<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 13:06:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 13:06:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہفتہ وار مہنگائی معمولی کمی کے بعد 29 فیصد ریکارڈ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1229192/</link>
      <description>&lt;p&gt;حساس قیمت انڈیکس سے پیمائش کردہ قلیل مدتی مہنگائی کی شرح 21 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر معمولی کمی کے بعد 29.06 فیصد پر آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.pbs.gov.pk/sites/default/files/price_statistics/weekly_spi/SPI%20Executive%20Sumary%26SPI%20Report_21032024.pdf"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; قیل مدتی مہنگائی میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں بھی 1.13 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حساس قیمت انڈیکس میں 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے 51 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، زیر جائزہ مدت کے دوران 9 اشیا کے نرخوں میں اضافہ، 17 کی قیمتوں میں کمی جبکہ 25 مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، ان میں گیس چارجز برائے پہلی سہ ماہی (570 فیصد)، پسی مرچ (86.05 فیصد)، مردانہ چپل (58.05 فیصد)، لہسن (57.41 فیصد)، پیاز (54.65 فیصد)، مردانہ سینڈل (53.37 فیصد)، گڑ (39.86 فیصد)، چینی (35.01 فیصد)، نمک (33.29 فیصد)، انرجی سیور بلب (29.83 فیصد) اور دال ماش (27.31 فیصد) شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228605"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن اشیا کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، ان میں ایل پی جی (1.49 فیصد)، گائے کا گوشت (0.53 فیصد)، باسمتی چاول ٹوٹا (0.48 فیصد)، بکرے کا گوشت (0.42 فیصد)، سرسوں کا تیل (0.40 فیصد) چاول ایری 6/9 (0.25 فیصد) اور خشک دودھ (0.14 فیصد) شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیر جائزہ مدت کے دوران ہفتہ وار بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں تنزلی ہوئی، ان میں ٹماٹر (36.73 فیصد)، پیاز (19.58 فیصد)، آلو (4.02 فیصد)، لہسن (2.87 فیصد)، دال ماش (1.25 فیصد)، گندم کا آٹا (1.02 فیصد)، چینی (0.95 فیصد)، دال مسور (0.86 فیصد) اور ڈیزل (0.60 فیصد) شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے قلیل مدتی مہنگائی 14 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 32.89 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اسی طرح مہنگائی میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں بھی 1.35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حساس قیمت انڈیکس سے پیمائش کردہ قلیل مدتی مہنگائی کی شرح 21 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر معمولی کمی کے بعد 29.06 فیصد پر آگئی۔</p>
<p>پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.pbs.gov.pk/sites/default/files/price_statistics/weekly_spi/SPI%20Executive%20Sumary%26SPI%20Report_21032024.pdf"><strong>مطابق</strong></a> قیل مدتی مہنگائی میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں بھی 1.13 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>حساس قیمت انڈیکس میں 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے 51 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، زیر جائزہ مدت کے دوران 9 اشیا کے نرخوں میں اضافہ، 17 کی قیمتوں میں کمی جبکہ 25 مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
<p>سالانہ بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، ان میں گیس چارجز برائے پہلی سہ ماہی (570 فیصد)، پسی مرچ (86.05 فیصد)، مردانہ چپل (58.05 فیصد)، لہسن (57.41 فیصد)، پیاز (54.65 فیصد)، مردانہ سینڈل (53.37 فیصد)، گڑ (39.86 فیصد)، چینی (35.01 فیصد)، نمک (33.29 فیصد)، انرجی سیور بلب (29.83 فیصد) اور دال ماش (27.31 فیصد) شامل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228605"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جن اشیا کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، ان میں ایل پی جی (1.49 فیصد)، گائے کا گوشت (0.53 فیصد)، باسمتی چاول ٹوٹا (0.48 فیصد)، بکرے کا گوشت (0.42 فیصد)، سرسوں کا تیل (0.40 فیصد) چاول ایری 6/9 (0.25 فیصد) اور خشک دودھ (0.14 فیصد) شامل ہے۔</p>
<p>زیر جائزہ مدت کے دوران ہفتہ وار بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں تنزلی ہوئی، ان میں ٹماٹر (36.73 فیصد)، پیاز (19.58 فیصد)، آلو (4.02 فیصد)، لہسن (2.87 فیصد)، دال ماش (1.25 فیصد)، گندم کا آٹا (1.02 فیصد)، چینی (0.95 فیصد)، دال مسور (0.86 فیصد) اور ڈیزل (0.60 فیصد) شامل ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے قلیل مدتی مہنگائی 14 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 32.89 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اسی طرح مہنگائی میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں بھی 1.35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1229192</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Mar 2024 12:43:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/22123639d4c1280.png?r=123827" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/22123639d4c1280.png?r=123827"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
