<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 06:29:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 06:29:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عید پر خواتین کے ہاتھوں کی زینت بننے والی چوڑیاں کیسے بنتی ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1230570/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان بھر میں ماہ مبارک رمضان المبارک اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور لوگ گزشتہ ہفتے سے عید کی خریداریوں میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بھر کی خواتین، لڑکیاں اور کم عمر بچیاں کپڑوں کی خریداری کے بعد اب میچنگ کی چوڑیوں کی خریداری میں مصروف ہیں لیکن ہر کوئی چوڑیوں کی بڑھتی قیمتوں پر نالاں دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ سے سجی سجائی چوڑیاں خرید کر انہیں ہاتھوں کی زینت بنانے والی زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں اس بات سے ناواقف ہوتی ہیں کہ آخر چوڑیاں کتنی محنت کے بعد کس طرح بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کو چوڑیوں کا دارالخلافہ کہا جاتا ہے، جہاں قیام پاکستان سے گھروں میں بھی چوڑیاں بنتی آ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2024/04/661483c709c63.jpg'  alt='  حیدرآباد کی خواتین گھروں پر چوڑیاں بناتی ہیں&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;حیدرآباد کی خواتین گھروں پر چوڑیاں بناتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اب گیس کی بڑھتی قیمتوں، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور حکومت کی جانب سے چھوٹے کاروباری افراد کے لیے سبسڈی کے ختم کیے جانے کی وجہ سے حیدرآباد کی چھوٹی چوڑی فیکٹریاں بند ہوتی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ایجنسی پریس فرانس (&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1826570/delicate-eid-bangles-go-from-furnace-to-forearms"&gt;&lt;strong&gt;اے ایف پی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;) کے مطابق بجلی اور گیس کی مہنگے ہونے اور ان کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے چوڑیوں کا کاروبار مندی کا شکار ہے جب کہ گاہک چوڑیوں کے مہنگے ہونے کی شکایات الگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوڑیوں کے سیٹ کی تیاری میں 12 افراد اپنا حصہ ڈالتے ہیں جو چوڑیوں کو تراشنے، انہیں سجانے اور پیک کرنے سمیت انہیں آگ پر تیار کرنے کا کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2024/04/091554389dadadf.jpg'  alt='  بعض گھروں میں بچے بھی چوڑیاں تیار کرتے ہیں&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بعض گھروں میں بچے بھی چوڑیاں تیار کرتے ہیں—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں لڑکیوں کے ہاتھوں میں سجنے والی چوڑیاں 12 افراد کی محنت کے بعد مارکیٹ پہنچتی ہیں اور خواتین ڈیڑھ سو سے لے کر ایک ہزار روپے فی درجن کے حساب سے اپنی پسند کی چوڑیاں خریدتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدرآباد میں کئی خواتین گھروں میں چوڑیاں تیار کرکے بیوپاریوں کو فروخت کرتی ہیں جب کہ متعدد گھرانوں کے مرد اپنے ہی گھروں میں تیار کردہ چوڑیوں کو خود مارکیٹ میں بیچتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوڑیوں کے کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو ماہانہ 32 ہزار روپے کی اجرت دی جاتی ہے لیکن انہیں سخت گرمی میں آگ کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے اور اگر وہ کام کے دوران پنکھا چلانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں مزید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2024/04/091556170c7dbc6.jpg'  alt='  ابتدائی طور پر چوڑیوں کو آگ پر تیار کیا جاتا ہے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ابتدائی طور پر چوڑیوں کو آگ پر تیار کیا جاتا ہے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدرآباد کے زیادہ تر گھرانوں میں خواتین اپنے بچوں سمیت چوڑیاں تیار کرتی ہیں اور انہیں فروخت کرکے اپنا گھر چلاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدرآباد میں قیام پاکستان کے فوری بعد بھارت کے شہر فیروزآباد سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں نے چوڑیاں بنانے کا اپنا آبائی کاروبار شروع کردیا تھا جو بڑھتے بڑھتے آج چوڑی انڈسٹری کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدرآباد کی چوڑیاں نہ صرف سندھ بھر بلکہ پاکستان بھر میں پسند کی جاتی ہیں لیکن اب جدید دور میں دیگر شہروں میں بھی چوڑیاں تیار کی جانے لگی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2024/04/0915573597bea65.jpg'  alt='  چوڑیاں 150 سے 1000 روپے درجن تک فروخت ہوتی ہیں&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;چوڑیاں 150 سے 1000 روپے درجن تک فروخت ہوتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان بھر میں ماہ مبارک رمضان المبارک اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور لوگ گزشتہ ہفتے سے عید کی خریداریوں میں مصروف ہیں۔</p>
