<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 27 May 2026 00:36:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 27 May 2026 00:36:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشیا کے ساحل پر کشتی ڈوب گئی، 70 سے زائد روہنگیا شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1229230/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر)  نے کہا ہے کہ انڈونیشیا کے صوبہ آچے کے ساحل پر کشتی الٹنے کے بعد 70 سے زائد روہنگیا شہری ’ہلاک یا لاپتا‘ ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز ’ کی خبر کے مطابق یو این ایچ سی آر نے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے ساتھ مشترکہ بیان میں کہا کہ ہلاکتوں کی تصدیق ہونے کی صورت میں یہ رواں سال اب تک کا سب سے بڑا جانی نقصان ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ الرٹ بدھ کو اس وقت جاری کیا گیا جب انڈونیشین ماہی گیروں نے 6 تارکین وطن کو ریسکیو کیا، صوبہ آچے میں ماہی گیری کی ایک کمیونٹی نے بتایا کہ ریسکیو افراد تیز لہروں کی وجہ سے ڈوبنے والی کشتی کے عرشے پر کھڑے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی برسوں سے روہنگیا شہری بدھ مت کی اکثریت والے ملک میانمار کو چھوڑ رہے ہیں جہاں انہیں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی سمجھا جاتا ہے،انہیں  شہریت دینے سے انکار کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208301"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ایچ سی آر کے اعداد و شکمار کے مطابق  گزشتہ سال 2ہزار 300 سے زیادہ روہنگیا انڈونیشیا پہنچے جب کہ یہ تعداد  گزشتہ چار برسوں میں آنے والے شہریوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ایچ سی آر نے جنوری میں کہا کہ 2023 میں میانمار یا بنگلہ دیش سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران کم از کم 569 روہنگیا ہلاک یا لاپتا ہوئے جب کہ یہ تعداد 2014 کے بعد سب سے زیادہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ایچ سی آر ایشیا کے ترجمان بابر بلوچ نے رائٹرز کو بتایا کہ ڈوبنے والی اس پر 151 افراد سوار تھے جن میں سے تقریباً 75 کو مقامی حکام نے ریسکیو کرلیا  جب کہ بقیہ کے بارے میں خدشہ ہے وہ ہلاک یا لاپتا ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آچے میں یو این ایچ سی آر کے پروٹیکشن ایسوسی ایٹ فیصل رحمٰن نے رائٹرز کو بتایا کہ زندہ بچ جانے والے روہنگیا ٹھیک ہیں اور  مغربی آچے میں واقع ریڈ کراس کی عمارت میں مقیم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آچے میں امیگریشن ایجنسی نے معاملے پر رد عمل دینے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر)  نے کہا ہے کہ انڈونیشیا کے صوبہ آچے کے ساحل پر کشتی الٹنے کے بعد 70 سے زائد روہنگیا شہری ’ہلاک یا لاپتا‘ ہو گئے ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز ’ کی خبر کے مطابق یو این ایچ سی آر نے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے ساتھ مشترکہ بیان میں کہا کہ ہلاکتوں کی تصدیق ہونے کی صورت میں یہ رواں سال اب تک کا سب سے بڑا جانی نقصان ہو گا۔</p>
<p>یہ الرٹ بدھ کو اس وقت جاری کیا گیا جب انڈونیشین ماہی گیروں نے 6 تارکین وطن کو ریسکیو کیا، صوبہ آچے میں ماہی گیری کی ایک کمیونٹی نے بتایا کہ ریسکیو افراد تیز لہروں کی وجہ سے ڈوبنے والی کشتی کے عرشے پر کھڑے تھے۔</p>
<p>کئی برسوں سے روہنگیا شہری بدھ مت کی اکثریت والے ملک میانمار کو چھوڑ رہے ہیں جہاں انہیں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی سمجھا جاتا ہے،انہیں  شہریت دینے سے انکار کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208301"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یو این ایچ سی آر کے اعداد و شکمار کے مطابق  گزشتہ سال 2ہزار 300 سے زیادہ روہنگیا انڈونیشیا پہنچے جب کہ یہ تعداد  گزشتہ چار برسوں میں آنے والے شہریوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔</p>
<p>یو این ایچ سی آر نے جنوری میں کہا کہ 2023 میں میانمار یا بنگلہ دیش سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران کم از کم 569 روہنگیا ہلاک یا لاپتا ہوئے جب کہ یہ تعداد 2014 کے بعد سب سے زیادہ تھی۔</p>
<p>یو این ایچ سی آر ایشیا کے ترجمان بابر بلوچ نے رائٹرز کو بتایا کہ ڈوبنے والی اس پر 151 افراد سوار تھے جن میں سے تقریباً 75 کو مقامی حکام نے ریسکیو کرلیا  جب کہ بقیہ کے بارے میں خدشہ ہے وہ ہلاک یا لاپتا ہوگئے ہیں۔</p>
<p>آچے میں یو این ایچ سی آر کے پروٹیکشن ایسوسی ایٹ فیصل رحمٰن نے رائٹرز کو بتایا کہ زندہ بچ جانے والے روہنگیا ٹھیک ہیں اور  مغربی آچے میں واقع ریڈ کراس کی عمارت میں مقیم ہیں۔</p>
<p>آچے میں امیگریشن ایجنسی نے معاملے پر رد عمل دینے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1229230</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Mar 2024 20:41:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/22203247613d1e6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/22203247613d1e6.jpg"/>
        <media:title>ہلاکتوں کی تصدیق ہونے کی صورت میں یہ رواں سال اب تک کا سب سے بڑا جانی نقصان ہو گا—فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
