<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 13:53:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 13:53:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خان یونس سے اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد میں واپسی، مصر میں سیز فائر مذاکرات کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1230417/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسرائیل نے خان یونس سمیت جنوبی غزہ سے اپنی فوجیں بڑی تعداد میں واپس بلا لی ہیں اور اب صرف ایک بریگیڈ کو وہاں رہنے دیا ہے اور دوسری جانب مصر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اس سال کے آغاز سے اسرائیل غزہ میں اپنی فوج کی تعداد میں مسلسل کمی کررہا ہے جہاں اس پر جنگ بندی کے لیے اپنے اتحادیوں بالخصوص امریکا دباؤ ہر گزرتے دن کے بعد بڑھتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی ترجمان نے تعداد میں کمی کی وجہ کے حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ کتنے فوجیوں کو واپس بلایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230387"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چھ ماہ سے زائد عرصے سے جاری اس جنگ میں سیز فائر کے لیے ازسرنو مصر میں مذاکرات کا آغاز ہورہا ہے جس کے لیے اسرائیل اور حماس دونوں نے اپنے نمائندے بھیجنے کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل عالمی برادری کے دباؤ میں نہیں آئے گا اور نہ ہی حماس کی انتہا پسندانہ مطالبات کو منظور کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن حماس کے رہنما باسم نعیم نے کہا ہے کہ نیتن یاہو اپنی ناکامی اور جنگ کے خاتمے پر ان پر عائد کی جانے والی ذمے داری سے بچنا چاہتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مکمل سیز فائر اور جنگ بندی کے لیے ان پر ڈالا گیا امریکی دباؤ ناکافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کا کہنا ہے کہ مکمل اور جامع سیز فائر اور قیدیوں کے تبادلے اور مقبوضہ خطے سے اسرائیلی کے مکمل انخلا کی صورت میں ہی معاہدہ ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ فوجیوں کی تعداد میں کمی اور انہیں واپس بلا کر اسرائیل نے رفح میں کارروائی کا منصوبہ ترک کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکیورٹی کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فوجیوں کو واپس بلانے کا مقصد انہیں آرام دے کر دوبارہ جنگ کے لیے تیار کرنا ہے اور یہ فی الحال کیس نئے آپریشن کا عندیا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230412"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ دنوں میں اسرائیلی بمباری کی زد میں آنے والے خان یونس کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فوجیوں کو شہر کے وسط سے واپس مشرقی اضلاع کی جانب لوٹتے ہوئے دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خان یونس کے شہریوں کو امید ہے کہ اب وہ نسبتاً پرسکون انداز میں عید منا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;55سالہ عماد جودات نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بالآخر یہ ایک خوشی سے بھرپور عید کا دن ہو گا، مقبوضہ فوج خان یونس سے واپس لوٹ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کچھ غیرملکیوں کے قتل کے بعد اب امریکا دباؤ ڈال رہا ہے اور مصر میں امریکا، اسرائیل، حماس اور قطر کے ساتھ بات چیت کا نیا دور شروع ہونے والا ہے، اس بار ہم پرامید ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رفح سرحد کے قریب فلسطینیوں کی آخری جائے پناہ ہے جہاں اس وقت 10 لاکھ سے زائد افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسرائیل نے خان یونس سمیت جنوبی غزہ سے اپنی فوجیں بڑی تعداد میں واپس بلا لی ہیں اور اب صرف ایک بریگیڈ کو وہاں رہنے دیا ہے اور دوسری جانب مصر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اس سال کے آغاز سے اسرائیل غزہ میں اپنی فوج کی تعداد میں مسلسل کمی کررہا ہے جہاں اس پر جنگ بندی کے لیے اپنے اتحادیوں بالخصوص امریکا دباؤ ہر گزرتے دن کے بعد بڑھتا جا رہا ہے۔</p>
<p>فوجی ترجمان نے تعداد میں کمی کی وجہ کے حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ کتنے فوجیوں کو واپس بلایا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230387"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسری جانب چھ ماہ سے زائد عرصے سے جاری اس جنگ میں سیز فائر کے لیے ازسرنو مصر میں مذاکرات کا آغاز ہورہا ہے جس کے لیے اسرائیل اور حماس دونوں نے اپنے نمائندے بھیجنے کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل عالمی برادری کے دباؤ میں نہیں آئے گا اور نہ ہی حماس کی انتہا پسندانہ مطالبات کو منظور کرے گا۔</p>
<p>لیکن حماس کے رہنما باسم نعیم نے کہا ہے کہ نیتن یاہو اپنی ناکامی اور جنگ کے خاتمے پر ان پر عائد کی جانے والی ذمے داری سے بچنا چاہتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مکمل سیز فائر اور جنگ بندی کے لیے ان پر ڈالا گیا امریکی دباؤ ناکافی ہے۔</p>
<p>حماس کا کہنا ہے کہ مکمل اور جامع سیز فائر اور قیدیوں کے تبادلے اور مقبوضہ خطے سے اسرائیلی کے مکمل انخلا کی صورت میں ہی معاہدہ ممکن ہے۔</p>
<p>ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ فوجیوں کی تعداد میں کمی اور انہیں واپس بلا کر اسرائیل نے رفح میں کارروائی کا منصوبہ ترک کردیا ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکیورٹی کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فوجیوں کو واپس بلانے کا مقصد انہیں آرام دے کر دوبارہ جنگ کے لیے تیار کرنا ہے اور یہ فی الحال کیس نئے آپریشن کا عندیا نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230412"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حالیہ دنوں میں اسرائیلی بمباری کی زد میں آنے والے خان یونس کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فوجیوں کو شہر کے وسط سے واپس مشرقی اضلاع کی جانب لوٹتے ہوئے دیکھا۔</p>
<p>خان یونس کے شہریوں کو امید ہے کہ اب وہ نسبتاً پرسکون انداز میں عید منا سکیں گے۔</p>
<p>55سالہ عماد جودات نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بالآخر یہ ایک خوشی سے بھرپور عید کا دن ہو گا، مقبوضہ فوج خان یونس سے واپس لوٹ رہی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کچھ غیرملکیوں کے قتل کے بعد اب امریکا دباؤ ڈال رہا ہے اور مصر میں امریکا، اسرائیل، حماس اور قطر کے ساتھ بات چیت کا نیا دور شروع ہونے والا ہے، اس بار ہم پرامید ہیں۔</p>
<p>رفح سرحد کے قریب فلسطینیوں کی آخری جائے پناہ ہے جہاں اس وقت 10 لاکھ سے زائد افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1230417</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Apr 2024 22:19:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/072211422a8e1b3.jpg?r=221204" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/072211422a8e1b3.jpg?r=221204"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/07221142e9662e0.jpg?r=221204" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/07221142e9662e0.jpg?r=221204"/>
        <media:title>اسرائیلی فوج کی بمباری سے خان یونس میں ہونے والی تباہی کا ایک منظر— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
