<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 21:25:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 21:25:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشکوک خطوط کے معاملے پر تحقیقات کرائیں گے، شہباز شریف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1230181/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشکوک خطوط کے معاملے پر تحقیقات کرائیں گے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ  ہمیں اس معاملے پر سیاست نہیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1230098/"&gt;گزشتہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; روز لاہور ہائی کورٹ کے 4 اور سپریم کورٹ کے 4 ججوں کو  دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں جن کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ایک &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1230029/"&gt;روز قبل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; اسلام آباد ہائی کورٹ کے 8 ججوں کو پاؤڈر بھرے مشکوک خطوط موصول ہوئے جس میں ڈرانے دھمکانے والا نشان موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 6 ہائی کورٹ کے ججوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کے ساتھ میٹنگ کی روشنی میں کابینہ منظوری کے ساتھ فیصلہ کیا کہ انکوائری کمیشن بنایا جائے اور محترم سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی کی مشاورت اور رضا مندی کے ساتھ کمیشن کو نوٹی فائی کیا اور ٹی او آرز کو بھی نوٹیفائی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ بعد میں تصدق جیلانی نے کمیشن کی سربراہی سے معذرت کرلی اور سپریم کورٹ نے پرسوں اس پر سو موٹو لے لیا اور اس کی سماعت سے سب آگاہ ہیں، اب سپریم کورٹ اس معاملے کو دیکھے گا ، ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کردی تھی اور پھر اس میں تبدیلی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پرسوں ہم نے بھرپور میٹنگ کی ہے ان وزراتوں سے جن کی ذمہ داری ملک کی  معیشت ٹھیک کرنے کی ہےم اس میں ایس آئی ایف سی کا ایک کلدی کردار بھی ہے، میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں ان وزارتوں کا سیکٹورل ریویو کروں گا تاکہ ان کے مسائل کو تیزی سے حل کریں اور ملک کے چیلنجز سے نمٹنیں، ہمیں مہنگائی، بیروزگاری میں کمی لانے کے لیے دن رات کاوشیں کرنی ہیں اور ہم تیزی سے قدم اٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے بتایا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جو اسٹینڈ بائے ایگریمنٹ تھا 1.1 ارب ڈالر کا وہ اس مہینے بورڈ کی منظوری کے بعد مل جائے گی اور وزیر خزانہ واشنگٹن جارہے ہیں وہاں پر اسپرنگ میٹنگ ہونی ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ نئے پروگرام کے حوالے سے اجلاس ہوگا، ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا ایک اور پروگرام ہمارے لیے ضروری ہے، اس سے معیشت میں استحکام آئے گا اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہم ایک نئے اعتماد کے ساتھ کام کرسکیں گے، اس نئے معاہدے میں آئی ایم ایف کی شرائط آسان نہیں ہوں گی مگر ہماری سوچ یہ ہونی چاہیے کہ غریب طبقے پر بوجھ کم پڑے اور ان پر اس دباؤ کو ڈالا جائے جو اسے اٹھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230175"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن پر پوری طرح کام ہورہا ہے اور اسی مہینے میں کنسلٹنٹس تعینات ہوجائیں گے اور اس پروگرام پر عمل در آمد کیا جائے گا، آئی ٹی کے حوالے سے بھی ہم نے اجلاس کیے اور مجھے امید ہے کہ ہم اس پر بھی ایک حتمی فیصلے پر پہنچ جائیں گے، آئی ٹی ایک بہت بڑا شعبہ ہے اور کوشش ہے کہ اس میں ہم کامیاب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ خسارے میں چلنے والی پی آئی اے کے اوپر کام ہوا ہے اور امید ہے کہ جو شیڈول طے کیا گیا ہے اس کی نجکاری کا اس پر عمل در آمد ہوگا، ائیر پورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ایک ترکیہ کی کمپنی پاکستان پہنچ رہی ہے ان سے سب ملاقات کریں گے تاکہ ان کو بتائیں کہ پاکستان میں کتنی صلاحیت ہے، کتنا خوبصورت ہے پاکستان۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ اس میں صرف اسلام آباد ائیر پورٹ شامل ہے، لاہور اور کراچی پورٹس کے لیے جلدی ایک اجلاس طلب کروں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں خود  داسو گیا سفیر کے سات،  وہاں چینی ورکرز سے ملاقات کی اور انہیں تسلی دی، چینی وفد بھی آیا تھا وزارت خارجہ سے، جو میتیں تھی ان کو بھی پہنچا دیا ہے اور اس پرت یزی سے کام کر رہے ہیں کہ کیسے ان چینی ورکرز کی سیکیورٹی پر فول پروف کام کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشکوک خطوط کے معاملے پر تحقیقات کرائیں گے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔</p>
