<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 16:04:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 16:04:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا خطے کے 9 ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ 11 فیصد بڑھ گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1229634/</link>
      <description>&lt;p&gt;رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران خطے کے 9 ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 10.98 فیصد بڑھ کر 5 ارب 41 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہو گیا، جو گزشتہ برس کی اسی مدت کے دوران 4 ارب 87 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1824180/trade-gap-with-nine-regional-states-widens"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق تجارتی خسارے میں اضافے کی بنیادی وجہ چین اور بھارت سے درآمدات کا بڑھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی چین کے لیے برآمدات میں اضافہ دیکھا گیا تاہم خطے کے دیگر ممالک کے لیے برآمدات میں منفی نمو دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا فروری 24-2023 کے درمیان پاکستان کی خطے کے 9 ممالک افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے لیے 20.58 فیصد اضافے کے بعد 2 ارب 91 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ہوگئی، یہ حجم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 2 ارب 41 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس مالی سال 2024 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران درآمدات 14.16 فیصد بڑھ کر 8 ارب 32 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہو گئیں، یہ حجم گزشتہ سال کی اسی مدت میں ایک ارب 33 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا تھا، نتیجتاً زیادہ تر ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228150"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطے میں پاکستان کی زیادہ تر برآمدات چین کو ہوتی ہیں، جس کا حصہ 60 فیصد سے بھی زائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024 میں جولائی تا فروری کے دوران چین کے لیے برآمدات 42 فیصد اضافے سے ایک ارب 89 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہو گئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران ایک ارب 33 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھیں، مالی سال 2023 میں پاکستان کی چین کے لیے برآمدات 27.3 فیصد سکڑ کر 2 ارب 2 کروڑ ڈالر رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین سے درآمدات میں بھی 14.72 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد مالی سال کے ابتدائی 8  ماہ کے دوران یہ 7  ارب 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 8 ارب 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی بھارت سے درآمدات بھی 10.47 فیصد اضافے کے بعد 13 کروڑ 87 لاکھ ڈالر ہوگئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران 12 کروڑ 57 لاکھ ڈالر رہی تھیں، تجارتی رکاوٹوں کے باوجود درآمدات میں بھارت دوسرا بڑا ملک تھا، اس کے برعکس بھارت کے لیے برآمدات ایک لاکھ 61 ہزار ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر یک لاکھ 2 لاکھ 30 ہزار ڈالر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی افغانستان کے لیے برآمدات 7.68 فیصد گھٹ کر 31کروڑ 98 لاکھ ڈالر رہی، جو گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران 34 کروڑ 65 لاکھ ڈالر رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024 کے ابتدائی 8  ماہ کے دوران ایران کو برآمدات نہ ہونے کے برابر ہے، تہران کے ساتھ زیادہ تر تجارت بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں غیر رسمی چینلز کے ذریعے کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیر جائزہ مدت کے دوران بنگلہ دیش کے لیے برآمدات 19.63 فیصد تنزلی کے بعد 42 کروڑ 19 لاکھ ڈالر ہو گئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اس مدت کے دوران 52 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی،  اسی طرح درآمدات بھی 27 فیصد سے 3 کروڑ 87 لاکھ ڈالر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا کے لیے برآمدات 32.3 فیصد اضافے کے بعد 26 کروڑ 61 لاکھ ڈالر ہوگئی جبکہ درآمدات 3 کروڑ 87 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپال کے لیے شپمنٹس 5.36 بڑھ کر 21 لاکھ 60 ہزار ڈالر ہوگئی، جبکہ مالدیپ کے لیے برآمدات 11.96 فیصد اضافے کے بعد 53 لاکھ 50 