<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 10:58:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 10:58:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنی گرفتاری چیلنج کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1229227/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی دارالحکومت دہلی کے وزیر اعلی  وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنی گرفتاری عدالت میں چیلنج کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی خبر کے مطابق بھارتی اپوزیشن کے ایک سرکردہ سیاست دان اپنی گرفتاری کا مقدمہ لڑنے کے لیے عدالت میں پیش ہوئے جب کہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اروند کیجریوال کی گرفتاری کا  مقصد آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کو چیلنج کرنے والے سیاستدانوں کو سائیڈ لائن کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دارالحکومت دہلی کے وزیر اعلی اور انتخابات میں نریندر مودی کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے بنائے گئے اپوزیشن اتحاد کے ایک اہم رہنما اروند کیجریوال کو بدعنوانی کی طویل عرصے سے جاری تحقیقات کے سلسلے میں گزشتہ روز حراست میں لے لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ان کئی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہیں مجرمانہ تحقیقات کا سامنا ہے جب کہ ان کے ساتھی کیجریوال کی گرفتاری کو حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سیاسی سازش قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229142"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اروند کیجریوال کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا، انہیں بھارت کی مالیاتی جرائم کی اہم ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے افسران  نے کیس کی کارروائی کے دوران ضمانت کی درخواست دائر کرنے کے لیے انہیں عدالت میں پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی قانونی ٹیم نے ان کی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی کوشش کی لیکن کیجریوال کے وکیل شادان فراست نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ نچلی عدالت میں ان کے ریمانڈ کو چیلنج کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیجریوال کی جماعت عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سیکڑوں حامیوں نے ان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اروند کیجروال پر الزام ہے کہ دلی حکومت نے 2022 میں شراب کے حوالے سے پالیسی لاگو کی جس سے پرائیویٹ ریٹیلرز کو بے انتہا فائدہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ بعد میں حکومت اپنی اس پالیسی سے دستبردار ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ٹی وی کے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے الزام لگایا ہے کہ اروند کیجروال نے بھارت راشٹرا سمیتھی کی رہنما کے کویتا کے ساتھ ساتھ عام آدمی آدمی پارٹی کے رہنماؤں منیش سسودیا اور سنجے سنگھ کے ہمراہ شراب کے حوالے سے پالیسی کی سازش تیار کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الزامات میں دعویٰ کیا گیا کہ اس پالیسی سے جنوبی بھارت کی شراب کی کمپنیاں چلانے والوں کو فائدہ پہنچا اور ان لوگوں نے اس پالیسی کے بدلے عام آدمی پارٹی کو 100کروڑ روپے دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق کچھ ملزمان اور گواہوں نے بیانات میں اروند کیجروال کا نام لیا ہے اور اس چیز کا ریمانڈ اور چارج شیٹ میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی دارالحکومت دہلی کے وزیر اعلی  وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنی گرفتاری عدالت میں چیلنج کردی۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی خبر کے مطابق بھارتی اپوزیشن کے ایک سرکردہ سیاست دان اپنی گرفتاری کا مقدمہ لڑنے کے لیے عدالت میں پیش ہوئے جب کہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اروند کیجریوال کی گرفتاری کا  مقصد آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کو چیلنج کرنے والے سیاستدانوں کو سائیڈ لائن کرنا ہے۔</p>
<p>دارالحکومت دہلی کے وزیر اعلی اور انتخابات میں نریندر مودی کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے بنائے گئے اپوزیشن اتحاد کے ایک اہم رہنما اروند کیجریوال کو بدعنوانی کی طویل عرصے سے جاری تحقیقات کے سلسلے میں گزشتہ روز حراست میں لے لیا گیا تھا۔</p>
<p>وہ ان کئی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہیں مجرمانہ تحقیقات کا سامنا ہے جب کہ ان کے ساتھی کیجریوال کی گرفتاری کو حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سیاسی سازش قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229142"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اروند کیجریوال کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا، انہیں بھارت کی مالیاتی جرائم کی اہم ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے افسران  نے کیس کی کارروائی کے دوران ضمانت کی درخواست دائر کرنے کے لیے انہیں عدالت میں پیش کیا۔</p>
<p>ان کی قانونی ٹیم نے ان کی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی کوشش کی لیکن کیجریوال کے وکیل شادان فراست نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ نچلی عدالت میں ان کے ریمانڈ کو چیلنج کریں گے۔</p>
<p>کیجریوال کی جماعت عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سیکڑوں حامیوں نے ان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا۔</p>
<p>اروند کیجروال پر الزام ہے کہ دلی حکومت نے 2022 میں شراب کے حوالے سے پالیسی لاگو کی جس سے پرائیویٹ ریٹیلرز کو بے انتہا فائدہ ہوا۔</p>
<p>واضح رہے کہ بعد میں حکومت اپنی اس پالیسی سے دستبردار ہو گئی تھی۔</p>
<p>این ڈی ٹی وی کے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے الزام لگایا ہے کہ اروند کیجروال نے بھارت راشٹرا سمیتھی کی رہنما کے کویتا کے ساتھ ساتھ عام آدمی آدمی پارٹی کے رہنماؤں منیش سسودیا اور سنجے سنگھ کے ہمراہ شراب کے حوالے سے پالیسی کی سازش تیار کی۔</p>
<p>الزامات میں دعویٰ کیا گیا کہ اس پالیسی سے جنوبی بھارت کی شراب کی کمپنیاں چلانے والوں کو فائدہ پہنچا اور ان لوگوں نے اس پالیسی کے بدلے عام آدمی پارٹی کو 100کروڑ روپے دیے۔</p>
<p>انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق کچھ ملزمان اور گواہوں نے بیانات میں اروند کیجروال کا نام لیا ہے اور اس چیز کا ریمانڈ اور چارج شیٹ میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1229227</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Mar 2024 19:51:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/221940430c04d63.jpg?r=194312" type="image/jpeg" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/221940430c04d63.jpg?r=194312"/>
        <media:title>اروند کیجریوال ان کئی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہیں مجرمانہ تحقیقات کا سامنا ہے—فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
