<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 12:54:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 12:54:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ نگران وزیراعظم کیلئے پی ٹی آئی کے امیدوار تھے، قمر زمان کائرہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1229839/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے الزامات پر قائم تحقیقاتی کمیشن پر پاکستان تحریک انصاف کی تنقید پر انہیں تسلی رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ سابق چیف جسٹس اور نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے تحریک انصاف کے امیدوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قمر زمان کائرہ نے گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چھ ججوں کے خط کا معاملہ بہت اہم ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا گیا جس پر چیف جسٹس نے فل کورٹ اجلاس کیا اور اگلے ہی دن وزیراعظم کے ساتھ بیٹھ کر طے ہوا کہ اس پر انکوائری ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اب جن کو تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ بنایا گیا ہے وہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس رہ چکے ہیں اور وہ نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے تحریک انصاف کے امیدوار تھے لہٰذا تحریک انصاف کو تسلی رکھنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229812"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ تحقیقات حاضر سروس جج کرے لیکن حاضر سروس جج بھی کمیشن کے طور پر ہی کام کرے گا کیونکہ اگر عدالتیں معاملوں کی تحقیقات شروع کردیں گی تو انصاف کون کرے گا، تحقیقات سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے لیکن انکوائری رپورٹ آنے کے بعد یہ معاملہ یقیناً عدالتوں میں جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ نے کہا کہ وہ کون ہو گا جو یہ چاہے گا کہ میں ملک کے سب سے بڑے صوبے میں اپنا وجود نہ بناؤں، پیپلز پارٹی کا خمیر پنجاب سے ہی اٹھا تھا اور آج بھی صوبے میں موجود ہے لیکن کمزور ہے، پھر کئی ادوار میں کچھ محبت کرنے والوں نے ہمیں اور کمزور ظاہر کیا ہے جس کی وجہ سے یہ مسائل آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں اور ہمیں اسی حکومت کو چلانے کا طریقہ کار اختیار کرنا ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں دو جماعتیں اکٹھی ہوں گی تو ہی حکومت بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نیا الیکشن کروانے سے نتائج ماننے کا سامان پیدا نہیں ہو گا، ہم موجودہ حکومت کا حصہ نہیں ہیں لیکن اسی حکومت کو پانچ سال چلنا ہے اور عوام کو ڈلیور کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) میں اختلافات کی تردید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ  مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم نے سینیٹ میں مسلم لیگ(ن) کو اور انہوں نے ہمیں ووٹ دیا اور پنجاب میں ہمارا کوئی بڑا دعویٰ نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہمارے زیادہ ووٹ نہیں تھے اور فائزہ کو مسلم لیگ(ن) کے اراکین نے ووٹ نہیں دیا البتہ  اس معاملے سے تعلقات خراب نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے الزامات پر قائم تحقیقاتی کمیشن پر پاکستان تحریک انصاف کی تنقید پر انہیں تسلی رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ سابق چیف جسٹس اور نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے تحریک انصاف کے امیدوار تھے۔</p>
<p>قمر زمان کائرہ نے گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چھ ججوں کے خط کا معاملہ بہت اہم ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا گیا جس پر چیف جسٹس نے فل کورٹ اجلاس کیا اور اگلے ہی دن وزیراعظم کے ساتھ بیٹھ کر طے ہوا کہ اس پر انکوائری ہونی چاہیے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اب جن کو تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ بنایا گیا ہے وہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس رہ چکے ہیں اور وہ نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے تحریک انصاف کے امیدوار تھے لہٰذا تحریک انصاف کو تسلی رکھنی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229812"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ تحقیقات حاضر سروس جج کرے لیکن حاضر سروس جج بھی کمیشن کے طور پر ہی کام کرے گا کیونکہ اگر عدالتیں معاملوں کی تحقیقات شروع کردیں گی تو انصاف کون کرے گا، تحقیقات سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے لیکن انکوائری رپورٹ آنے کے بعد یہ معاملہ یقیناً عدالتوں میں جائے گا۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ نے کہا کہ وہ کون ہو گا جو یہ چاہے گا کہ میں ملک کے سب سے بڑے صوبے میں اپنا وجود نہ بناؤں، پیپلز پارٹی کا خمیر پنجاب سے ہی اٹھا تھا اور آج بھی صوبے میں موجود ہے لیکن کمزور ہے، پھر کئی ادوار میں کچھ محبت کرنے والوں نے ہمیں اور کمزور ظاہر کیا ہے جس کی وجہ سے یہ مسائل آئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں اور ہمیں اسی حکومت کو چلانے کا طریقہ کار اختیار کرنا ہو گا۔</p>
<p>پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں دو جماعتیں اکٹھی ہوں گی تو ہی حکومت بنے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نیا الیکشن کروانے سے نتائج ماننے کا سامان پیدا نہیں ہو گا، ہم موجودہ حکومت کا حصہ نہیں ہیں لیکن اسی حکومت کو پانچ سال چلنا ہے اور عوام کو ڈلیور کرنا ہے۔</p>
<p>پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) میں اختلافات کی تردید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ  مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہیں۔</p>
<p>قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم نے سینیٹ میں مسلم لیگ(ن) کو اور انہوں نے ہمیں ووٹ دیا اور پنجاب میں ہمارا کوئی بڑا دعویٰ نہیں تھا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہمارے زیادہ ووٹ نہیں تھے اور فائزہ کو مسلم لیگ(ن) کے اراکین نے ووٹ نہیں دیا البتہ  اس معاملے سے تعلقات خراب نہیں ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1229839</guid>
      <pubDate>Sun, 31 Mar 2024 00:12:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/03/310011020809be4.jpg?r=001147" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/03/310011020809be4.jpg?r=001147"/>
        <media:title>پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