<p>ملک بھر کی خواتین، لڑکیاں اور کم عمر بچیاں کپڑوں کی خریداری کے بعد اب میچنگ کی چوڑیوں کی خریداری میں مصروف ہیں لیکن ہر کوئی چوڑیوں کی بڑھتی قیمتوں پر نالاں دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ سے سجی سجائی چوڑیاں خرید کر انہیں ہاتھوں کی زینت بنانے والی زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں اس بات سے ناواقف ہوتی ہیں کہ آخر چوڑیاں کتنی محنت کے بعد کس طرح بنتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کو چوڑیوں کا دارالخلافہ کہا جاتا ہے، جہاں قیام پاکستان سے گھروں میں بھی چوڑیاں بنتی آ رہی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2024/04/661483c709c63.jpg'  alt='  حیدرآباد کی خواتین گھروں پر چوڑیاں بناتی ہیں&mdash;فوٹو: اے ایف پی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>حیدرآباد کی خواتین گھروں پر چوڑیاں بناتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>لیکن اب گیس کی بڑھتی قیمتوں، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور حکومت کی جانب سے چھوٹے کاروباری افراد کے لیے سبسڈی کے ختم کیے جانے کی وجہ سے حیدرآباد کی چھوٹی چوڑی فیکٹریاں بند ہوتی جا رہی ہیں۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ایجنسی پریس فرانس (<a href="https://www.dawn.com/news/1826570/delicate-eid-bangles-go-from-furnace-to-forearms"><strong>اے ایف پی</strong></a>) کے مطابق بجلی اور گیس کی مہنگے ہونے اور ان کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے چوڑیوں کا کاروبار مندی کا شکار ہے جب کہ گاہک چوڑیوں کے مہنگے ہونے کی شکایات الگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>چوڑیوں کے سیٹ کی تیاری میں 12 افراد اپنا حصہ ڈالتے ہیں جو چوڑیوں کو تراشنے، انہیں سجانے اور پیک کرنے سمیت انہیں آگ پر تیار کرنے کا کام کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2024/04/091554389dadadf.jpg'  alt='  بعض گھروں میں بچے بھی چوڑیاں تیار کرتے ہیں&mdash;فوٹو: اے ایف پی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بعض گھروں میں بچے بھی چوڑیاں تیار کرتے ہیں—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>یوں لڑکیوں کے ہاتھوں میں سجنے والی چوڑیاں 12 افراد کی محنت کے بعد مارکیٹ پہنچتی ہیں اور خواتین ڈیڑھ سو سے لے کر ایک ہزار روپے فی درجن کے حساب سے اپنی پسند کی چوڑیاں خریدتی ہیں۔</p>
<p>حیدرآباد میں کئی خواتین گھروں میں چوڑیاں تیار کرکے بیوپاریوں کو فروخت کرتی ہیں جب کہ متعدد گھرانوں کے مرد اپنے ہی گھروں میں تیار کردہ چوڑیوں کو خود مارکیٹ میں بیچتے ہیں۔</p>
<p>چوڑیوں کے کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو ماہانہ 32 ہزار روپے کی اجرت دی جاتی ہے لیکن انہیں سخت گرمی میں آگ کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے اور اگر وہ کام کے دوران پنکھا چلانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں مزید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2024/04/091556170c7dbc6.jpg'  alt='  ابتدائی طور پر چوڑیوں کو آگ پر تیار کیا جاتا ہے&mdash;فوٹو: اے ایف پی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ابتدائی طور پر چوڑیوں کو آگ پر تیار کیا جاتا ہے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>حیدرآباد کے زیادہ تر گھرانوں میں خواتین اپنے بچوں سمیت چوڑیاں تیار کرتی ہیں اور انہیں فروخت کرکے اپنا گھر چلاتی ہیں۔</p>
<p>حیدرآباد میں قیام پاکستان کے فوری بعد بھارت کے شہر فیروزآباد سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں نے چوڑیاں بنانے کا اپنا آبائی کاروبار شروع کردیا تھا جو بڑھتے بڑھتے آج چوڑی انڈسٹری کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p>حیدرآباد کی چوڑیاں نہ صرف سندھ بھر بلکہ پاکستان بھر میں پسند کی جاتی ہیں لیکن اب جدید دور میں دیگر شہروں میں بھی چوڑیاں تیار کی جانے لگی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2024/04/0915573597bea65.jpg'  alt='  چوڑیاں 150 سے 1000 روپے درجن تک فروخت ہوتی ہیں&mdash;فوٹو: اے ایف پی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>چوڑیاں 150 سے 1000 روپے درجن تک فروخت ہوتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1230570</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Apr 2024 16:05:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/0915505376d3451.jpg?r=155145" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/0915505376d3451.jpg?r=155145"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
