<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 01:22:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 01:22:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد ہائیکورٹ کا شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1230158/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ  نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق رہنما شیریں مزاری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے شیریں مزاری کی درخواست پر کیس کی سماعت کی، وہ اپنے وکیل کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی احتساب بیورو (نیب) کے  پراسیکیوٹر رافع مقصود نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے مارچ میں ہی شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کیونکہ شیریں مزاری 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں ملزمہ نہیں ہیں، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ہم نے بھی 27 مارچ کو  وزیر اعظم کو خط لکھ کر اطلاع دے دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ریمارکس دیے کہ کابینہ کے پاس اور کام بہت ہیں یہ کام ہم کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://beta.dawnnews.tv/news/card/1217803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا اور درخواست نمٹا دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ یکم دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے بھی نکالنے کا حکم  دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9 مئی کے پُرتشدد مظاہروں کے چند ہفتے بعد 29 مئی کو پی ٹی آئی کی سابق رہنما کا نام اسلام آباد پولیس کی سفارشات پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد مظاہروں کے بعد مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت شیریں مزاری سمیت پی ٹی آئی کے 13 رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا، سابق وزیر انسانی حقوق کو متعدد بار ضمانت دی گئی تاہم انہیں ہر بار دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، شیریں مزاری نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ متحرک سیاست سے ریٹائر ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیریں مزاری نے کہا تھا کہ 12 روز تک میری گرفتاری، اغوا اور رہائی کے دوران میری صحت کے حوالے سے اور میری بیٹی ایمان مزاری کو جس صورتحال اور آزمائش سے گزرنا پڑا، میں نے جیل جاتے ہوئے اس کی وڈیو بھی دیکھی جب میں تیسری مرتبہ جیل جارہی تھی تو وہ اتنا رو رہی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ  نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق رہنما شیریں مزاری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے شیریں مزاری کی درخواست پر کیس کی سماعت کی، وہ اپنے وکیل کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں۔</p>
<p>قومی احتساب بیورو (نیب) کے  پراسیکیوٹر رافع مقصود نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے مارچ میں ہی شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش کردی تھی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کیونکہ شیریں مزاری 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں ملزمہ نہیں ہیں، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ہم نے بھی 27 مارچ کو  وزیر اعظم کو خط لکھ کر اطلاع دے دی تھی۔</p>
<p>جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ریمارکس دیے کہ کابینہ کے پاس اور کام بہت ہیں یہ کام ہم کر دیتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://beta.dawnnews.tv/news/card/1217803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالت نے شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا اور درخواست نمٹا دی گئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ یکم دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے بھی نکالنے کا حکم  دیا تھا۔</p>
<p>9 مئی کے پُرتشدد مظاہروں کے چند ہفتے بعد 29 مئی کو پی ٹی آئی کی سابق رہنما کا نام اسلام آباد پولیس کی سفارشات پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔</p>
<p>القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد مظاہروں کے بعد مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت شیریں مزاری سمیت پی ٹی آئی کے 13 رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا، سابق وزیر انسانی حقوق کو متعدد بار ضمانت دی گئی تاہم انہیں ہر بار دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔</p>
<p>بعد ازاں، شیریں مزاری نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ متحرک سیاست سے ریٹائر ہو رہی ہیں۔</p>
<p>شیریں مزاری نے کہا تھا کہ 12 روز تک میری گرفتاری، اغوا اور رہائی کے دوران میری صحت کے حوالے سے اور میری بیٹی ایمان مزاری کو جس صورتحال اور آزمائش سے گزرنا پڑا، میں نے جیل جاتے ہوئے اس کی وڈیو بھی دیکھی جب میں تیسری مرتبہ جیل جارہی تھی تو وہ اتنا رو رہی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1230158</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Apr 2024 10:14:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکعمرمہتاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/04100908de13128.jpg?r=100935" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/04100908de13128.jpg?r=100935"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
