<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 00:13:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 00:13:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوئٹر سے بوٹ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1230305/</link>
      <description>&lt;p&gt;مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر نے پلیٹ فارم سے بوٹ یا آٹومیٹڈ اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کرنے کا آغاز کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹر کی جانب سے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://azureserv.com/safety/status/1775942160509989256?s=46&amp;amp;&amp;amp;__cpo=aHR0cHM6Ly90d2l0dGVyLmNvbQ"&gt;&lt;strong&gt;بلاگ پوسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا گیا کہ بوٹ اکاؤنٹس کی وجہ سے پلیٹ فارم پر بہت سارے جعلی اکاؤنٹس ہیں جو کہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں، اس لیے انہیں ڈیلیٹ کرنے کا آغاز کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق ان تمام بوٹ یا آٹومیٹڈ اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کیا جائے گا جو کہ انسان نہیں چلا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی کمپنی نے اس &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.forbes.com/sites/antoniopequenoiv/2024/04/04/musks-x-says-its-purging-bots-heres-how-the-platform-has-struggled-to-squash-its-bot-problem/?sh=2d806b6b2f56"&gt;&lt;strong&gt;عزم کا اعادہ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; بھی کیا کہ کمپنی بوٹ اکاؤنٹس چلانے والے بڑے ذمہ داروں کا بھی تعین کرے گی اور پھر انہیں کٹھڑے میں بھی لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1201012"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹر کی جانب سے بوٹ یا آٹومیٹڈ اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کیے جانے کے بعد درجنوں صارفین کے فالوورز کی تعداد بھی کم ہونے لگی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بوٹ چیٹس یا آٹومیٹڈ اکاؤنٹ ایسے ہوتے ہیں جنہیں چلانے کے لیے انسان کی ضرورت نہیں پڑتے، ایسے اکاؤنٹ سافٹ ویئر یا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹولز کی مدد سے بنائے جاتے ہیں اور پھر وہ ازخود انسانوں کے اکاؤنٹس کی طرح کام کرنے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بوٹ یا آٹومیٹڈ چیٹس کا استعمال بڑی بڑی کمپنیاں بھی کرتی ہیں اور بہت ساری ایپلی کیشنز بھی آٹومیٹڈ چیٹس کی سہولت فراہم کرتی ہیں، جیسا کہ واٹس ایپ یا فیس بک میسینجر یا ای میل پر آٹو ریپلائی کا آپشن رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹھیک ایسی ہی ٹیکنالوجی کی طرح بوٹ یا آٹومیٹڈ اکاؤنٹس بھی کام کرتے ہیں، جنہیں بناتے وقت اپنی ترجیحات طے کی جاتی ہیں اور پھر مذکورہ اکاؤنٹس ان ترجیحات پر ہی کام کرتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال کیا جاتا ہے کہ ٹوئٹر پر لاکھوں بوٹ یا آٹومیٹڈ اکاؤنٹس ہیں، جنہیں جعلی اکاؤنٹس بھی کہا جاتا ہے اور ایلون مسک نے ٹوئٹر کو خریدتے وقت ہی ایسے اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر نے پلیٹ فارم سے بوٹ یا آٹومیٹڈ اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کرنے کا آغاز کردیا۔</p>
<p>ٹوئٹر کی جانب سے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://azureserv.com/safety/status/1775942160509989256?s=46&amp;&amp;__cpo=aHR0cHM6Ly90d2l0dGVyLmNvbQ"><strong>بلاگ پوسٹ</strong></a> میں بتایا گیا کہ بوٹ اکاؤنٹس کی وجہ سے پلیٹ فارم پر بہت سارے جعلی اکاؤنٹس ہیں جو کہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں، اس لیے انہیں ڈیلیٹ کرنے کا آغاز کردیا گیا۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق ان تمام بوٹ یا آٹومیٹڈ اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کیا جائے گا جو کہ انسان نہیں چلا رہے۔</p>
<p>ساتھ ہی کمپنی نے اس <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.forbes.com/sites/antoniopequenoiv/2024/04/04/musks-x-says-its-purging-bots-heres-how-the-platform-has-struggled-to-squash-its-bot-problem/?sh=2d806b6b2f56"><strong>عزم کا اعادہ</strong></a> بھی کیا کہ کمپنی بوٹ اکاؤنٹس چلانے والے بڑے ذمہ داروں کا بھی تعین کرے گی اور پھر انہیں کٹھڑے میں بھی لایا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1201012"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ٹوئٹر کی جانب سے بوٹ یا آٹومیٹڈ اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کیے جانے کے بعد درجنوں صارفین کے فالوورز کی تعداد بھی کم ہونے لگی ہے۔</p>
<p>بوٹ چیٹس یا آٹومیٹڈ اکاؤنٹ ایسے ہوتے ہیں جنہیں چلانے کے لیے انسان کی ضرورت نہیں پڑتے، ایسے اکاؤنٹ سافٹ ویئر یا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹولز کی مدد سے بنائے جاتے ہیں اور پھر وہ ازخود انسانوں کے اکاؤنٹس کی طرح کام کرنے لگتے ہیں۔</p>
<p>بوٹ یا آٹومیٹڈ چیٹس کا استعمال بڑی بڑی کمپنیاں بھی کرتی ہیں اور بہت ساری ایپلی کیشنز بھی آٹومیٹڈ چیٹس کی سہولت فراہم کرتی ہیں، جیسا کہ واٹس ایپ یا فیس بک میسینجر یا ای میل پر آٹو ریپلائی کا آپشن رکھا جائے۔</p>
<p>ٹھیک ایسی ہی ٹیکنالوجی کی طرح بوٹ یا آٹومیٹڈ اکاؤنٹس بھی کام کرتے ہیں، جنہیں بناتے وقت اپنی ترجیحات طے کی جاتی ہیں اور پھر مذکورہ اکاؤنٹس ان ترجیحات پر ہی کام کرتے رہتے ہیں۔</p>
<p>خیال کیا جاتا ہے کہ ٹوئٹر پر لاکھوں بوٹ یا آٹومیٹڈ اکاؤنٹس ہیں، جنہیں جعلی اکاؤنٹس بھی کہا جاتا ہے اور ایلون مسک نے ٹوئٹر کو خریدتے وقت ہی ایسے اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1230305</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Apr 2024 18:33:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/052015322e8055c.jpg?r=201548" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/052015322e8055c.jpg?r=201548"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
