<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:27:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:27:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فروری میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 19 فیصد بڑھ گئیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1228672/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات فروری میں مسلسل تیسرے مہینے بڑھ گئیں، جس سے عالمی خریداروں کی جانب سے آرڈر ملنے کی بحالی کا عندیہ ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1821830/textile-exports-rise-to-14bn"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں پاکستان ادارہ شماریات کے حوالے سے بتایا گیا کہ فروری میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 19.20 فیصد بڑھ کر ایک ارب 40 کروڑ ڈالر تک جا پہنچیں، جو گزشتہ برس کے اسی مہینے میں ایک ارب 18 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات 0.65 فیصد سکڑ کر 11 ارب 14 کروڑ ڈالر پر آگئی ہیں، جس کا حجم گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 11 ارب 21 کروڑ ڈالر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنزلی کی وجہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے سبب پیدواری لاگت کا بڑھنا اور نقدیت کے مسائل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند ماہ قبل وزارت خزانہ نے اعلان کیا تھا کہ حکومت جلد ہی ٹیکسٹائل کے برآمدکنندگان کو توانائی علاقائی مسابقتی قیمتوں پر فراہم کرے گی، اور ان کے نقدیت کے مسائل کو زیر التوا سیلز ٹیکس ریفنڈز جاری کرکے حل کیا جائے گا، تاہم اب تک اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1225430"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروری میں تیار ملبوسات کی برآمدات بالحاظ قدر 20.32 فیصد اور بالحاظ مقدار 18.74 فیصد بڑھی جبکہ نٹ ویئر کی برآمدات بڑھنے کی شرح بالحاظ قدر 21.42 فیصد اور بالحاظ مقدار 52.79  فیصد رہی، اس کے علاوہ بیڈویئر کی برآمدات میں قدر کے حساب سے 24.53 فیصد اور مقدار کے حساب سے 38.67 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تولیے کی برآمدات بالحاظ قدر 13 فیصد اور بالحاظ مقدار 23.73 فیصد بڑھی، جبکہ سوتی کپڑے کی نمو قدر میں 12.13 فیصد اور مقدار میں 58.91 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یارن کی برآمدات فروری میں 41.16 فیصد بڑھی، میڈاپس کی برآمدت میں (تولیے کے علاوہ) 24.98 فیصد اضافہ اور خیموں، کینوس اور ترپالوں کی برآمدات 44.12 فیصد گھٹ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل مشینری کی درآمدات فروری میں 23 فیصد بڑھیں، یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ توسیع یا جدیدیت کے منصوبے ترجیح رہے، ٹیکسٹائل مشینری کی نمو میں ڈھائی سال بعد اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1219666"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماہ کے دوران مصنوعی فائبر کی درآمد میں 35.44 فیصد، مصنوعی ریشم کے دھاگے میں 2.23 فیصد اور ٹیکسٹائل کی دیگر اشیا کی درآمدات میں 31.22 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ خام کپاس کی درآمدات91.18 فیصد گر گئی، تاہم پرانے ملبوسات کی درآمدات 24.56 فیصد بڑھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران کل برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد اضافے سے 20.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="تیل-کی-درآمدات" href="#تیل-کی-درآمدات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تیل کی درآمدات&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال 2024 کے ابتدائی 8 ماہ میں تیل کی درآمدات 10.93 فیصد کم ہو کر 10 ارب 57 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو ایک سال پہلے 11 ارب 87 کروڑ ڈالر رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا فروری کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں بالحاظ قدر 23.16 فیصد اور بالحاظ مقدار 15.77 فیصد کمی ہوئی، خام تیل کی درآمدات میں مقدار کے حساب سے 5.78 فیصد جبکہ قدر کے حساب سے 3.80 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1218914"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران مائع قدرتی گیس  (ایل این جی) کی درآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 2.55 فیصد اور مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمدات میں 1.82 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="موبائل-فون-کی-درآمدات-بڑھ-گئیں" href="#موبائل-فون-کی-درآمدات-بڑھ-گئیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;موبائل فون کی درآمدات بڑھ گئیں&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران موبائل فون کی درآمدات 156.43 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 14 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہو گئیں،  جس کا حجم گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 44 کروڑ 78 لاکھ ڈالر رہا تھا، یہ مجموعی مشینری کی درآمدات میں سب سے بڑے شیئر کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر موبائل کے ساز و سامان کی درآمدات 9.76 فیصد اضافے کے بعد 28 کروڑ 64 لاکھ ڈالر رہیں، ان کا حجم پچھلے مالی سال کی اسی مدت کے دوران 26 کروڑ 9 لاکھ ڈالر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات فروری میں مسلسل تیسرے مہینے بڑھ گئیں، جس سے عالمی خریداروں کی جانب سے آرڈر ملنے کی بحالی کا عندیہ ملتا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1821830/textile-exports-rise-to-14bn"><strong>رپورٹ</strong></a> میں پاکستان ادارہ شماریات کے حوالے سے بتایا گیا کہ فروری میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 19.20 فیصد بڑھ کر ایک ارب 40 کروڑ ڈالر تک جا پہنچیں، جو گزشتہ برس کے اسی مہینے میں ایک ارب 18 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔</p>