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 59 لاکھ 90 ہزار ڈالر ہوگئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران خطے کے 9 ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 10.98 فیصد بڑھ کر 5 ارب 41 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہو گیا، جو گزشتہ برس کی اسی مدت کے دوران 4 ارب 87 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1824180/trade-gap-with-nine-regional-states-widens"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق تجارتی خسارے میں اضافے کی بنیادی وجہ چین اور بھارت سے درآمدات کا بڑھنا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی چین کے لیے برآمدات میں اضافہ دیکھا گیا تاہم خطے کے دیگر ممالک کے لیے برآمدات میں منفی نمو دیکھی گئی۔</p>
<p>جولائی تا فروری 24-2023 کے درمیان پاکستان کی خطے کے 9 ممالک افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے لیے 20.58 فیصد اضافے کے بعد 2 ارب 91 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ہوگئی، یہ حجم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 2 ارب 41 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا تھا۔</p>
<p>اس کے برعکس مالی سال 2024 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران درآمدات 14.16 فیصد بڑھ کر 8 ارب 32 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہو گئیں، یہ حجم گزشتہ سال کی اسی مدت میں ایک ارب 33 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا تھا، نتیجتاً زیادہ تر ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھ گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228150"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خطے میں پاکستان کی زیادہ تر برآمدات چین کو ہوتی ہیں، جس کا حصہ 60 فیصد سے بھی زائد ہے۔</p>
<p>مالی سال 2024 میں جولائی تا فروری کے دوران چین کے لیے برآمدات 42 فیصد اضافے سے ایک ارب 89 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہو گئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران ایک ارب 33 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھیں، مالی سال 2023 میں پاکستان کی چین کے لیے برآمدات 27.3 فیصد سکڑ کر 2 ارب 2 کروڑ ڈالر رہی تھی۔</p>
<p>چین سے درآمدات میں بھی 14.72 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد مالی سال کے ابتدائی 8  ماہ کے دوران یہ 7  ارب 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 8 ارب 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہو گئیں۔</p>
<p>پاکستان کی بھارت سے درآمدات بھی 10.47 فیصد اضافے کے بعد 13 کروڑ 87 لاکھ ڈالر ہوگئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران 12 کروڑ 57 لاکھ ڈالر رہی تھیں، تجارتی رکاوٹوں کے باوجود درآمدات میں بھارت دوسرا بڑا ملک تھا، اس کے برعکس بھارت کے لیے برآمدات ایک لاکھ 61 ہزار ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر یک لاکھ 2 لاکھ 30 ہزار ڈالر رہیں۔</p>
<p>پاکستان کی افغانستان کے لیے برآمدات 7.68 فیصد گھٹ کر 31کروڑ 98 لاکھ ڈالر رہی، جو گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران 34 کروڑ 65 لاکھ ڈالر رہی تھی۔</p>
<p>مالی سال 2024 کے ابتدائی 8  ماہ کے دوران ایران کو برآمدات نہ ہونے کے برابر ہے، تہران کے ساتھ زیادہ تر تجارت بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں غیر رسمی چینلز کے ذریعے کی جاتی ہے۔</p>
<p>زیر جائزہ مدت کے دوران بنگلہ دیش کے لیے برآمدات 19.63 فیصد تنزلی کے بعد 42 کروڑ 19 لاکھ ڈالر ہو گئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اس مدت کے دوران 52 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی،  اسی طرح درآمدات بھی 27 فیصد سے 3 کروڑ 87 لاکھ ڈالر رہی۔</p>
<p>سری لنکا کے لیے برآمدات 32.3 فیصد اضافے کے بعد 26 کروڑ 61 لاکھ ڈالر ہوگئی جبکہ درآمدات 3 کروڑ 87 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>نیپال کے لیے شپمنٹس 5.36 بڑھ کر 21 لاکھ 60 ہزار ڈالر ہوگئی، جبکہ مالدیپ کے لیے برآمدات 11.96 فیصد اضافے کے بعد 53 لاکھ 50 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 59 لاکھ 90 ہزار ڈالر ہوگئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1229634</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Mar 2024 10:11:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/28101120acd2956.jpg?r=101130" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/28101120acd2956.jpg?r=101130"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
