<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 17:07:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 17:07:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی ویب سائٹس سے 24 لاکھ افراد کے ڈیٹا چوری ہونے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1230108/</link>
      <description>&lt;p&gt;گلوبل سائبر سیکیورٹی کمپنی ’کیسپرسکی‘ نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2023 میں ڈاٹ پی کے کا ڈومین رکھنے والی ویب سائٹس سے 24 لاکھ افراد کے ذاتی ڈیٹا کو چوری کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کیسپرسکی‘ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر کی ایک کروڑ ڈیوائسز ڈیٹا چوری کا شکار ہوئیں جب کہ تقریبا ایک کروڑ ویب سائٹس بھی ڈیٹا چوری کا شکار بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق گزشتہ 5 سال میں دنیا بھر میں 443,000 ویب سائٹس پر ڈیٹا چوری کرنے والے وائرسز کے ذریعے حملے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ حملے ڈاٹ کام  ڈومین رکھنے والی ویب سائٹس پر کیے گئے اور مذکورہ ڈومین کی ویب سائٹس پر حملوں کی تعداد 30 کروڑ سے زائد رہی اور ایسے حملوں میں لاگ ان کی معلومات سمیت پاس ورڈز کا ڈیٹا چوری ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1225694"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق صرف  پاکستان میں ڈاٹ پی کے ڈومین رکھنے والی ویب سائٹس کے 24  لا کھ افراد کا ڈیٹا چوری ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے بتایا کہ گزشتہ  تین سال کے مقابلے میں سال 2023 میں 643 فیصد زیادہ  ویب سائٹس کا ڈیٹا چوری ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے ریسرچرز کا ماننا ہے کہ کمپرومائزڈ ویب سائٹس کی تعداد ایک کروڑ سے کئی گنا زیادہ بھی ہو سکتی ہے جب کہ گزشتہ سال ایک کروڑ ڈیوائسز پر وائرسز حملے کرکے ڈیٹا چرانے کی کوشش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملٹی نیشنل کمپنی کے مطابق چوری شدہ ڈیٹا میں سوشل میڈیا، آن لائن بینکینگ اور مختلف کارپوریٹ سروسز  سے متعلق ڈیٹا شامل ہے جب کہ سائبر حملہ آور چوری شدہ ڈیٹا کو بیشتر مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گلوبل سائبر سیکیورٹی کمپنی ’کیسپرسکی‘ نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2023 میں ڈاٹ پی کے کا ڈومین رکھنے والی ویب سائٹس سے 24 لاکھ افراد کے ذاتی ڈیٹا کو چوری کیا گیا۔</p>
<p>’کیسپرسکی‘ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر کی ایک کروڑ ڈیوائسز ڈیٹا چوری کا شکار ہوئیں جب کہ تقریبا ایک کروڑ ویب سائٹس بھی ڈیٹا چوری کا شکار بنیں۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق گزشتہ 5 سال میں دنیا بھر میں 443,000 ویب سائٹس پر ڈیٹا چوری کرنے والے وائرسز کے ذریعے حملے کیے گئے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ حملے ڈاٹ کام  ڈومین رکھنے والی ویب سائٹس پر کیے گئے اور مذکورہ ڈومین کی ویب سائٹس پر حملوں کی تعداد 30 کروڑ سے زائد رہی اور ایسے حملوں میں لاگ ان کی معلومات سمیت پاس ورڈز کا ڈیٹا چوری ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1225694"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ادارے کے مطابق صرف  پاکستان میں ڈاٹ پی کے ڈومین رکھنے والی ویب سائٹس کے 24  لا کھ افراد کا ڈیٹا چوری ہوا۔</p>
<p>کمپنی نے بتایا کہ گزشتہ  تین سال کے مقابلے میں سال 2023 میں 643 فیصد زیادہ  ویب سائٹس کا ڈیٹا چوری ہوا۔</p>
<p>کمپنی کے ریسرچرز کا ماننا ہے کہ کمپرومائزڈ ویب سائٹس کی تعداد ایک کروڑ سے کئی گنا زیادہ بھی ہو سکتی ہے جب کہ گزشتہ سال ایک کروڑ ڈیوائسز پر وائرسز حملے کرکے ڈیٹا چرانے کی کوشش کی گئی۔</p>
<p>ملٹی نیشنل کمپنی کے مطابق چوری شدہ ڈیٹا میں سوشل میڈیا، آن لائن بینکینگ اور مختلف کارپوریٹ سروسز  سے متعلق ڈیٹا شامل ہے جب کہ سائبر حملہ آور چوری شدہ ڈیٹا کو بیشتر مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1230108</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Apr 2024 18:31:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/03160757386f931.jpg?r=183256" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/03160757386f931.jpg?r=183256"/>
        <media:title>کمپرومائزڈ ویب سائٹس کی تعداد ایک کروڑ سے کئی گنا زیادہ بھی ہو سکتی ہے—فوٹو: کیسپرکی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
