<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 07:22:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 09 Jun 2026 07:22:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ نے نئے الزامات کی بنیاد پر ضمانت یافتہ ملزمان کی دوبارہ گرفتاری روک دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1227384/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ایک ہی کیس میں ضمانت پر رہا ملزم کو محض تفتیشی ایجنسی کی طرف سے لگائے گئے نئے الزام کی بنیاد پر دوبارہ گرفتار نہیں کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1818924/lhc-bars-rearrest-of-bailed-suspects-on-fresh-charges"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق جسٹس علی ضیا باجوہ نے فیصلے میں کہا کہ پولیس کو پہلے سے موجودہ ضمانت کی منسوخی کا مطالبہ کیے بغیر مقدمے میں محض نئے جرائم کا اضافہ کر کے پہلے ہی ضمانت پانے والے ملزم کو گرفتار کرنے کی اجازت دینا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عدالتی احکامات کو روکنے کا غیر محدود اختیار دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج نے ریمارکس دیے کہ اِس طرز عمل کو یونہی چھوڑ دینے کی روش ایسے نظام میں ڈھل جائے گی جہاں استغاثہ کی صوابدید سے افراد کی آزادیوں کو سلب کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ پنجاب پولیس رولز 1934 کے رول 26.21 (6) کا اعادہ کرتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی پولیس افسر کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ایسے ملزم کو دوبارہ گرفتار کر سکے جسے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 497 کے تحت ضمانت پر رہا کیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1125467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب دوبارہ گرفتاری ضروری سمجھی جائے تو پولیس ضابطے کے حساب سےضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 497(5)  کے مطابق ضمانت کی منسوخی اور وارنٹ جاری کرنے کے لیے ایک مجاز عدالت میں درخواست دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس علی ضیا باجوہ نے حکومتی لا افسر کی دلیل کو مسترد کر دیا کہ رول 26.21 (6) صرف ان مقدمات سے متعلق ہے جہاں ملزم کو گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے نہ کہ گرفتاری سے پہلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ریمارکس دیے کہ لا افسر کی جانب سے اٹھایا گیا اعتراض انتہائی غلط فہمی پر مبنی ہے، جوکہ اس قاون کی اصل روح اور بنیادی مقصد کو سمجھے بغیر سطحی طور پر اس کو  پڑھنے سے پیدا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج نے بتایا کہ حکومت کی دلیل انصاف اور آزادی کے ان بنیادی اصولوں کو نظر انداز کرتی ہے جن کی حفاظت پولیس  کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس علی ضیا باجوہ نے برقرار رکھا کہ قاعدہ کا مقصد ایک ایسے ملزم کی آزادی کا تحفظ ہے جسے ضمانت کے وقتی مرحلے سے قطع نظر یعنی گرفتاری سے پہلے یا بعد میں ضمانت کا اہل سمجھا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج نے واضح کیا کہ کسی ملزم کو ضمانت کی منسوخی کے بغیر ضمانت پر دوبارہ گرفتار نہ کرنے کا اصول انصاف پسندی، پیشین گوئی اور عدالتی فیصلوں کے احترام کے وسیع تر قانونی اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دے کر کہا کہ ضمانت قبل از گرفتاری  کے مقدمات تک اس اصول کو توسیع دینا قائم شدہ قانونی اصولوں سے علیحدگی کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ قانون کی موروثی اقدار کی تصدیق کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس علی ضیا باجوہ نے پولیس کی جانب سے اضافی الزامات کی بنیاد پر ضمانت کے بعد اسی کیس میں درخواست گزار کے بیٹے کی دوبارہ گرفتاری کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت میں پیش ہوتے ہوئے، ڈپٹی انسپکٹرجنرل (آرگنائزڈ کرائم، لاہور) نے کہا کہ انہوں نے معاملے کا نوٹس لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اعتراف کیا کہ عدالت کی جانب سے دی گئی ضمانت کی منسوخی کے لیے درخواست دائر کیے بغیر ملزم کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے تھا، انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ مناسب انکوائری کی جائے گی اور مجرم پولیس اہلکاروں کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ایک ہی کیس میں ضمانت پر رہا ملزم کو محض تفتیشی ایجنسی کی طرف سے لگائے گئے نئے الزام کی بنیاد پر دوبارہ گرفتار نہیں کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1818924/lhc-bars-rearrest-of-bailed-suspects-on-fresh-charges">رپورٹ</a></strong> کے مطابق جسٹس علی ضیا باجوہ نے فیصلے میں کہا کہ پولیس کو پہلے سے موجودہ ضمانت کی منسوخی کا مطالبہ کیے بغیر مقدمے میں محض نئے جرائم کا اضافہ کر کے پہلے ہی ضمانت پانے والے ملزم کو گرفتار کرنے کی اجازت دینا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عدالتی احکامات کو روکنے کا غیر محدود اختیار دے گا۔</p>
<p>جج نے ریمارکس دیے کہ اِس طرز عمل کو یونہی چھوڑ دینے کی روش ایسے نظام میں ڈھل جائے گی جہاں استغاثہ کی صوابدید سے افراد کی آزادیوں کو سلب کیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ فیصلہ پنجاب پولیس رولز 1934 کے رول 26.21 (6) کا اعادہ کرتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی پولیس افسر کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ایسے ملزم کو دوبارہ گرفتار کر سکے جسے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 497 کے تحت ضمانت پر رہا کیا گیا ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1125467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جب دوبارہ گرفتاری ضروری سمجھی جائے تو پولیس ضابطے کے حساب سےضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 497(5)  کے مطابق ضمانت کی منسوخی اور وارنٹ جاری کرنے کے لیے ایک مجاز عدالت میں درخواست دے گی۔</p>
<p>جسٹس علی ضیا باجوہ نے حکومتی لا افسر کی دلیل کو مسترد کر دیا کہ رول 26.21 (6) صرف ان مقدمات سے متعلق ہے جہاں ملزم کو گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے نہ کہ گرفتاری سے پہلے۔</p>
<p>انہوں نے ریمارکس دیے کہ لا افسر کی جانب سے اٹھایا گیا اعتراض انتہائی غلط فہمی پر مبنی ہے، جوکہ اس قاون کی اصل روح اور بنیادی مقصد کو سمجھے بغیر سطحی طور پر اس کو  پڑھنے سے پیدا ہوا ہے۔</p>
<p>جج نے بتایا کہ حکومت کی دلیل انصاف اور آزادی کے ان بنیادی اصولوں کو نظر انداز کرتی ہے جن کی حفاظت پولیس  کرتی ہے۔</p>
<p>جسٹس علی ضیا باجوہ نے برقرار رکھا کہ قاعدہ کا مقصد ایک ایسے ملزم کی آزادی کا تحفظ ہے جسے ضمانت کے وقتی مرحلے سے قطع نظر یعنی گرفتاری سے پہلے یا بعد میں ضمانت کا اہل سمجھا گیا ہو۔</p>
<p>جج نے واضح کیا کہ کسی ملزم کو ضمانت کی منسوخی کے بغیر ضمانت پر دوبارہ گرفتار نہ کرنے کا اصول انصاف پسندی، پیشین گوئی اور عدالتی فیصلوں کے احترام کے وسیع تر قانونی اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دے کر کہا کہ ضمانت قبل از گرفتاری  کے مقدمات تک اس اصول کو توسیع دینا قائم شدہ قانونی اصولوں سے علیحدگی کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ قانون کی موروثی اقدار کی تصدیق کرتا ہے۔</p>
<p>جسٹس علی ضیا باجوہ نے پولیس کی جانب سے اضافی الزامات کی بنیاد پر ضمانت کے بعد اسی کیس میں درخواست گزار کے بیٹے کی دوبارہ گرفتاری کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔</p>
<p>عدالت میں پیش ہوتے ہوئے، ڈپٹی انسپکٹرجنرل (آرگنائزڈ کرائم، لاہور) نے کہا کہ انہوں نے معاملے کا نوٹس لیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اعتراف کیا کہ عدالت کی جانب سے دی گئی ضمانت کی منسوخی کے لیے درخواست دائر کیے بغیر ملزم کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے تھا، انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ مناسب انکوائری کی جائے گی اور مجرم پولیس اہلکاروں کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1227384</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Mar 2024 09:52:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/04093615c6f1990.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/04093615c6f1990.jpg"/>
        <media:title>ا—فائل فوٹو: ہائی کورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
