<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 22:32:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 22:32:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ: عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1227387/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ نے عورت مارچ کو رکوانے کے لیے دائر درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق جسٹس شاہد کریم نے شہری اعظم بٹ کی  درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے  درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1226909"&gt;29 فروری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر 8 مارچ کو منعقد کیے جانے والے عورت مارچ کو رکوانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی تھی، درخواست میں ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار نے مؤقف اپنایا تھا کہ عورت مارچ کے کارڈز اور بینرز اسلامی معاشرے میں قابل قبول نہیں ہیں لہٰذا لاہور ہائی کورٹ عورت مارچ کو روکنے کا حکم دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198118"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کے مطابق اگر کسی کو بنیادی حقوق نہیں مل رہے ہیں تو وہ عدالت سے رجوع کرسکتا ہے، آئین میں خواتین کو حقوق دیے گئے ہیں اور خواتین کی فلاح کے لیے بھی کام ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ریاست کو عورت مارچ کی غیر اخلاقی تشہیر روکنے کا حکم دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1740809"&gt;گزشتہ سال&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; سندھ ہائی کورٹ نے عورت مرچ پر پابندی لگانے سے متعلق درخواست کو خارج کردیا تھا ساتھ ہی درخواست گزار پر 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1741057"&gt;گزشتہ سال&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اسی نوعیت کی درخواست کو خارج کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ چند سالوں سے خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی مختلف تنظیمیں لاہور کے علاوہ، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، کراچی، حیدرآباد، سکھر، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے بڑے اور اہم شہروں میں ’عورت مارچ‘ منعقد کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی سے لے کر لاہور اور اسلام آباد سے لے کر حیدرآباد تک ہونے والے عورت مارچ میں خواتین درجنوں منفرد نعروں کے بینر اور پلے کارڈز اٹھا کر مارچ کرتی ہیں، اس موقع پر عورتوں کی جانب سے اٹھائے گئے کچھ متنازع بینرز عورت مارچ پر تنقید کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائی کورٹ نے عورت مارچ کو رکوانے کے لیے دائر درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق جسٹس شاہد کریم نے شہری اعظم بٹ کی  درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے  درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1226909">29 فروری</a></strong> کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر 8 مارچ کو منعقد کیے جانے والے عورت مارچ کو رکوانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی تھی، درخواست میں ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔</p>
<p>درخواست گزار نے مؤقف اپنایا تھا کہ عورت مارچ کے کارڈز اور بینرز اسلامی معاشرے میں قابل قبول نہیں ہیں لہٰذا لاہور ہائی کورٹ عورت مارچ کو روکنے کا حکم دے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198118"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>درخواست گزار کے مطابق اگر کسی کو بنیادی حقوق نہیں مل رہے ہیں تو وہ عدالت سے رجوع کرسکتا ہے، آئین میں خواتین کو حقوق دیے گئے ہیں اور خواتین کی فلاح کے لیے بھی کام ہو رہا ہے۔</p>
<p>درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ریاست کو عورت مارچ کی غیر اخلاقی تشہیر روکنے کا حکم دیا جائے۔</p>
<p>یاد رہے کہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1740809">گزشتہ سال</a></strong> سندھ ہائی کورٹ نے عورت مرچ پر پابندی لگانے سے متعلق درخواست کو خارج کردیا تھا ساتھ ہی درخواست گزار پر 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔</p>
<p>اس کے علاوہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1741057">گزشتہ سال</a></strong> ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اسی نوعیت کی درخواست کو خارج کردیا تھا۔</p>
<p>خیال رہے کہ چند سالوں سے خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی مختلف تنظیمیں لاہور کے علاوہ، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، کراچی، حیدرآباد، سکھر، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے بڑے اور اہم شہروں میں ’عورت مارچ‘ منعقد کر رہی ہیں۔</p>
<p>کراچی سے لے کر لاہور اور اسلام آباد سے لے کر حیدرآباد تک ہونے والے عورت مارچ میں خواتین درجنوں منفرد نعروں کے بینر اور پلے کارڈز اٹھا کر مارچ کرتی ہیں، اس موقع پر عورتوں کی جانب سے اٹھائے گئے کچھ متنازع بینرز عورت مارچ پر تنقید کا باعث بنتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1227387</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Mar 2024 10:09:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رانا بلالویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/040949101ef6902.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1000" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/040949101ef6902.jpg"/>
        <media:title>—فائل/فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
