<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 11:26:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 11:26:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر خزانہ کی امریکا روانگی سے قبل وزیراعظم سے ملاقات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1230694/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور انہیں اپنے دورہ امریکا کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1827127/finance-minister-aurangzeb-briefs-premier-before-maiden-us-sojourn"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آرہا ہے جب پاکستان عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ نیا معاہدہ کرنے جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے ملاقات میں وزیراعظم کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کے ساتھ ملاقاتوں کے شیڈول کے حوالے سے بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کی ٹیم  کے ہمراہ محمد اورنگزیب آئی ایم ایف کے ساتھ ملاقات میں 6 ارب سے 8 ارب ڈالر کے نئے پیکج کے حوالے سے گفتگو کا آغاز کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے مرکزی وزارتی ملاقاتیں 17 تا 19 اپریل کے درمیان ہوں گی، جبکہ دیگر ایونٹس کا انعقاد 15 تا 20 اپریل کے دوران ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب اور ان کی ٹیم کے ممبران آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سربراہان سمیت دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے سینئر عہدیداران اور چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، ترکیہ اور دیگر حلیف ممالک کے وزرا خزانہ سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228330"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ پاکستان کی مختلف ملاقاتوں میں نمائندگی کے علاوہ امریکی آفیشلز سے بھی ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کو ابھی بھی کچھ اہم ترین مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے، اور تصدیق کی کہ پاکستان قرض کے نئے معاہدے میں داخل ہونے جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سربراہ آئی ایم ایف کی جانب سے پہلی توثیق ہے کہ  پاکستان اس ماہ کے اواخر میں 3 ارب کے اسٹینڈ بائی معاہدے کو مکمل کرنے کے بعد ایک اور معاہدے کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلانٹک کونسل نامی تھِنک ٹینک سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ٹیکس بیس، مالدار طبقوں کا معاشی بحالی کے لیے کردار، مجموعی اخراجات اور شفافیت پیدا کرنے جیسے عوامل کا حل تلاش کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹالینا جارجیوا نے یہ توثیق بھی کی کہ پاکستان مالیاتی فنڈ کے ساتھ موجودہ پروگرام پر کامیابی سے مکمل درآمد کررہا ہے اور معاشی صورتحال کچھ بہتر ہے، جبکہ ذرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آئی ایم ایف کا چوتھا سب سے مقروض ملک ہے، اور واجب الادا رقم کا حجم 7 ارب 72 کروڑ ڈالر ہے،  نئے معاہدے پر دستخط کی صورت میں یہ اس کا 24واں بیل آؤٹ پیکج ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور انہیں اپنے دورہ امریکا کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1827127/finance-minister-aurangzeb-briefs-premier-before-maiden-us-sojourn"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آرہا ہے جب پاکستان عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ نیا معاہدہ کرنے جا رہا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے ملاقات میں وزیراعظم کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کے ساتھ ملاقاتوں کے شیڈول کے حوالے سے بتایا۔</p>
<p>ماہرین کی ٹیم  کے ہمراہ محمد اورنگزیب آئی ایم ایف کے ساتھ ملاقات میں 6 ارب سے 8 ارب ڈالر کے نئے پیکج کے حوالے سے گفتگو کا آغاز کریں گے۔</p>
<p>اس حوالے سے مرکزی وزارتی ملاقاتیں 17 تا 19 اپریل کے درمیان ہوں گی، جبکہ دیگر ایونٹس کا انعقاد 15 تا 20 اپریل کے دوران ہوگا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب اور ان کی ٹیم کے ممبران آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سربراہان سمیت دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے سینئر عہدیداران اور چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، ترکیہ اور دیگر حلیف ممالک کے وزرا خزانہ سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1228330"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وہ پاکستان کی مختلف ملاقاتوں میں نمائندگی کے علاوہ امریکی آفیشلز سے بھی ملاقات کریں گے۔</p>
<p>دریں اثناء آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کو ابھی بھی کچھ اہم ترین مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے، اور تصدیق کی کہ پاکستان قرض کے نئے معاہدے میں داخل ہونے جارہا ہے۔</p>
<p>یہ سربراہ آئی ایم ایف کی جانب سے پہلی توثیق ہے کہ  پاکستان اس ماہ کے اواخر میں 3 ارب کے اسٹینڈ بائی معاہدے کو مکمل کرنے کے بعد ایک اور معاہدے کا خواہاں ہے۔</p>
<p>اٹلانٹک کونسل نامی تھِنک ٹینک سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ٹیکس بیس، مالدار طبقوں کا معاشی بحالی کے لیے کردار، مجموعی اخراجات اور شفافیت پیدا کرنے جیسے عوامل کا حل تلاش کرنا ہے۔</p>
<p>کرسٹالینا جارجیوا نے یہ توثیق بھی کی کہ پاکستان مالیاتی فنڈ کے ساتھ موجودہ پروگرام پر کامیابی سے مکمل درآمد کررہا ہے اور معاشی صورتحال کچھ بہتر ہے، جبکہ ذرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان آئی ایم ایف کا چوتھا سب سے مقروض ملک ہے، اور واجب الادا رقم کا حجم 7 ارب 72 کروڑ ڈالر ہے،  نئے معاہدے پر دستخط کی صورت میں یہ اس کا 24واں بیل آؤٹ پیکج ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1230694</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Apr 2024 12:20:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبالسید عرفان رضا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/13110226d80e31f.png?r=120949" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/13110226d80e31f.png?r=120949"/>
        <media:title>—فوٹو: پی پی آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