<p>اسلام آباد میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ  ہمیں اس معاملے پر سیاست نہیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔</p>
<p>واضح رہے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1230098/">گزشتہ</a></strong> روز لاہور ہائی کورٹ کے 4 اور سپریم کورٹ کے 4 ججوں کو  دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں جن کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>اس سے ایک <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1230029/">روز قبل</a></strong> اسلام آباد ہائی کورٹ کے 8 ججوں کو پاؤڈر بھرے مشکوک خطوط موصول ہوئے جس میں ڈرانے دھمکانے والا نشان موجود تھا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ 6 ہائی کورٹ کے ججوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کے ساتھ میٹنگ کی روشنی میں کابینہ منظوری کے ساتھ فیصلہ کیا کہ انکوائری کمیشن بنایا جائے اور محترم سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی کی مشاورت اور رضا مندی کے ساتھ کمیشن کو نوٹی فائی کیا اور ٹی او آرز کو بھی نوٹیفائی کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ بعد میں تصدق جیلانی نے کمیشن کی سربراہی سے معذرت کرلی اور سپریم کورٹ نے پرسوں اس پر سو موٹو لے لیا اور اس کی سماعت سے سب آگاہ ہیں، اب سپریم کورٹ اس معاملے کو دیکھے گا ، ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کردی تھی اور پھر اس میں تبدیلی آئی۔</p>
<p>شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پرسوں ہم نے بھرپور میٹنگ کی ہے ان وزراتوں سے جن کی ذمہ داری ملک کی  معیشت ٹھیک کرنے کی ہےم اس میں ایس آئی ایف سی کا ایک کلدی کردار بھی ہے، میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں ان وزارتوں کا سیکٹورل ریویو کروں گا تاکہ ان کے مسائل کو تیزی سے حل کریں اور ملک کے چیلنجز سے نمٹنیں، ہمیں مہنگائی، بیروزگاری میں کمی لانے کے لیے دن رات کاوشیں کرنی ہیں اور ہم تیزی سے قدم اٹھا رہے ہیں۔</p>
<p>وزیر اعظم نے بتایا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جو اسٹینڈ بائے ایگریمنٹ تھا 1.1 ارب ڈالر کا وہ اس مہینے بورڈ کی منظوری کے بعد مل جائے گی اور وزیر خزانہ واشنگٹن جارہے ہیں وہاں پر اسپرنگ میٹنگ ہونی ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ نئے پروگرام کے حوالے سے اجلاس ہوگا، ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا ایک اور پروگرام ہمارے لیے ضروری ہے، اس سے معیشت میں استحکام آئے گا اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہم ایک نئے اعتماد کے ساتھ کام کرسکیں گے، اس نئے معاہدے میں آئی ایم ایف کی شرائط آسان نہیں ہوں گی مگر ہماری سوچ یہ ہونی چاہیے کہ غریب طبقے پر بوجھ کم پڑے اور ان پر اس دباؤ کو ڈالا جائے جو اسے اٹھا سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230175"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن پر پوری طرح کام ہورہا ہے اور اسی مہینے میں کنسلٹنٹس تعینات ہوجائیں گے اور اس پروگرام پر عمل در آمد کیا جائے گا، آئی ٹی کے حوالے سے بھی ہم نے اجلاس کیے اور مجھے امید ہے کہ ہم اس پر بھی ایک حتمی فیصلے پر پہنچ جائیں گے، آئی ٹی ایک بہت بڑا شعبہ ہے اور کوشش ہے کہ اس میں ہم کامیاب ہوں گے۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ خسارے میں چلنے والی پی آئی اے کے اوپر کام ہوا ہے اور امید ہے کہ جو شیڈول طے کیا گیا ہے اس کی نجکاری کا اس پر عمل در آمد ہوگا، ائیر پورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ایک ترکیہ کی کمپنی پاکستان پہنچ رہی ہے ان سے سب ملاقات کریں گے تاکہ ان کو بتائیں کہ پاکستان میں کتنی صلاحیت ہے، کتنا خوبصورت ہے پاکستان۔</p>
<p>رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ اس میں صرف اسلام آباد ائیر پورٹ شامل ہے، لاہور اور کراچی پورٹس کے لیے جلدی ایک اجلاس طلب کروں گا۔</p>
<p>شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں خود  داسو گیا سفیر کے سات،  وہاں چینی ورکرز سے ملاقات کی اور انہیں تسلی دی، چینی وفد بھی آیا تھا وزارت خارجہ سے، جو میتیں تھی ان کو بھی پہنچا دیا ہے اور اس پرت یزی سے کام کر رہے ہیں کہ کیسے ان چینی ورکرز کی سیکیورٹی پر فول پروف کام کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1230181</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Apr 2024 14:28:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/04144203d1f4232.png?r=144218" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/04144203d1f4232.png?r=144218"/>
        <media:title>شہباز شریف۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
