<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 14:57:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 14:57:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں جارحیت، ترکیہ نے اسرائیل پر تجارتی پابندیاں عائد کردیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1230583/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکیہ نے غزہ میں جاری جنگ میں سیز فائر تک اسرائیل کو اشیا کی برآمدات پر پابندی عائد کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سات اپریل کو حماس کی کارروائی کے بعد اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملے سے ترکیہ نے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے فوری سیز فائر کا مطالبہ کیا تھا، نسل کشی پر اسرائیل کے احتساب کی حمایت کی تھی اور اب تک ترکیہ ہزاروں ٹن امداد غزہ بھیج چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حملے کی بھرپور مخالفت اور غزہ کی امداد کے باوجود ترکیہ نے اب تک اسرائیل سے تجارتی روابط برقرار رکھے ہوئے تھے جس پر مقامی سطح پر سخت احتجاج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230527"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی سطح پر سخت مطالبات کے پیش نظر ترکیہ نے اسرائیل پر تجارتی پابندیاں عائد کردی ہیں جس پر اسرائیل نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت کے مطابق لوہا، ماربل، اسٹیل، المونیم، کھاد، تعمیراتی مال اور اشیا، جہازوں کے ایندھن سمیت 54 کیٹیگریز میں پابندی عائد کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک اسرائیل عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان نہیں کرتا اور غزہ کی پٹی پر بلاروک ٹوک انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی نہیں بناتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر اسرائیل کے وزیر خارجہ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکیہ نے یکطرفہ بنیادوں پر اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خارجہ یزرائیل کاٹز نے کہا کہ صدر طیب اردوان حماس کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مرتبہ پھر ترکیہ کے لوگوں کے مفادات کو قربان کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی ترکیہ اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے ملکوں سے سفیر واپس بلاتے ہوئے الزامات لگانے کا سلسلہ جاری رکھا لیکن یہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل کے خلاف ترکیہ کا سب سے بڑا اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکیہ نے غزہ میں جاری جنگ میں سیز فائر تک اسرائیل کو اشیا کی برآمدات پر پابندی عائد کردی ہے۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سات اپریل کو حماس کی کارروائی کے بعد اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملے سے ترکیہ نے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے فوری سیز فائر کا مطالبہ کیا تھا، نسل کشی پر اسرائیل کے احتساب کی حمایت کی تھی اور اب تک ترکیہ ہزاروں ٹن امداد غزہ بھیج چکا ہے۔</p>
<p>اسرائیلی حملے کی بھرپور مخالفت اور غزہ کی امداد کے باوجود ترکیہ نے اب تک اسرائیل سے تجارتی روابط برقرار رکھے ہوئے تھے جس پر مقامی سطح پر سخت احتجاج کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230527"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مقامی سطح پر سخت مطالبات کے پیش نظر ترکیہ نے اسرائیل پر تجارتی پابندیاں عائد کردی ہیں جس پر اسرائیل نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔</p>
<p>وزارت تجارت کے مطابق لوہا، ماربل، اسٹیل، المونیم، کھاد، تعمیراتی مال اور اشیا، جہازوں کے ایندھن سمیت 54 کیٹیگریز میں پابندی عائد کی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک اسرائیل عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان نہیں کرتا اور غزہ کی پٹی پر بلاروک ٹوک انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی نہیں بناتا۔</p>
<p>اس پر اسرائیل کے وزیر خارجہ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکیہ نے یکطرفہ بنیادوں پر اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔</p>
<p>وزیر خارجہ یزرائیل کاٹز نے کہا کہ صدر طیب اردوان حماس کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مرتبہ پھر ترکیہ کے لوگوں کے مفادات کو قربان کررہے ہیں۔</p>
<p>حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی ترکیہ اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے ملکوں سے سفیر واپس بلاتے ہوئے الزامات لگانے کا سلسلہ جاری رکھا لیکن یہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل کے خلاف ترکیہ کا سب سے بڑا اقدام ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1230583</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Apr 2024 19:17:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/09191545599da6b.png?r=191623" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/09191545599da6b.png?r=191623"/>
        <media:title>ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان— فوٹو: فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
