<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Africa</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 00:57:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 00:57:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چاڈ: 2 برادریوں کے درمیان تصادم میں 42 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1229147/</link>
      <description>&lt;p&gt;مشرقی چاڈ میں دو برادریوں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 42 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی خبر کے مطابق حکام نے اکثر زمینی تنازعات کا شکار رہنے والے وسیع افریقی ملک کے صحرائی علاقے میں ہلاکتوں کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے  عوامی سلامتی یہ نہیں بتایا کہ تصادم میں کون ملوث تھا اوریہ کتنی دیر تک جاری رہا لیکن اس  علاقے میں کسانوں اور خانہ بدوشوں یا دیگر گروہوں کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ تازہ ترین جھڑہ کے بعد جائے وقوع سے 175 افراد کو گرفتار کیا گیا، جہاں گاؤں کے بڑے حصے کو مسلح افراد نے نذر آتش کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1158373"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت عوامی سلامتی نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ اس مہلک تنازع میں اب تک 42 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاڈ  کی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ لڑائی کئی  روز  تک جاری رہی جب کہ  بعض رپورٹس میں کہا گیا کہ یہ اتوار کو شروع ہوئی تاہم حکام کی جانب سے ان رپورٹس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پبلک سیکیورٹی کے وزیر نے اے ایف پی  کو ارسال ٹیلی فونک پیغام میں کہا کہ صورتحال قابو میں ہے اور میں مختلف فریقوں کے درمیان مفاہمت کی کوشش کر رہا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مزید نے کہا کہ وہ اس مقام پر موجود تھے،  وہ حکومتی اور فوجی وفد کی سربراہی کر رہے تھے جس کا مقصد واقعے پر مکمل روشنی ڈالنا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مشرقی چاڈ میں دو برادریوں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 42 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی خبر کے مطابق حکام نے اکثر زمینی تنازعات کا شکار رہنے والے وسیع افریقی ملک کے صحرائی علاقے میں ہلاکتوں کی تصدیق کی۔</p>
<p>وزارت نے  عوامی سلامتی یہ نہیں بتایا کہ تصادم میں کون ملوث تھا اوریہ کتنی دیر تک جاری رہا لیکن اس  علاقے میں کسانوں اور خانہ بدوشوں یا دیگر گروہوں کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں ۔</p>
<p>وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ تازہ ترین جھڑہ کے بعد جائے وقوع سے 175 افراد کو گرفتار کیا گیا، جہاں گاؤں کے بڑے حصے کو مسلح افراد نے نذر آتش کردیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1158373"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزارت عوامی سلامتی نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ اس مہلک تنازع میں اب تک 42 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>چاڈ  کی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ لڑائی کئی  روز  تک جاری رہی جب کہ  بعض رپورٹس میں کہا گیا کہ یہ اتوار کو شروع ہوئی تاہم حکام کی جانب سے ان رپورٹس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔</p>
<p>پبلک سیکیورٹی کے وزیر نے اے ایف پی  کو ارسال ٹیلی فونک پیغام میں کہا کہ صورتحال قابو میں ہے اور میں مختلف فریقوں کے درمیان مفاہمت کی کوشش کر رہا ہوں۔</p>
<p>وزیر مزید نے کہا کہ وہ اس مقام پر موجود تھے،  وہ حکومتی اور فوجی وفد کی سربراہی کر رہے تھے جس کا مقصد واقعے پر مکمل روشنی ڈالنا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1229147</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Mar 2024 23:02:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/2123004977fed75.jpg?r=230243" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/2123004977fed75.jpg?r=230243"/>
        <media:title>—فوٹو:ڈی ڈبلیو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
