<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 01:17:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 01:17:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسپین: رہائشی عمارت میں آتشزدگی، 4 افراد ہلاک، 15 لاپتا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1226158/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسپین کے شہر ویلنسیا کی رہائشی عمارت میں آتشزدگی کے نتیجے میں کم ازکم 4 افراد ہلاک جبکہ 15 لاپتا ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی ویژن فوٹیج میں عمارت میں آگ اور دھویں کے شعلے بلند ہوتے نظر آرہے ہیں، اور اندر سے چھوٹے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، عینی شاہدین نے بتایا کہ تیز ہواؤں کے نتیجے میں آگ نے آدھے گھنٹے میں پوری عمارت کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہائشیوں اپنی بالکنیوں سے مدد کے لیے پکارتے نظر آرہے تھے، ایک فائر مین نے پہلی منزل سے نیچے رکھے میٹرس پر چھلانگ لگائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے متاثرین کی حمایت کا مظاہرہ کیا اور فائرفائٹرز کی تعریف کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمرجنسی سروسز نے بتایا کہ اسپین کے تیسرے بڑے شہر میں ایک عمارت کی چوتھی منزل پر جمعرات کی شام آگ بھڑک اٹھی، اور دیگر اپارٹمنٹس تک پچھیل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر ویلنسیا ماریا جوز کاتالا نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا کہ 4 افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 9 تا 15 افراد لاپتا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمرجنسی سروسز کے نائب سربراہ جارج سوریز نے بتایا کہ عمارت کا اسٹرکچر گرنے کا بظاہر کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن فائر فائٹرز عمارت کے باہر سے کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا نے بتایا کہ عمارت میں 14 منزلیں ہیں اور سیکڑوں اپارٹمنٹس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویلنسیا کے لیے حکومتی نمائندے پیلار برنبے نے بتایا کہ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ کتنے لوگ لاپتا ہیں کیونکہ عمارت میں بہت سارے فلیٹس ہیں، جس میں غیر ملکی شہری رہتے ہیں، جن کے مقام کی نشاندہی کرنا زیادہ مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انشورنس انسپیکشن ایجنسی اے پی سی اے ایس کی نمائندہ ایستھر پنچاڈس نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ فائر وال کی عدم موجودگی اور عمارت میں پلاسٹک میٹریل کے استعمال کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسپین کے شہر ویلنسیا کی رہائشی عمارت میں آتشزدگی کے نتیجے میں کم ازکم 4 افراد ہلاک جبکہ 15 لاپتا ہو گئے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی ویژن فوٹیج میں عمارت میں آگ اور دھویں کے شعلے بلند ہوتے نظر آرہے ہیں، اور اندر سے چھوٹے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، عینی شاہدین نے بتایا کہ تیز ہواؤں کے نتیجے میں آگ نے آدھے گھنٹے میں پوری عمارت کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔</p>
<p>رہائشیوں اپنی بالکنیوں سے مدد کے لیے پکارتے نظر آرہے تھے، ایک فائر مین نے پہلی منزل سے نیچے رکھے میٹرس پر چھلانگ لگائی۔</p>
<p>اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے متاثرین کی حمایت کا مظاہرہ کیا اور فائرفائٹرز کی تعریف کی۔</p>
<p>ایمرجنسی سروسز نے بتایا کہ اسپین کے تیسرے بڑے شہر میں ایک عمارت کی چوتھی منزل پر جمعرات کی شام آگ بھڑک اٹھی، اور دیگر اپارٹمنٹس تک پچھیل گئی۔</p>
<p>میئر ویلنسیا ماریا جوز کاتالا نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا کہ 4 افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 9 تا 15 افراد لاپتا ہیں۔</p>
<p>ایمرجنسی سروسز کے نائب سربراہ جارج سوریز نے بتایا کہ عمارت کا اسٹرکچر گرنے کا بظاہر کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن فائر فائٹرز عمارت کے باہر سے کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>مقامی میڈیا نے بتایا کہ عمارت میں 14 منزلیں ہیں اور سیکڑوں اپارٹمنٹس ہیں۔</p>
<p>ویلنسیا کے لیے حکومتی نمائندے پیلار برنبے نے بتایا کہ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ کتنے لوگ لاپتا ہیں کیونکہ عمارت میں بہت سارے فلیٹس ہیں، جس میں غیر ملکی شہری رہتے ہیں، جن کے مقام کی نشاندہی کرنا زیادہ مشکل ہے۔</p>
<p>انشورنس انسپیکشن ایجنسی اے پی سی اے ایس کی نمائندہ ایستھر پنچاڈس نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ فائر وال کی عدم موجودگی اور عمارت میں پلاسٹک میٹریل کے استعمال کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1226158</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Feb 2024 16:06:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/02/23155709bceb684.jpg?r=155757" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/02/23155709bceb684.jpg?r=155757"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
