<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 08:09:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 08:09:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’حالیہ کارروائی کے باوجود کابل میں طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات میں تعطل نہیں‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1229275/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی نے کہا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائی کے باوجود کابل میں طالبان انتظامیہ کے ساتھ تعلقات میں تعطل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1823229/envoy-says-no-pause-in-ties-with-kabul-despite-strikes"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق افغان ناظم الامور سردار احمد شکیب کے ساتھ ملاقات کو سفیر آصف درانی نے طالبان حکام کے ساتھ رابطوں کا تسلسل قرار دیا، جو افغانستان میں گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں کے بعد کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;21 مارچ کو ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان سے حالیہ کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے 18 مارچ کو افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنایا تھا، گزشتہ ہفتے افغانستان میں دہشتگرد گروہ کے خلاف کاروائی کی، ان حملوں کا نشانہ حافظ گل بہادر گروپ کے دہشتگرد تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممتاز بلوچ نے واضح کیا تھا کہ افغانستان کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں، پاکستان کی جانب سے حملوں میں افغانستان کے سویلین آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229103"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سردار احمد  شکیب کے ساتھ بات چیت کے دوران  آصف درانی نے بنیادی توجہ دہشت گردی سے نمٹنے اور ان چیلنجوں کو کم کرنے کے لیے دو طرفہ تعاون کی تلاش پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے قندھار میں دہشت گرد حملے کی مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے، دونوں ممالک کو مل کر دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی نے کہا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائی کے باوجود کابل میں طالبان انتظامیہ کے ساتھ تعلقات میں تعطل نہیں ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1823229/envoy-says-no-pause-in-ties-with-kabul-despite-strikes"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق افغان ناظم الامور سردار احمد شکیب کے ساتھ ملاقات کو سفیر آصف درانی نے طالبان حکام کے ساتھ رابطوں کا تسلسل قرار دیا، جو افغانستان میں گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں کے بعد کی گئی۔</p>
<p>21 مارچ کو ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان سے حالیہ کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے 18 مارچ کو افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنایا تھا، گزشتہ ہفتے افغانستان میں دہشتگرد گروہ کے خلاف کاروائی کی، ان حملوں کا نشانہ حافظ گل بہادر گروپ کے دہشتگرد تھے۔</p>
<p>ممتاز بلوچ نے واضح کیا تھا کہ افغانستان کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں، پاکستان کی جانب سے حملوں میں افغانستان کے سویلین آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229103"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سردار احمد  شکیب کے ساتھ بات چیت کے دوران  آصف درانی نے بنیادی توجہ دہشت گردی سے نمٹنے اور ان چیلنجوں کو کم کرنے کے لیے دو طرفہ تعاون کی تلاش پر روشنی ڈالی۔</p>
<p>دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے قندھار میں دہشت گرد حملے کی مذمت کی۔</p>
<p>ترجمان نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے، دونوں ممالک کو مل کر دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1229275</guid>
      <pubDate>Sat, 23 Mar 2024 11:01:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (باقر سجاد سید)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/23105623eef1103.png?r=105818" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/23105623eef1103.png?r=105818"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
