<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:41:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:41:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم نے ایک بار پھر اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تشکیل نو کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1230458/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی تشکیل نو کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین کو ای سی سی کا رکن بنادیا، ان کی شمولیت کے بعد ای سی سی ارکان کی تعداد 6 سے بڑھ کر7 ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع  نے بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین وزیر خزانہ برقرار رہیں گے، ای سی سی ارکان میں تجارت، پاور اور پیٹرولیم کے وفاقی وزرا شامل ہیں، اس کے علاوہ اقتصادی امور اور منصوبہ بندی کے وفاقی وزرا کمیٹی ارکان کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 22 مارچ کو وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ کی 7 کمیٹیاں تشکیل دے دیں، جن میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229320"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ ڈویژن کی جانب سے علیحدہ جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے چیئرمین ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگلے ہی روز اقتصادی رابطہ کمیٹی کی سربراہی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو سونپ دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ کے ایک سینیئر رکن نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے ’ڈان‘ کو بتایا کہ وزیراعظم کو خدشہ تھا کہ وہ اپنے مصروف شیڈول اور مصروفیات کی وجہ سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں کی صدارت نہیں کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی تشکیل نو کردی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین کو ای سی سی کا رکن بنادیا، ان کی شمولیت کے بعد ای سی سی ارکان کی تعداد 6 سے بڑھ کر7 ہوگئی۔</p>
<p>ذرائع  نے بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین وزیر خزانہ برقرار رہیں گے، ای سی سی ارکان میں تجارت، پاور اور پیٹرولیم کے وفاقی وزرا شامل ہیں، اس کے علاوہ اقتصادی امور اور منصوبہ بندی کے وفاقی وزرا کمیٹی ارکان کا حصہ ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ 22 مارچ کو وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ کی 7 کمیٹیاں تشکیل دے دیں، جن میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) بھی شامل تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229320"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کابینہ ڈویژن کی جانب سے علیحدہ جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے چیئرمین ہوں گے۔</p>
<p>تاہم اگلے ہی روز اقتصادی رابطہ کمیٹی کی سربراہی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو سونپ دی گئی تھی۔</p>
<p>کابینہ کے ایک سینیئر رکن نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے ’ڈان‘ کو بتایا کہ وزیراعظم کو خدشہ تھا کہ وہ اپنے مصروف شیڈول اور مصروفیات کی وجہ سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں کی صدارت نہیں کر سکیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1230458</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Apr 2024 13:11:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/081310421bfb87a.png?r=131100" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/081310421bfb87a.png?r=131100"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
