<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 00:45:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 00:45:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے بینکوں سے ریکارڈ 47 کھرب روپے قرضہ لے لیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1230334/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت نے بینکوں سے گزشتہ 2 ماہ کے دوران 700 ارب روپے اضافی قرضے لیے، جس کے بعد ان کا حجم 47 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1825973/government-borrows-record-rs47tr-from-banks"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی مطابق اسٹیٹ بینک کے حالیہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ حکومت نے جولائی تا مارچ کے دوران ریکارڈ 46 کھرب 90 ارب روپے کے قرضے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھاری قرضے کے سبب نجی شعبہ کی جانب سے 70 فیصد کم قرضے لے گیے، نتیجتاً اس سے معاشی ترقی کے لیے مشکلات درپیش رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمایاں ریونیو اکٹھا کرنے  کے باوجود ریکارڈ قرضے حکومت کے بھاری اخراجات کو ظاہر کرتے ہیں، جو قرضوں کی لاگت پر غور و فکر کیے بغیر لیے گئے، حکومت ریکارڈ شرح پر قرضے لے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1223839"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگران حکومت نے یکم جولائی سے 19 جنوری 24-2023 کے دوران 39 کھرب 90 ارب روپے کا ریکارڈ قرضہ لیا تھا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 13 کھرب 98 ارب روپے کے مقابلے میں 185 فیصد زیادہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2022 اور مالی سال 2023 کے دوران حکومت نے بینکوں سے بالترتیب 34 کھرب 48 ارب روپے اور 37 کھرب 16 ارب روپے کے قرضے لیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ ماہرین کو یقین ہے کہ قرض لینے کے موجودہ رجحان کو دیکھا جائے تو حکومت جون 2024 تک کل 65 کھرب تا 70 کھرب تک کے قرضے لے سکتی ہے، حکومت زیادہ ریونیو حاصل کرنے کے لیے توانائی کی قیمتیں بڑھا رہی ہے لیکن بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی آمدنی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاپرواہی سے لیے گئے قرضوں سے نہ صرف سود کی ادائیگیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کل بجٹ کے تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکی ہیں، بلکہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں بھی کٹوتی کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2023 کے دوران اقتصادی شرح نمو منفی رہی تھی، اور حالیہ رجحان سے عندیہ ملتا ہے کہ شرح نمو گزشتہ سال کے جیسی ہوسکتی ہے، نجی شعبہ اپنے وسائل پر بھروسہ کر رہا ہے جبکہ مقامی سرمایہ بھی نمایاں طور پر کم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت نے بینکوں سے گزشتہ 2 ماہ کے دوران 700 ارب روپے اضافی قرضے لیے، جس کے بعد ان کا حجم 47 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1825973/government-borrows-record-rs47tr-from-banks"><strong>رپورٹ</strong></a> کی مطابق اسٹیٹ بینک کے حالیہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ حکومت نے جولائی تا مارچ کے دوران ریکارڈ 46 کھرب 90 ارب روپے کے قرضے لیے۔</p>
<p>بھاری قرضے کے سبب نجی شعبہ کی جانب سے 70 فیصد کم قرضے لے گیے، نتیجتاً اس سے معاشی ترقی کے لیے مشکلات درپیش رہیں گی۔</p>
<p>نمایاں ریونیو اکٹھا کرنے  کے باوجود ریکارڈ قرضے حکومت کے بھاری اخراجات کو ظاہر کرتے ہیں، جو قرضوں کی لاگت پر غور و فکر کیے بغیر لیے گئے، حکومت ریکارڈ شرح پر قرضے لے رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1223839"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نگران حکومت نے یکم جولائی سے 19 جنوری 24-2023 کے دوران 39 کھرب 90 ارب روپے کا ریکارڈ قرضہ لیا تھا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 13 کھرب 98 ارب روپے کے مقابلے میں 185 فیصد زیادہ تھا۔</p>
<p>مالی سال 2022 اور مالی سال 2023 کے دوران حکومت نے بینکوں سے بالترتیب 34 کھرب 48 ارب روپے اور 37 کھرب 16 ارب روپے کے قرضے لیے تھے۔</p>
<p>کچھ ماہرین کو یقین ہے کہ قرض لینے کے موجودہ رجحان کو دیکھا جائے تو حکومت جون 2024 تک کل 65 کھرب تا 70 کھرب تک کے قرضے لے سکتی ہے، حکومت زیادہ ریونیو حاصل کرنے کے لیے توانائی کی قیمتیں بڑھا رہی ہے لیکن بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی آمدنی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔</p>
<p>لاپرواہی سے لیے گئے قرضوں سے نہ صرف سود کی ادائیگیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کل بجٹ کے تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکی ہیں، بلکہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں بھی کٹوتی کی جارہی ہے۔</p>
<p>مالی سال 2023 کے دوران اقتصادی شرح نمو منفی رہی تھی، اور حالیہ رجحان سے عندیہ ملتا ہے کہ شرح نمو گزشتہ سال کے جیسی ہوسکتی ہے، نجی شعبہ اپنے وسائل پر بھروسہ کر رہا ہے جبکہ مقامی سرمایہ بھی نمایاں طور پر کم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1230334</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Apr 2024 11:01:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/061100496bb07ce.gif?r=110056" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/061100496bb07ce.gif?r=110056"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
