<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:27:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:27:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر 5 ماہ کی کم ترین سطح پر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1228570/</link>
      <description>&lt;p&gt;نئی حکومت کی تشکیل اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے مثبت اشاروں کے نتیجے میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر 5 ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا ہے، یہ شرح تبادلہ کے استحکام میں بڑھتے اعتماد کی عکاسی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1821533/dollar-falls-to-five-month-low-against-rupee"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق گزشتہ تین مہینوں کے درمیان انٹربینک مارکیٹ میں شرح تبادلہ تقریباً 280 روپے پر مستحکم رہی، دراصل امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس 20 اکتوبر  کو ڈالر کی قدر 278 روپے 80 پیسے تھے، اس کی قیمت اگلے پانچ ماہ تک اس سے زائد رہی، تاہم گزشتہ روز امریکی کرنسی کی قدر گر کر 278 روپے 77 پیسے تک آگئی، روپے کی قدر بدھ کو 29 پیسے اور گزشتہ روز (جمعرات) 2 پیسے بڑھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین مارکیٹ نے بتایا کہ نئے وزیر خزانہ کی جانب سے یہ بیان دیا گیا کہ آئی ایم ایف نے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کی تیسری قسط کے اجرا پر کوئی نئی شرط عائد نہیں کی، اس کے بعد مارکیٹ میں بہتری دیکھنے کو ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228543"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی شعبے میں ذرائع نے محمد اورنگزیب کی بطور وزیر خزانہ تعیناتی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پیش رو اسحٰق ڈار عالمی کے مالیاتی ایجنسی سے تعلقات خراب ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا انحصار واجب الادا بھاری قرضوں کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف کی سپورٹ پر ہے، جسے مالی سال 2025 میں 25 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، اس کے علاوہ مالی سالی 2024 میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے 6 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا قرضہ لینے کے لیے مذاکرات کرنے کا خواہاں ہے، ماہرین معیشت پُرامید ہیں کہ عالمی ادارہ پاکستان کی مدد کرے گا، کیونکہ اس نے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کی تقریباً تمام شرائط پوری کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیک ہولڈرز میں اس بات پر اتفاق ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنے کے لیے غیرمقبول فیصلوں پر عملدرآمد کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نئی حکومت کی تشکیل اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے مثبت اشاروں کے نتیجے میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر 5 ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا ہے، یہ شرح تبادلہ کے استحکام میں بڑھتے اعتماد کی عکاسی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1821533/dollar-falls-to-five-month-low-against-rupee"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق گزشتہ تین مہینوں کے درمیان انٹربینک مارکیٹ میں شرح تبادلہ تقریباً 280 روپے پر مستحکم رہی، دراصل امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا۔</p>
<p>گزشتہ برس 20 اکتوبر  کو ڈالر کی قدر 278 روپے 80 پیسے تھے، اس کی قیمت اگلے پانچ ماہ تک اس سے زائد رہی، تاہم گزشتہ روز امریکی کرنسی کی قدر گر کر 278 روپے 77 پیسے تک آگئی، روپے کی قدر بدھ کو 29 پیسے اور گزشتہ روز (جمعرات) 2 پیسے بڑھی۔</p>
<p>ماہرین مارکیٹ نے بتایا کہ نئے وزیر خزانہ کی جانب سے یہ بیان دیا گیا کہ آئی ایم ایف نے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کی تیسری قسط کے اجرا پر کوئی نئی شرط عائد نہیں کی، اس کے بعد مارکیٹ میں بہتری دیکھنے کو ملی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228543"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مالیاتی شعبے میں ذرائع نے محمد اورنگزیب کی بطور وزیر خزانہ تعیناتی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پیش رو اسحٰق ڈار عالمی کے مالیاتی ایجنسی سے تعلقات خراب ہو گئے تھے۔</p>
<p>پاکستان کا انحصار واجب الادا بھاری قرضوں کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف کی سپورٹ پر ہے، جسے مالی سال 2025 میں 25 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، اس کے علاوہ مالی سالی 2024 میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے 6 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اسلام آباد آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا قرضہ لینے کے لیے مذاکرات کرنے کا خواہاں ہے، ماہرین معیشت پُرامید ہیں کہ عالمی ادارہ پاکستان کی مدد کرے گا، کیونکہ اس نے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کی تقریباً تمام شرائط پوری کی ہیں۔</p>
<p>اسٹیک ہولڈرز میں اس بات پر اتفاق ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنے کے لیے غیرمقبول فیصلوں پر عملدرآمد کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1228570</guid>
      <pubDate>Fri, 15 Mar 2024 11:46:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/151013418e18f1d.jpg?r=101348" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/151013418e18f1d.jpg?r=101348"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
