<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 25 May 2026 05:42:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 25 May 2026 05:42:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اخبار کے رپورٹر کو ’ اغوا، ہراساں’ کرنے پر سی ٹی ڈی سندھ کے 2 اہلکار معطل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1228394/</link>
      <description>&lt;p&gt;رروزنامہ جنگ کے رپورٹر محمد ندیم کو گزشتہ روز اغوا کرنے اور ہراساں کرنے کے الزام میں سندھ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے دو اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی ٹی ڈی آصف اعجاز شیخ کے مطابق اخبار کے رپورٹر اور ایک اور شہری کو ریس کورس کے قریب واقع بس اسٹاپ سے حراست میں لے کر سی ٹی ڈی سول لائنز تھانے لایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی نے مزید کہا کہ سی ٹی ڈی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس عمران شوکت  نے معاملے کی ابتدائی انکوائری کی جس کی بنیاد پر 2 اہلکاروں زین العابدین اور کالے خان کو معطل کر دیا گیا،  جب کہ ان کے خلاف مزید انکوائری زیر التوا ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکوائر کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی آئی جی نے کہا کہ 11 مارچ کو تقریباً 3 بج کر 30 منٹ پر سی ٹی ڈی انٹیلی جنس ونگ کے 2  پولیس کانسٹیبل ان دونوں شہریوں کو مشتبہ سمجھ کر سی ٹی ڈی کمپلیکس لائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213374"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ زین العابدین نے دعویٰ کیا کہ 29 جنوری کو دفتر آتے ہوئے اس کا موبائل فون بس میں چوری کرلیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ کانسٹیبل نے اسی دن فریئر پولیس کو چوری کی رپورٹ درج کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی نے کہا کہ معطل پولیس اہلکاروں نے انکوائری افسر کو بتایا کہ 11 مارچ کی سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ پر اسی بس میں سفر کرتے ہوئے انہوں نے ’دو مشتبہ افراد‘ کو دیکھا جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ انہوں نے موبائل فون چوری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ٹی ڈی کمپلیکس میں پولیس افسر کو بتایا گیا کہ معاملہ انسداد دہشت گردی سے متعلق نہیں ہے، اس لیے ملزمان کو فریئر تھانے لے جایا جائے کیونکہ یہ کیس اصل میں وہیں رپورٹ کرایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف اعجاز شیخ نے کہا کہ تفتیش کے دوران ندیم نے وضاحت کی کہ وہ مجرم نہیں ہے اور روزنامہ جنگ کے لیے کام کرتا ہے، ڈی آئی جی نے مزید کہا کہ ندیم کے کوائف کی تصدیق کے بعد سی ٹی ڈی گارڈ روم سے جانے کی اجازت دے دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے مشتبہ شخص کو فریئر پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور شام 7 بجے اسے بھی ے چھوڑ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی آصف اعجاز شیخ نے کہا کہ متعلقہ انکوائری افسر کا معاملے سے متعلق مزید حقائق جاننے کے لیے صحافی سے مسلسل رابطہ قائم  ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رروزنامہ جنگ کے رپورٹر محمد ندیم کو گزشتہ روز اغوا کرنے اور ہراساں کرنے کے الزام میں سندھ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے دو اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔</p>
<p>ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی ٹی ڈی آصف اعجاز شیخ کے مطابق اخبار کے رپورٹر اور ایک اور شہری کو ریس کورس کے قریب واقع بس اسٹاپ سے حراست میں لے کر سی ٹی ڈی سول لائنز تھانے لایا گیا۔</p>
<p>ڈی آئی جی نے مزید کہا کہ سی ٹی ڈی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس عمران شوکت  نے معاملے کی ابتدائی انکوائری کی جس کی بنیاد پر 2 اہلکاروں زین العابدین اور کالے خان کو معطل کر دیا گیا،  جب کہ ان کے خلاف مزید انکوائری زیر التوا ہے</p>
<p>انکوائر کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی آئی جی نے کہا کہ 11 مارچ کو تقریباً 3 بج کر 30 منٹ پر سی ٹی ڈی انٹیلی جنس ونگ کے 2  پولیس کانسٹیبل ان دونوں شہریوں کو مشتبہ سمجھ کر سی ٹی ڈی کمپلیکس لائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213374"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ زین العابدین نے دعویٰ کیا کہ 29 جنوری کو دفتر آتے ہوئے اس کا موبائل فون بس میں چوری کرلیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ کانسٹیبل نے اسی دن فریئر پولیس کو چوری کی رپورٹ درج کرائی۔</p>
<p>ڈی آئی جی نے کہا کہ معطل پولیس اہلکاروں نے انکوائری افسر کو بتایا کہ 11 مارچ کی سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ پر اسی بس میں سفر کرتے ہوئے انہوں نے ’دو مشتبہ افراد‘ کو دیکھا جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ انہوں نے موبائل فون چوری کیا تھا۔</p>
<p>سی ٹی ڈی کمپلیکس میں پولیس افسر کو بتایا گیا کہ معاملہ انسداد دہشت گردی سے متعلق نہیں ہے، اس لیے ملزمان کو فریئر تھانے لے جایا جائے کیونکہ یہ کیس اصل میں وہیں رپورٹ کرایا گیا تھا۔</p>
<p>آصف اعجاز شیخ نے کہا کہ تفتیش کے دوران ندیم نے وضاحت کی کہ وہ مجرم نہیں ہے اور روزنامہ جنگ کے لیے کام کرتا ہے، ڈی آئی جی نے مزید کہا کہ ندیم کے کوائف کی تصدیق کے بعد سی ٹی ڈی گارڈ روم سے جانے کی اجازت دے دی گئی۔</p>
<p>دوسرے مشتبہ شخص کو فریئر پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور شام 7 بجے اسے بھی ے چھوڑ دیا گیا۔</p>
<p>ڈی آئی جی آصف اعجاز شیخ نے کہا کہ متعلقہ انکوائری افسر کا معاملے سے متعلق مزید حقائق جاننے کے لیے صحافی سے مسلسل رابطہ قائم  ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1228394</guid>
      <pubDate>Wed, 13 Mar 2024 00:17:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/13000822187af32.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/13000822187af32.jpg"/>
        <media:title>ڈی آئی جی نے مزید کہا کہ سی ٹی ڈی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس عمران شوکت  نے معاملے کی ابتدائی انکوائری کی—فوٹو:ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
