کرتے رہیں گے، حکمران ہر وقت اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھے گا کہ کہیں سرک تو نہیں گئے، آئے روز اس کے اپنے ہی حلیف اور شریک حکومت کے مطالبات آتے رہیں گے اور وہ پورے کرسکیں یا نہیں کر سکیں گے کچھ معلوم نہیں، ظاہر ہے دیوار کے پیچھے کچھ خفیہ قوتیں ہوں گی اور وہیں ان کو چلائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری فوج ملکی دفاع کی صلاحیت رکھے، بیرونی دشمن تو دور کی بات ہم تو 20سال سے ملک کے اندر دہشت گردی کے خلاف ان کی جنگ کو دیکھ رہے ہیں، دہشت گردی بڑھ رہی ہے اور ان کی جنگ ختم نہیں ہو رہی، عسکریت پسندی بڑھ رہی ہے اور یہ پتا نہیں کیا کھیل، کھیل رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے یو آئی(ف) کے سربراہ نے کہا کہ میں واضح اعلان کرتا ہوں کہ میں دفاعی قوت پر تنقید نہیں کررہا ہوں لیکن میری دفاعی قوت سیاسی قوت بن گئی ہے تو سیاسی قوت پر تنقید کرنا میرا حق بنتا ہے، وہ دفاعی قوت رہیں گے تو سر کا تاج ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس الیکشن میں ہماری اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی 75سالہ تاریخ کے کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیے، اس ملک آئین کی کوئی حیثیت نہیں، آئین کاغذ کے چند ورقوں کے مجموعے کا نام ہے, یہاں تو حاکمیت اعلیٰ ہماری پارلیمنٹ کی بھی نہیں ہے، ہمارے ملازمین کی حاکمیت ہے، ہم اس نظام کے ساتھ کس طرح چلیں گے۔</p>
<p>جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کے الیکشن کے بعد ہمارا یہ خیال تھا کہ 2024 کا الیکشن منصفانہ اور شفاف ہو گا لیکن ایک بار پھر ہماری خواہش، آرزو، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے فروغ کو جس طرح کچل دیا گیا ہے تو مجھے اب فکر اس بات کی ہے کہ اگر ایک الیکشن کے بعد مسلسل دوسرا الیکشن بھی متنازع ہو تو پھر پارلیمان کی اہمیت کیا ہو گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وہ پارلیمان جس کو ہم سپریم ادارہ کہتے ہیں، جس میں عوام کے براہ راست نمائندے بیٹھتے ہیں، اگر اسٹیبلشمنٹ براہ راست مداخلت کر کے ایک ایک حلقے سے اپنی مرضی سے نمائندوں کو چنے گی تو پھر ظاہر ہے کہ وہ عوام کا نمائندہ نہیں ہو گا، ایسی پارلیمنٹ کی کیا اہمیت ہو گی جسے عوام اپنا نمائندہ تصور نہیں کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1226022"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جو بھی پارلیمنٹ میں بیٹھا ہو گا کہیں نہ کہیں سے کوئی انگلی اس کی طرف انگلی اٹھے گی کہ اس کو بھی تو ایجنسیوں اور اداروں نے پاس کیا ہے، یہ بھی تو اداروں کا بندہ ہے۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے جس کو مخالف دیکھا اس کے خلاف کرپشن کے کیس کر دیے، میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس الیکشن میں ہماری اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی 75سالہ تاریخ کے کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیے، شرم آنی چاہیے ان لوگوں کو، وردیاں عزت نہیں دیا کرتیں بلکہ وردی کے اندر کردار کی عزت ہوتی ہے، کم از کم جمعیت علمائے اسلام اس کردار سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کے علمبردار ہیں، ہمارے بزرگوں نے اس آئین پر دستخط کیے ہیں، اس آئین کے بانی ہیں اس لیے اس آئین کے تحفظ ہم اپنی ذمے داری تصور کرتے ہیں لیکن آئین کی کوئی حیثیت نہیں، آئین کاغذ کے چند ورقوں کے مجموعے کا نام ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں، جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ وہ جمہوریت جو ہمارے آئین کے تحت قرآن و سنت کے تابع ہے اور اکثریت کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قرآن و سنت کے منافی فیصلہ دے سکے، ہم دنیا کو کیا جواب دیں گے، حاکمیت اعلیٰ تو اللہ رب العالمین کی ہے لیکن یہاں تو حاکمیت اعلیٰ ہماری پارلیمنٹ کی بھی نہیں ہے، ہمارے ملازمین کی حاکمیت ہے، کس طرح ہم اس نظام کے ساتھ چلیں گے۔</p>
