<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 20:22:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 20:22:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک اور انسٹاگرام پر آئندہ ماہ سے اے آئی مواد پر لیبل لگانے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1230483/</link>
      <description>&lt;p&gt;فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مالک کمپنی میٹا نے آئندہ ماہ مئی سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹولز کے ذریعے تیار کیے جانے والے مواد پر لیبل لگانے کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں میٹا اپنے تینوں پلیٹ فارمز پر ایڈٹ شدہ تصاویر اور ویڈیوز پر بھی لیبل لگائے گا، جس سے دیکھنے والوں کو آسانی ہوگی کہ مذکورہ مواد اے آئی ہے یا پھر وہ ایڈٹ شدہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا نے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://about.fb.com/news/2024/04/metas-approach-to-labeling-ai-generated-content-and-manipulated-media/"&gt;&lt;strong&gt;بلاگ پوسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا کہ سیفٹی پالیسی کو تبدیل اور بہتر کرتے ہوئے آئندہ ماہ مئی سے ہر طرح کی اے آئی تصاویر اور ویڈیوز پر لیبل لگایا جائے گا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار شدہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ایڈٹ شدہ یا غلط معلومات پر مبنی ویڈیوز اور تصاویر پر بھی لیبل لگایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1225495"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کے مطابق لیبل لگانے کا فیچر فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز پر پیش کیا جائے گا اور اے آئی کی مدد سے تیار ویڈیوز اور تصاویر کو شناخت کے بعد ان پر لیبل لگایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق صارفین خود بھی اے آئی ٹولز کی مدد سے تیار کردہ ویڈیوز اور تصاویر پر لیبل لگا سکیں گے جب کہ دوسرے صارفین کی نشاندہی پر بھی کمپنی لیبل لگائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا نے بتایا کہ کمپنی کا اے آئی سسٹم ایسی تصاویر اور ویڈیوز کو اپ لوڈ ہونے کچھ عرصے بعد لیبل سے لیس کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت میٹا کے تمام پلیٹ فارمز سمیت انٹرنیٹ پر بہت سارا مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار وائرل ہو رہا ہے اور تمام کمپنیاں ایسے ٹولز بھی پیش کر رہی ہیں، جن کی مدد سے اے آئی مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیس بک نے بھی متعدد ایسے ٹولز پیش کر رکھے ہیں، جن کی مدد سے مواد کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اے آئی مواد کے پھیلاؤ کے بعد بہت سارے افراد تذبذب کا بھی شکار ہیں، وہ حقیقی اور اے آئی ٹولز کے ذریعے تیار کردہ مواد میں فرق نہیں کر پاتے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مالک کمپنی میٹا نے آئندہ ماہ مئی سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹولز کے ذریعے تیار کیے جانے والے مواد پر لیبل لگانے کا اعلان کردیا۔</p>
<p>علاوہ ازیں میٹا اپنے تینوں پلیٹ فارمز پر ایڈٹ شدہ تصاویر اور ویڈیوز پر بھی لیبل لگائے گا، جس سے دیکھنے والوں کو آسانی ہوگی کہ مذکورہ مواد اے آئی ہے یا پھر وہ ایڈٹ شدہ ہے۔</p>
<p>میٹا نے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://about.fb.com/news/2024/04/metas-approach-to-labeling-ai-generated-content-and-manipulated-media/"><strong>بلاگ پوسٹ</strong></a> میں بتایا کہ سیفٹی پالیسی کو تبدیل اور بہتر کرتے ہوئے آئندہ ماہ مئی سے ہر طرح کی اے آئی تصاویر اور ویڈیوز پر لیبل لگایا جائے گا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار شدہ ہیں۔</p>
<p>اسی طرح ایڈٹ شدہ یا غلط معلومات پر مبنی ویڈیوز اور تصاویر پر بھی لیبل لگایا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1225495"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>میٹا کے مطابق لیبل لگانے کا فیچر فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز پر پیش کیا جائے گا اور اے آئی کی مدد سے تیار ویڈیوز اور تصاویر کو شناخت کے بعد ان پر لیبل لگایا جائے گا۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق صارفین خود بھی اے آئی ٹولز کی مدد سے تیار کردہ ویڈیوز اور تصاویر پر لیبل لگا سکیں گے جب کہ دوسرے صارفین کی نشاندہی پر بھی کمپنی لیبل لگائے گی۔</p>
<p>میٹا نے بتایا کہ کمپنی کا اے آئی سسٹم ایسی تصاویر اور ویڈیوز کو اپ لوڈ ہونے کچھ عرصے بعد لیبل سے لیس کرے گا۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت میٹا کے تمام پلیٹ فارمز سمیت انٹرنیٹ پر بہت سارا مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار وائرل ہو رہا ہے اور تمام کمپنیاں ایسے ٹولز بھی پیش کر رہی ہیں، جن کی مدد سے اے آئی مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>فیس بک نے بھی متعدد ایسے ٹولز پیش کر رکھے ہیں، جن کی مدد سے مواد کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اے آئی مواد کے پھیلاؤ کے بعد بہت سارے افراد تذبذب کا بھی شکار ہیں، وہ حقیقی اور اے آئی ٹولز کے ذریعے تیار کردہ مواد میں فرق نہیں کر پاتے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1230483</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Apr 2024 20:19:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/081821553d1f15a.jpg?r=182216" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/081821553d1f15a.jpg?r=182216"/>
        <media:title>—فوٹو: میٹا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
