<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 04:00:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 04:00:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت عام انتخابات، گرفتار اپوزیشن لیڈر اروند کیجریوال کا جیل سے الیکشن لڑنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1229575/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کے دارالحکومت دہلی کے وزیر اعلیٰ اور نامور اپوزیشن لیڈر اروند کیجریوال نے جیل سے ہی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اور آئندہ انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے بنائے گئے اپوزیشن اتحاد کے ایک اہم رہنما ہیں جنہیں 21 مارچ کو طویل عرصے سے جاری بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی کے وزیر تعلیم اور کجریوال کی عام آدمی پارٹی (کامن مین پارٹی، اے اے پی) کی رکن آتشی مارلینا سنگھ نے کہا کہ ’قانونی اور آئینی دفعات‘ انہیں سلاخوں کے پیچھے رہتے ہوئے اپنے عہدے پر رہنے کی اجازت دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ بات واضح ہے کہ اروند کیجریوال دہلی کے وزیر اعلیٰ رہیں گے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228743"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر وہ بغیر کسی مقدمے یا سزا کے مستعفی ہو جاتے ہیں، تو اس سے اپوزیشن کے دیگر وزرائے اعلیٰ کو ہٹانے کا راستہ کھل جائے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی فوکل مالیاتی تحقیقاتی ایجنسی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، جس نے اروند کیجریوال کو گرفتار کیا، نے کم از کم 4 دیگر ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ یا ان کے خاندان کے افراد کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام تحقیقات میں مودی کی حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاسی مخالفین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں مودی کو اپنے حامیوں میں اعلیٰ سطح کی حمایت حاصل ہے، ناقدین ان پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا استعمال اپوزیشن رہنماؤں کو دھمکانے کے لیے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب 55 سالہ اروند کیجریوال نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229327"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے حامیوں نے دہلی میں ریلی نکالی جس میں ان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا اور کہا کہ ان کے خلاف الزامات سیاسی ہیں اور ایسے الزامات کا مقصد انتخابات سے قبل مودی کے مخالفین کو پس پشت ڈالنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نریندر مودی کے سیاسی مخالفین اور انٹرنیشنل رائٹس گروپس نے طویل عرصے سے بھارت کی سکڑتی ہوئی جمہوری سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آتشی مارلینا سنگھ کے مطابق  حکومت صرف کچھ جھوٹے مقدمات درج کرتی ہے اور پھر فوراً انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) انہیں گرفتار کرنے کے لیے آگے بڑھ جاتی ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;19 اپریل سے شروع ہونے والے 6 ہفتے طویل پارلیمانی انتخابات میں تقریباً ایک ارب بھارتی شہری نئی حکومت کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی جے پی کے سینکڑوں کارکنان نے منگل کو نئی دہلی میں مارچ کیا، مودی کی حمایت میں نعرے لگائے اور اروند کیجریوال کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی جے پی کے قانون ساز منوج تیواری نے کہا کہ ’آپ جیل سے گینگ چلا سکتے ہیں لیکن حکومت نہیں، جیل سے حکومت نہیں چلائی جا سکتی۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کے دارالحکومت دہلی کے وزیر اعلیٰ اور نامور اپوزیشن لیڈر اروند کیجریوال نے جیل سے ہی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرلیا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اور آئندہ انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے بنائے گئے اپوزیشن اتحاد کے ایک اہم رہنما ہیں جنہیں 21 مارچ کو طویل عرصے سے جاری بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔</p>
<p>نئی دہلی کے وزیر تعلیم اور کجریوال کی عام آدمی پارٹی (کامن مین پارٹی، اے اے پی) کی رکن آتشی مارلینا سنگھ نے کہا کہ ’قانونی اور آئینی دفعات‘ انہیں سلاخوں کے پیچھے رہتے ہوئے اپنے عہدے پر رہنے کی اجازت دیتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ بات واضح ہے کہ اروند کیجریوال دہلی کے وزیر اعلیٰ رہیں گے۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228743"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر وہ بغیر کسی مقدمے یا سزا کے مستعفی ہو جاتے ہیں، تو اس سے اپوزیشن کے دیگر وزرائے اعلیٰ کو ہٹانے کا راستہ کھل جائے گا‘۔</p>
<p>بھارت کی فوکل مالیاتی تحقیقاتی ایجنسی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، جس نے اروند کیجریوال کو گرفتار کیا، نے کم از کم 4 دیگر ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ یا ان کے خاندان کے افراد کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں۔</p>
<p>تمام تحقیقات میں مودی کی حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاسی مخالفین شامل ہیں۔</p>
<p>جہاں مودی کو اپنے حامیوں میں اعلیٰ سطح کی حمایت حاصل ہے، ناقدین ان پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا استعمال اپوزیشن رہنماؤں کو دھمکانے کے لیے کرتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب 55 سالہ اروند کیجریوال نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کردی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229327"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کے حامیوں نے دہلی میں ریلی نکالی جس میں ان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا اور کہا کہ ان کے خلاف الزامات سیاسی ہیں اور ایسے الزامات کا مقصد انتخابات سے قبل مودی کے مخالفین کو پس پشت ڈالنا ہے۔</p>
<p>نریندر مودی کے سیاسی مخالفین اور انٹرنیشنل رائٹس گروپس نے طویل عرصے سے بھارت کی سکڑتی ہوئی جمہوری سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔</p>
<p>آتشی مارلینا سنگھ کے مطابق  حکومت صرف کچھ جھوٹے مقدمات درج کرتی ہے اور پھر فوراً انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) انہیں گرفتار کرنے کے لیے آگے بڑھ جاتی ہے</p>
<p>19 اپریل سے شروع ہونے والے 6 ہفتے طویل پارلیمانی انتخابات میں تقریباً ایک ارب بھارتی شہری نئی حکومت کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔</p>
<p>بی جے پی کے سینکڑوں کارکنان نے منگل کو نئی دہلی میں مارچ کیا، مودی کی حمایت میں نعرے لگائے اور اروند کیجریوال کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>بی جے پی کے قانون ساز منوج تیواری نے کہا کہ ’آپ جیل سے گینگ چلا سکتے ہیں لیکن حکومت نہیں، جیل سے حکومت نہیں چلائی جا سکتی۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1229575</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Mar 2024 14:55:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/271452107f0dea8.jpg?r=145251" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/271452107f0dea8.jpg?r=145251"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
