<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 23:17:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 23:17:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عید سے قبل ہفتہ وار مہنگائی بڑھ گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1230284/</link>
      <description>&lt;p&gt;عید سے قبل قلیل مدتی مہنگائی 4 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 0.96 فیصد بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے جاری &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.pbs.gov.pk/sites/default/files/price_statistics/weekly_spi/SPI%20Executive%20Sumary%26SPI%20Report_04042024.pdf"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق حساس قیمت انڈیکس (ایس پی آئی) سے پیمائش کردہ ہفتہ وار مہنگائی سالانہ بنیادوں پر معمولی اضافے کے بعد 29.45 فیصد ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حساس قیمت انڈیکس میں 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے 51 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، زیر جائزہ مدت کے دوران 16 اشیا کے نرخوں میں اضافہ، 13 کی قیمتوں میں کمی جبکہ 22 مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیر جائزہ مدت کے دوران سالانہ بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، ان میں گیس چارجز برائے پہلی سہ ماہی (570 فیصد)، پیاز (107.59 فیصد)، پسی مرچ (86.05 فیصد)، مردانہ سینڈل (66.71 فیصد)، مردانہ چپل (58.05 فیصد)، لہسن (53.51 فیصد)، ٹماٹر (35.77 فیصد)، گڑ (34 فیصد)، نمک (32.78 فیصد)، انرجی سیور بلب (29.83 فیصد)، دال ماش (26.98 فیصد) اور تیار چائے (23.34 فیصد) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229742"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں جن چیزوں کی قیمتیں بڑھیں، ان میں زنانہ سینڈل (12.52 فیصد)، ٹماٹر (11.93 فیصد)، مردانہ چپل (8.70 فیصد)، پیٹرول (3.45 فیصد)، مرغی کا گوشت (.299 فیصد)، پیاز (1.30 فیصد)، ڈبل روٹی (1.03 فیصد)، گائے کا گوشت (0.75 فیصد)، لہسن (0.70 فیصد)، بکرے کا گوشت (0.41 فیصد) اور باسمتی چاول ٹوٹا (0.14 فیصد) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ چند روز قبل عالمی بینک نے پاکستان میں مہنگائی میں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1230009/"&gt;&lt;strong&gt;کمی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ رواں مالی سال 24-2023 کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 26 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ عالمی بینک نے اگلے مالی سال اوسط مہنگائی مزید کم ہو کر 15 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ وزارت خزانہ نے ماہانہ اقتصادی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اپریل میں مہنگائی کم ہو کر 21 سے 22 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، زیرہ جائزہ ہفتے کے دوران جو چیزیں سستی ہوئیں، ان میں کیلے (3.57 فیصد)، گندم کا آٹا (2.68 فیصد)، انڈے اور ایل پی جی (1.89 فیصد)، ڈیزل (1.18 فیصد)، گڑ (0.63 فیصد)، چینی (0.41 فیصد)، سرسوں کا تیل (0.26 فیصد) دال مسور (0.25 فیصد) اور آلو (0.23 فیصد) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عید سے قبل قلیل مدتی مہنگائی 4 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 0.96 فیصد بڑھ گئی۔</p>
<p>پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے جاری <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.pbs.gov.pk/sites/default/files/price_statistics/weekly_spi/SPI%20Executive%20Sumary%26SPI%20Report_04042024.pdf"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق حساس قیمت انڈیکس (ایس پی آئی) سے پیمائش کردہ ہفتہ وار مہنگائی سالانہ بنیادوں پر معمولی اضافے کے بعد 29.45 فیصد ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>حساس قیمت انڈیکس میں 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے 51 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، زیر جائزہ مدت کے دوران 16 اشیا کے نرخوں میں اضافہ، 13 کی قیمتوں میں کمی جبکہ 22 مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
<p>زیر جائزہ مدت کے دوران سالانہ بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، ان میں گیس چارجز برائے پہلی سہ ماہی (570 فیصد)، پیاز (107.59 فیصد)، پسی مرچ (86.05 فیصد)، مردانہ سینڈل (66.71 فیصد)، مردانہ چپل (58.05 فیصد)، لہسن (53.51 فیصد)، ٹماٹر (35.77 فیصد)، گڑ (34 فیصد)، نمک (32.78 فیصد)، انرجی سیور بلب (29.83 فیصد)، دال ماش (26.98 فیصد) اور تیار چائے (23.34 فیصد) شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229742"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں جن چیزوں کی قیمتیں بڑھیں، ان میں زنانہ سینڈل (12.52 فیصد)، ٹماٹر (11.93 فیصد)، مردانہ چپل (8.70 فیصد)، پیٹرول (3.45 فیصد)، مرغی کا گوشت (.299 فیصد)، پیاز (1.30 فیصد)، ڈبل روٹی (1.03 فیصد)، گائے کا گوشت (0.75 فیصد)، لہسن (0.70 فیصد)، بکرے کا گوشت (0.41 فیصد) اور باسمتی چاول ٹوٹا (0.14 فیصد) شامل ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ چند روز قبل عالمی بینک نے پاکستان میں مہنگائی میں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1230009/"><strong>کمی</strong></a> کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ رواں مالی سال 24-2023 کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 26 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ عالمی بینک نے اگلے مالی سال اوسط مہنگائی مزید کم ہو کر 15 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔</p>
<p>جبکہ وزارت خزانہ نے ماہانہ اقتصادی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اپریل میں مہنگائی کم ہو کر 21 سے 22 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>تاہم، زیرہ جائزہ ہفتے کے دوران جو چیزیں سستی ہوئیں، ان میں کیلے (3.57 فیصد)، گندم کا آٹا (2.68 فیصد)، انڈے اور ایل پی جی (1.89 فیصد)، ڈیزل (1.18 فیصد)، گڑ (0.63 فیصد)، چینی (0.41 فیصد)، سرسوں کا تیل (0.26 فیصد) دال مسور (0.25 فیصد) اور آلو (0.23 فیصد) شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1230284</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Apr 2024 14:54:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/0514531916bbf1e.jpg?r=145324" type="image/jpeg" medium="image" height="395" width="658">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/0514531916bbf1e.jpg?r=145324"/>
        <media:title>— فائل/فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