<p>تاہم، رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات 0.65 فیصد سکڑ کر 11 ارب 14 کروڑ ڈالر پر آگئی ہیں، جس کا حجم گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 11 ارب 21 کروڑ ڈالر رہا تھا۔</p>
<p>اس تنزلی کی وجہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے سبب پیدواری لاگت کا بڑھنا اور نقدیت کے مسائل ہیں۔</p>
<p>چند ماہ قبل وزارت خزانہ نے اعلان کیا تھا کہ حکومت جلد ہی ٹیکسٹائل کے برآمدکنندگان کو توانائی علاقائی مسابقتی قیمتوں پر فراہم کرے گی، اور ان کے نقدیت کے مسائل کو زیر التوا سیلز ٹیکس ریفنڈز جاری کرکے حل کیا جائے گا، تاہم اب تک اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1225430"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروری میں تیار ملبوسات کی برآمدات بالحاظ قدر 20.32 فیصد اور بالحاظ مقدار 18.74 فیصد بڑھی جبکہ نٹ ویئر کی برآمدات بڑھنے کی شرح بالحاظ قدر 21.42 فیصد اور بالحاظ مقدار 52.79  فیصد رہی، اس کے علاوہ بیڈویئر کی برآمدات میں قدر کے حساب سے 24.53 فیصد اور مقدار کے حساب سے 38.67 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>تولیے کی برآمدات بالحاظ قدر 13 فیصد اور بالحاظ مقدار 23.73 فیصد بڑھی، جبکہ سوتی کپڑے کی نمو قدر میں 12.13 فیصد اور مقدار میں 58.91 فیصد رہی۔</p>
<p>تاہم، یارن کی برآمدات فروری میں 41.16 فیصد بڑھی، میڈاپس کی برآمدت میں (تولیے کے علاوہ) 24.98 فیصد اضافہ اور خیموں، کینوس اور ترپالوں کی برآمدات 44.12 فیصد گھٹ گئی۔</p>
<p>ٹیکسٹائل مشینری کی درآمدات فروری میں 23 فیصد بڑھیں، یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ توسیع یا جدیدیت کے منصوبے ترجیح رہے، ٹیکسٹائل مشینری کی نمو میں ڈھائی سال بعد اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1219666"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس ماہ کے دوران مصنوعی فائبر کی درآمد میں 35.44 فیصد، مصنوعی ریشم کے دھاگے میں 2.23 فیصد اور ٹیکسٹائل کی دیگر اشیا کی درآمدات میں 31.22 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ خام کپاس کی درآمدات91.18 فیصد گر گئی، تاہم پرانے ملبوسات کی درآمدات 24.56 فیصد بڑھیں۔</p>
<p>مالی سال 2024 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران کل برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد اضافے سے 20.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔</p>
<h1><a id="تیل-کی-درآمدات" href="#تیل-کی-درآمدات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تیل کی درآمدات</h1>
<p>پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال 2024 کے ابتدائی 8 ماہ میں تیل کی درآمدات 10.93 فیصد کم ہو کر 10 ارب 57 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو ایک سال پہلے 11 ارب 87 کروڑ ڈالر رہی تھیں۔</p>
<p>جولائی تا فروری کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں بالحاظ قدر 23.16 فیصد اور بالحاظ مقدار 15.77 فیصد کمی ہوئی، خام تیل کی درآمدات میں مقدار کے حساب سے 5.78 فیصد جبکہ قدر کے حساب سے 3.80 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1218914"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مالی سال 2024 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران مائع قدرتی گیس  (ایل این جی) کی درآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 2.55 فیصد اور مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمدات میں 1.82 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<h1><a id="موبائل-فون-کی-درآمدات-بڑھ-گئیں" href="#موبائل-فون-کی-درآمدات-بڑھ-گئیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>موبائل فون کی درآمدات بڑھ گئیں</h1>
<p>مالی سال 2024 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران موبائل فون کی درآمدات 156.43 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 14 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہو گئیں،  جس کا حجم گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 44 کروڑ 78 لاکھ ڈالر رہا تھا، یہ مجموعی مشینری کی درآمدات میں سب سے بڑے شیئر کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>دیگر موبائل کے ساز و سامان کی درآمدات 9.76 فیصد اضافے کے بعد 28 کروڑ 64 لاکھ ڈالر رہیں، ان کا حجم پچھلے مالی سال کی اسی مدت کے دوران 26 کروڑ 9 لاکھ ڈالر رہا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1228672</guid>
      <pubDate>Sat, 16 Mar 2024 10:36:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/1610344753917aa.png?r=103535" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/1610344753917aa.png?r=103535"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
