<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 09:07:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 09:07:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک انسٹاگرام جیسی فوٹو ایپ لانچ کرنے کو تیار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1230629/</link>
      <description>&lt;p&gt;ٹک ٹاک ایک فوٹو شیئرنگ ایپ لانچ کرکے سوشل میڈیا  حریف انسٹاگرام کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cge8j2dyg1qo"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق کمپنی نے کہا ہے کہ وہ تصاویر اور متن کے لیے مختص ایک ایپ  پر  کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ صارفین کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ان کی تصویری پوسٹس کو ایک نئی ٹک ٹاک ایپ ’نوٹس‘ پر شیئر کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز  کی ایک دوسرے کے فیچرز  نقل کرنے کی تازہ ترین مثال ہے ، اس سے قبل انسٹاگرام نے 2020 میں ایک ٹک ٹاک جیسا ویڈیو ٹول ’ریلز‘ لانچ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229966"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ فرم ’فورسٹر‘ کے ریسرچ ڈائریکٹر مائیک پرولکس نے بی بی سی کو بتایا کہ سماجی میڈیا پلیٹ فارمز پر نقل کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے انسٹاگرام کی جانب سے  اسنیپ چیٹ کی ’اسٹوریز‘ کا فیچر  کاپی کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اچھی طرح سے نقل کرنے پر  اس نقل  سے  فائدہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، انہوں نے نشاندہی کی کہ ایکس کی طرف سے کیے جانے والا  اسی طرح کا اقدام ناکام ہوگیا  لہذا کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ ریلز کو اپنی ایپ میں مرکزی بنانے پر انسٹاگرام کی توجہ نے پہلے بھی کچھ صارفین کو مایوس کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم کارڈیشین اور کائلی جینر ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے پلیٹ فارم میں تبدیلیوں کا مطالبہ کرنے والی ایک پٹیشن شیئر کی جس میں 2022 میں ایپ کی دیگر خصوصیات پر ریلز کو فروغ  دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سخت ردعمل کے بعد انسٹاگرام نے یہ تبدیلیاں منسوخ کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک  کا کہنا ہے کہ انہوں  نے نوٹس ایپ کے ڈیزائن کو حتمی شکل نہیں دی ہے اور نہ ہی  ریلیز کی تاریخ کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن کچھ صارفین کو موصول ہونے والی اطلاعات سے پتا چلتا ہے کہ ایپ صارفین کو فوٹو پوسٹس، اپ لوڈ یا شیئر کرنے دے گی اور لوگوں کو آوازوں اور فلٹرز کے ساتھ تصاویر کی ایک سیریز پوسٹ کرنے کی اجازت بھی فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا کنسلٹنٹ میٹ نوارا نے کہا کہ ان کے خیال میں کوئی اور فوٹو شیئرنگ ایپ ایسی چیز نہیں  ہے جس کے لیے سوشل میڈیا صارفین بےتاب ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایسی ایپس کافی تعداد میں موجود ہیں تو یہاں  اس کی کوئی خاص ڈیمانڈ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ٹک ٹاک ایک فوٹو شیئرنگ ایپ لانچ کرکے سوشل میڈیا  حریف انسٹاگرام کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار  ہے۔</p>
<p>بی بی سی کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cge8j2dyg1qo">رپورٹ</a></strong> کے مطابق کمپنی نے کہا ہے کہ وہ تصاویر اور متن کے لیے مختص ایک ایپ  پر  کام کر رہی ہے۔</p>
<p>کچھ صارفین کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ان کی تصویری پوسٹس کو ایک نئی ٹک ٹاک ایپ ’نوٹس‘ پر شیئر کیا جائے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز  کی ایک دوسرے کے فیچرز  نقل کرنے کی تازہ ترین مثال ہے ، اس سے قبل انسٹاگرام نے 2020 میں ایک ٹک ٹاک جیسا ویڈیو ٹول ’ریلز‘ لانچ کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229966"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تجزیہ فرم ’فورسٹر‘ کے ریسرچ ڈائریکٹر مائیک پرولکس نے بی بی سی کو بتایا کہ سماجی میڈیا پلیٹ فارمز پر نقل کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے انسٹاگرام کی جانب سے  اسنیپ چیٹ کی ’اسٹوریز‘ کا فیچر  کاپی کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اچھی طرح سے نقل کرنے پر  اس نقل  سے  فائدہ ہوتا ہے۔</p>
<p>تاہم، انہوں نے نشاندہی کی کہ ایکس کی طرف سے کیے جانے والا  اسی طرح کا اقدام ناکام ہوگیا  لہذا کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ ریلز کو اپنی ایپ میں مرکزی بنانے پر انسٹاگرام کی توجہ نے پہلے بھی کچھ صارفین کو مایوس کیا تھا۔</p>
<p>کم کارڈیشین اور کائلی جینر ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے پلیٹ فارم میں تبدیلیوں کا مطالبہ کرنے والی ایک پٹیشن شیئر کی جس میں 2022 میں ایپ کی دیگر خصوصیات پر ریلز کو فروغ  دیا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم سخت ردعمل کے بعد انسٹاگرام نے یہ تبدیلیاں منسوخ کردی۔</p>
<p>ٹک ٹاک  کا کہنا ہے کہ انہوں  نے نوٹس ایپ کے ڈیزائن کو حتمی شکل نہیں دی ہے اور نہ ہی  ریلیز کی تاریخ کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>لیکن کچھ صارفین کو موصول ہونے والی اطلاعات سے پتا چلتا ہے کہ ایپ صارفین کو فوٹو پوسٹس، اپ لوڈ یا شیئر کرنے دے گی اور لوگوں کو آوازوں اور فلٹرز کے ساتھ تصاویر کی ایک سیریز پوسٹ کرنے کی اجازت بھی فراہم کرے گی۔</p>
<p>سوشل میڈیا کنسلٹنٹ میٹ نوارا نے کہا کہ ان کے خیال میں کوئی اور فوٹو شیئرنگ ایپ ایسی چیز نہیں  ہے جس کے لیے سوشل میڈیا صارفین بےتاب ہوں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایسی ایپس کافی تعداد میں موجود ہیں تو یہاں  اس کی کوئی خاص ڈیمانڈ نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1230629</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Apr 2024 12:17:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/111211037ae83d6.png?r=121111" type="image/png" medium="image" height="424" width="707">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/111211037ae83d6.png?r=121111"/>
        <media:title>فوٹو: بی بی سی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
