<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 07:06:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 07:06:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے زیرِقبضہ بحری جہاز پر موجود پاکستانی شہریوں کو چھوڑنے کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1230965/</link>
      <description>&lt;p&gt;تہران نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں آبنائے ہرمز سے قبضے میں لیے گئے پرتگالی  جہاز پر موجود پاکستانی شہریوں کو چھوڑنے کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1827924/tehran-to-release-pakistanis-on-board-seized-vessel"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز ایرانی حکومت نے بحری جہاز ایم ایس سی ایریز میں سوار پاکستانی شہریوں کو چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے حوالے سے ایران کا دعویٰ ہے کہ اس بحری جہاز کا تعلق اسرائیل سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ آئندہ چند دنوں میں پاکستانی شہریوں کی رہائی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ’ایم ایس سی‘ ایریز کو گارٹل شپنگ سے لیز پر لیا گیا تھا جوکہ زوڈیاک میری ٹائم سے وابستہ ہے، زوڈیاک جزوی طور پر اسرائیلی تاجر ایال اوفر کی ملکیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230715"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ زیرِقبضہ بحری جہاز میں کتنے پاکستانی شہری سوار تھے لیکن میڈیا ذرائع کے مطابق بحری جہاز کا چیف آپریٹنگ آفیسر محمد عدنان عزیز اور عملے کے ایک فرد کا تعلق پاکستان سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے جہاز کو ’سمندری قوانین کی خلاف ورزی کرنے‘ پر قبضے میں لیا تو اس وقت اس جہاز میں کم از کم 25 افراد سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ممکنہ طور پر پاکستانی شہریوں کو ’دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کے فریم ورک کے تحت‘ رہا کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب رائٹرز کے مطابق پرتگال کے وزیرخارجہ نے گزشتہ روز ایرانی سفیر کو طلب کیا اور ایم ایس سی ایریز کی فوری چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ نے ایرانی سفیر سے ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا کہ وہ ’اس رسمی اقدام کے نتائج کا انتظار کریں گے اور ان نتائج پر انحصار کرتے ہوئے کسی بھی طرح کے اضافی اقدامات پر غور کریں گے‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تہران نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں آبنائے ہرمز سے قبضے میں لیے گئے پرتگالی  جہاز پر موجود پاکستانی شہریوں کو چھوڑنے کی منظوری دے دی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1827924/tehran-to-release-pakistanis-on-board-seized-vessel">رپورٹ</a></strong> کے مطابق سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز ایرانی حکومت نے بحری جہاز ایم ایس سی ایریز میں سوار پاکستانی شہریوں کو چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے حوالے سے ایران کا دعویٰ ہے کہ اس بحری جہاز کا تعلق اسرائیل سے ہے۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ آئندہ چند دنوں میں پاکستانی شہریوں کی رہائی متوقع ہے۔</p>
<p>خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ’ایم ایس سی‘ ایریز کو گارٹل شپنگ سے لیز پر لیا گیا تھا جوکہ زوڈیاک میری ٹائم سے وابستہ ہے، زوڈیاک جزوی طور پر اسرائیلی تاجر ایال اوفر کی ملکیت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230715"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگرچہ یہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ زیرِقبضہ بحری جہاز میں کتنے پاکستانی شہری سوار تھے لیکن میڈیا ذرائع کے مطابق بحری جہاز کا چیف آپریٹنگ آفیسر محمد عدنان عزیز اور عملے کے ایک فرد کا تعلق پاکستان سے ہے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے جہاز کو ’سمندری قوانین کی خلاف ورزی کرنے‘ پر قبضے میں لیا تو اس وقت اس جہاز میں کم از کم 25 افراد سوار تھے۔</p>
<p>سفارتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ممکنہ طور پر پاکستانی شہریوں کو ’دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کے فریم ورک کے تحت‘ رہا کیا جائے گا۔</p>
<p>دوسری جانب رائٹرز کے مطابق پرتگال کے وزیرخارجہ نے گزشتہ روز ایرانی سفیر کو طلب کیا اور ایم ایس سی ایریز کی فوری چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>وزارت خارجہ نے ایرانی سفیر سے ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا کہ وہ ’اس رسمی اقدام کے نتائج کا انتظار کریں گے اور ان نتائج پر انحصار کرتے ہوئے کسی بھی طرح کے اضافی اقدامات پر غور کریں گے‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1230965</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Apr 2024 09:52:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/170937226f4fe50.jpg?r=093754" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/170937226f4fe50.jpg?r=093754"/>
        <media:title>آئندہ چند دنوں میں پاکستانی شہریوں کی رہائی متوقع ہے—تصویر: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
