<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 02:06:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 02:06:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسیچنج میں تیزی کا رجحان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1228820/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے  پہلے کاروباری روز تیزی کا رجحان ہے، آج بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 322 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایکس ویب سائٹ کے  مطابق تقریباً 10 بج کر 51 منٹ پر کے ایس ای-100 انڈیکس 322 پوائنٹس یا 0.5 فیصد بڑھ کر 65 ہزار 138 پر پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، کاروبار کا اختتام 74 پوائنٹس یا 0.11 فیصد اضافے کے بعد 64 ہزار 890 پر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 15 مارچ کو ہفتے کے آخری کاروباری روز  انڈیکس 247 پوائنٹس کمی کے بعد 64 ہزار 816 پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ایک روز قبل بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1015 پوائنٹس اضافے کے بعد 65 ہزار کی نفسیاتی حد بحال ہو گئی  تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228494"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیس سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ یوسف ایم فاروق نے تیزی کا رجحان کو سیاری اور معاشی محاذ پر واضح ہوتی صورتحال کو قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 مارچ کو کے ایس ای-100 انڈیکس 753 پوائنٹس یا 1.16 فیصد کمی کے بعد 64 ہزار 48 پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثیر ریسرچ کے ڈائریکٹر اویس اشرف نے کمی کے رجحان کو سرمایہ کاروں کے آئی ایم ایف مذاکرات کے بارے میں محتاط رویے سے جوڑا تھا، جو نئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر قیادت شروع ہو رہے ہیں، ’جنہوں نے اس سال کو ایک مشکل دور قرار دیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا تھا کہ رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر مہنگائی کا دباؤ بھی بڑھا ہے، جو حساس قیمت انڈیکس سے دیکھا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ زری پالیسی اجلاس میں شرح سود کی کمی کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے  پہلے کاروباری روز تیزی کا رجحان ہے، آج بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 322 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>پی ایس ایکس ویب سائٹ کے  مطابق تقریباً 10 بج کر 51 منٹ پر کے ایس ای-100 انڈیکس 322 پوائنٹس یا 0.5 فیصد بڑھ کر 65 ہزار 138 پر پہنچ گیا تھا۔</p>
<p>تاہم، کاروبار کا اختتام 74 پوائنٹس یا 0.11 فیصد اضافے کے بعد 64 ہزار 890 پر ہوا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 15 مارچ کو ہفتے کے آخری کاروباری روز  انڈیکس 247 پوائنٹس کمی کے بعد 64 ہزار 816 پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>اس سے ایک روز قبل بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1015 پوائنٹس اضافے کے بعد 65 ہزار کی نفسیاتی حد بحال ہو گئی  تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228494"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چیس سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ یوسف ایم فاروق نے تیزی کا رجحان کو سیاری اور معاشی محاذ پر واضح ہوتی صورتحال کو قرار دیا تھا۔</p>
<p>14 مارچ کو کے ایس ای-100 انڈیکس 753 پوائنٹس یا 1.16 فیصد کمی کے بعد 64 ہزار 48 پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>اکثیر ریسرچ کے ڈائریکٹر اویس اشرف نے کمی کے رجحان کو سرمایہ کاروں کے آئی ایم ایف مذاکرات کے بارے میں محتاط رویے سے جوڑا تھا، جو نئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر قیادت شروع ہو رہے ہیں، ’جنہوں نے اس سال کو ایک مشکل دور قرار دیا‘۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا تھا کہ رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر مہنگائی کا دباؤ بھی بڑھا ہے، جو حساس قیمت انڈیکس سے دیکھا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ زری پالیسی اجلاس میں شرح سود کی کمی کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1228820</guid>
      <pubDate>Mon, 18 Mar 2024 16:02:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/18111614ce5df18.gif?r=111756" type="image/gif" medium="image" height="190" width="320">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/18111614ce5df18.gif?r=111756"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
