<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 04:16:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 04:16:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برازیل: طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ، ریسکیو کی کوششیں جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1229395/</link>
      <description>&lt;p&gt;برازیل کے جنوب مشرق  پہاڑی  علاقے میں لوگوں کی مدد کے لیے کشتیوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعے ریسکیو اہلکاروں کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ برازیل کی  دو ریاستوں میں   طوفان اور شدید بارشوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعدادکم از کم 25 ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ہفتے کے آخر میں آنے والے سیلاب نے ریو ڈی جنیرو اور ایسپریتو سانتو کی ریاستوں کو  بری طرح متاثر کیا جہاں حکام نے سیلاب کے باعث  صورتحال کو ہنگامی قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو ایسپریتو سانتو میں مرنے والوں کی تعداد 4 سے بڑھ کر 17 ہو گئی، جہاں  پانی کی سطح بارش کی عارضی طور پر کم ہونے کے باعث نیچے آگئی جس سے ریسکیو کارکنان کو آگے بڑھنے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ متاثرہ میونسپلٹی میموسو دو سول تھی، جو ایسپریتو سانتو   کے جنوب میں تقریباً 25 ہزار باشندوں پر مشتمل ایک قصبہ ہے، جہاں سیلاب سے کم از کم 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229349"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلابی پانی کے کم ہوتے ہی تباہ شدہ گدوں، کرسیوں اور گھریلو سامان سے گلیوں میں ملبے کے پہاڑ بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;37 سالہ دوکاندار مشیلی اولیویرا نے مقامی نیوز سائٹ  اے گیزیٹا کو بتایا کہ میں نے ایسا سیلاب کبھی نہیں دیکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دکاندار نے اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے کہا  وہ زندہ بچ جانے پر شکر گزار ہیں، حالانکہ ان کی آمدنی کا ذریعہ، جوتوں کی دکان، تباہ ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپیکا کی میونسپلٹی میں بھی  2 افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست کے گورنر ریناٹو کاساگرینڈ نے اسے ہنگامی صورتحال قرار دیا جبکہ اتوار کو پانی کی گرتی ہوئی سطح نے امدادی کارکنوں کو پہلے سے ناقابل رسائی علاقوں میں جانے کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی حکام نے بتایا کہ کم از کم 5 ہزار 200  افراد کو ان کے گھروں سے نکالا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا تھا کہ پڑوسی ریاست ریو ڈی جنیرو میں  کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر لوگوں کی اموات  لینڈ سلائیڈنگ سے ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیوک ڈی کیکسیاس سے تعلق رکھنے والے 52 سالہ نیکیلیو راموس نے اے ایف پی کو بتایا کہ  ہر سال کم از کم ایک بار ایسا سیلاب آتا ہے لیکن یہ اس سال کا تیسرا سیلاب ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برازیل کے جنوب مشرق  پہاڑی  علاقے میں لوگوں کی مدد کے لیے کشتیوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعے ریسکیو اہلکاروں کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ برازیل کی  دو ریاستوں میں   طوفان اور شدید بارشوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعدادکم از کم 25 ہوگئی ہے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ہفتے کے آخر میں آنے والے سیلاب نے ریو ڈی جنیرو اور ایسپریتو سانتو کی ریاستوں کو  بری طرح متاثر کیا جہاں حکام نے سیلاب کے باعث  صورتحال کو ہنگامی قرار دے دیا۔</p>
<p>اتوار کو ایسپریتو سانتو میں مرنے والوں کی تعداد 4 سے بڑھ کر 17 ہو گئی، جہاں  پانی کی سطح بارش کی عارضی طور پر کم ہونے کے باعث نیچے آگئی جس سے ریسکیو کارکنان کو آگے بڑھنے میں مدد ملی۔</p>
<p>سب سے زیادہ متاثرہ میونسپلٹی میموسو دو سول تھی، جو ایسپریتو سانتو   کے جنوب میں تقریباً 25 ہزار باشندوں پر مشتمل ایک قصبہ ہے، جہاں سیلاب سے کم از کم 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229349"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سیلابی پانی کے کم ہوتے ہی تباہ شدہ گدوں، کرسیوں اور گھریلو سامان سے گلیوں میں ملبے کے پہاڑ بن گئے ہیں۔</p>
<p>37 سالہ دوکاندار مشیلی اولیویرا نے مقامی نیوز سائٹ  اے گیزیٹا کو بتایا کہ میں نے ایسا سیلاب کبھی نہیں دیکھا ہے۔</p>
<p>دکاندار نے اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے کہا  وہ زندہ بچ جانے پر شکر گزار ہیں، حالانکہ ان کی آمدنی کا ذریعہ، جوتوں کی دکان، تباہ ہو گئی ہے۔</p>
<p>اپیکا کی میونسپلٹی میں بھی  2 افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔</p>
<p>ریاست کے گورنر ریناٹو کاساگرینڈ نے اسے ہنگامی صورتحال قرار دیا جبکہ اتوار کو پانی کی گرتی ہوئی سطح نے امدادی کارکنوں کو پہلے سے ناقابل رسائی علاقوں میں جانے کی اجازت دے دی۔</p>
<p>ریاستی حکام نے بتایا کہ کم از کم 5 ہزار 200  افراد کو ان کے گھروں سے نکالا جاچکا ہے۔</p>
<p>حکام کا کہنا تھا کہ پڑوسی ریاست ریو ڈی جنیرو میں  کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر لوگوں کی اموات  لینڈ سلائیڈنگ سے ہوئی۔</p>
<p>ڈیوک ڈی کیکسیاس سے تعلق رکھنے والے 52 سالہ نیکیلیو راموس نے اے ایف پی کو بتایا کہ  ہر سال کم از کم ایک بار ایسا سیلاب آتا ہے لیکن یہ اس سال کا تیسرا سیلاب ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1229395</guid>
      <pubDate>Mon, 25 Mar 2024 10:27:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/2510183175dd6a9.png" type="image/png" medium="image" height="379" width="632">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/2510183175dd6a9.png"/>
        <media:title>فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