<p>جمعیت علمائے اسلام(ف) کے قائد نے کہا کہ ہم مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے دوستوں کا احترام کرتے ہیں، ہم نے ساتھ مل کر تحریک چلائی ہے حالانکہ ہمارے کارکن سڑکوں پر ہوتے تھے اور ان پارٹیوں کے قائدین صرف کنٹینر پر ہوتے تھے اور تب بھی ہمیں قبول تھے اور میں آج ان سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ 2018 میں بھی آپ کا یہی مینڈیٹ تھا اور 2024 میں بھی آپ کا وہی مینڈیٹ ہے، کچھ سیٹیں اوپر نیچے ہو سکتی ہیں، اسی مینڈیٹ کے ساتھ آپ نے اس وقت کہا تھا کہ دھاندلی ہوئی ہے اور آج کہتے ہیں کہ الیکشن ٹھیک ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں پاکستان تحریک انصاف سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کا بھی تقریباً وہی مینڈیٹ ہے جو 2018 میں تھا، اس وقت آپ حکومت بنا رہے تھے تو الیکشن شفاف تھے، آج آپ حکومت نہیں بنا سکتے تو الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، اس وقت موقف کچھ اور اس دفعہ کا موقف کچھ اور تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1226008"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام ہے جس نے اس وقت دھاندلی ہوئی تو کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے اور آج بھی ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے اور ہم الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے، جب پارلیمنٹ اہمیت کھو بیٹھے گی اور بظاہر ایک بنی بنائی پارلیمنٹ ہو جو عوام کی منتخب نظر نہ آئے اور اس پر تحفظات ہوں تو سوچنا تو جائز ہے ناں کہ ہم آئندہ کے لیے سیاست کا حصہ بنیں یا نہ بنیں، پھر ہم پارلیمانی سیاست کریں یا نہ کریں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  پیپلز پارٹی کی حکومت اور مسلم لیگ(ن) شامل ہو یا مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہو تو پیپلز پارٹی شامل ہو، یہ روز ایک دوسرے کو بلیک میل کرتے رہیں گے، حکمران ہر وقت اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھے گا کہ کہیں سرک تو نہیں گئے، آئے روز اس کے اپنے ہی حلیف اور شریک حکومت کے مطالبات آتے رہیں گے اور وہ پورے کرسکیں یا نہیں کر سکیں گے کچھ معلوم نہیں، ظاہر ہے دیوار کے پیچھے کچھ خفیہ قوتیں ہوں گی اور وہیں ان کو چلائیں گی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری فوج ملکی دفاع کی صلاحیت رکھے، بیرونی دشمن تو دور کی بات ہم تو 20سال سے ملک کے اندر دہشت گردی کے خلاف ان کی جنگ کو دیکھ رہے ہیں، دہشت گردی بڑھ رہی ہے اور ان کی جنگ ختم نہیں ہو رہی، عسکریت پسندی بڑھ رہی ہے اور یہ پتا نہیں کیا کھیل، کھیل رہے ہیں۔</p>
<p>جے یو آئی(ف) کے سربراہ نے کہا کہ میں واضح اعلان کرتا ہوں کہ میں دفاعی قوت پر تنقید نہیں کررہا ہوں لیکن میری دفاعی قوت سیاسی قوت بن گئی ہے تو سیاسی قوت پر تنقید کرنا میرا حق بنتا ہے، وہ دفاعی قوت رہیں گے تو سر کا تاج ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1226036</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Feb 2024 17:22:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/02/2217081448e1db7.png?r=170840" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/02/2217081448e1db7.png?r=170840"/>
        <media:title>جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
