<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 12:10:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 12:10:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سابق انٹیلیجنس چیف کے خلاف الزامات کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1231051/</link>
      <description>&lt;p&gt;فوج نے مبینہ طور پر آئی ایس آئی کے سابق  لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1828131"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق بدھ کو نشر ہونے والی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ کمیٹی فوج نے خود احتسابی کے طور پر تشکیل دی تھی اور اس کی سربراہی ایک حاضر سروس میجر جنرل کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ یہ کمیٹی سپریم کورٹ اور وزارت دفاع کی ہدایات کی روشنی میں تشکیل دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایک نجی ہاؤسنگ اسکیم ٹاپ سٹی کی انتظامیہ نے سابق آئی ایس آئی چیف کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اس کے مالک معیز خان کے دفاتر اور رہائش گاہ پر چھاپے کا منصوبہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216294"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1215805"&gt;8 نومبر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو سپریم کورٹ نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک سے کہا تھا کہ وہ سابق لیفٹیننٹ جنرل  اور ان کے معاونین کے خلاف اپنی شکایات کے ازالے کے لیے وزارت دفاع سمیت متعلقہ حلقوں سے رجوع کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نئی تشکیل شدہ انکوائری کمیٹی اپنے نتائج کی روشنی میں رپورٹ تیار کرے گی اور اسے متعلقہ حکام کو پیش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں 15 نومبر کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہو گئے تو یہ ملکی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آبزرویشن اس وقت سامنے آئی جب عدالت عظمیٰ نے 8 نومبر کو آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت ٹاپ سٹی ہاؤسنگ اسکیم کے مالک معیز احمد خان کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فوج نے مبینہ طور پر آئی ایس آئی کے سابق  لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی  ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1828131">رپورٹ</a></strong> کے مطابق بدھ کو نشر ہونے والی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ کمیٹی فوج نے خود احتسابی کے طور پر تشکیل دی تھی اور اس کی سربراہی ایک حاضر سروس میجر جنرل کریں گے۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ یہ کمیٹی سپریم کورٹ اور وزارت دفاع کی ہدایات کی روشنی میں تشکیل دی گئی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ ایک نجی ہاؤسنگ اسکیم ٹاپ سٹی کی انتظامیہ نے سابق آئی ایس آئی چیف کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اس کے مالک معیز خان کے دفاتر اور رہائش گاہ پر چھاپے کا منصوبہ بنایا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1216294"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گزشتہ سال <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1215805">8 نومبر</a></strong> کو سپریم کورٹ نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک سے کہا تھا کہ وہ سابق لیفٹیننٹ جنرل  اور ان کے معاونین کے خلاف اپنی شکایات کے ازالے کے لیے وزارت دفاع سمیت متعلقہ حلقوں سے رجوع کرے۔</p>
<p>رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نئی تشکیل شدہ انکوائری کمیٹی اپنے نتائج کی روشنی میں رپورٹ تیار کرے گی اور اسے متعلقہ حکام کو پیش کرے گی۔</p>
<p>بعد ازاں 15 نومبر کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہو گئے تو یہ ملکی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں گے۔</p>
<p>یہ آبزرویشن اس وقت سامنے آئی جب عدالت عظمیٰ نے 8 نومبر کو آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت ٹاپ سٹی ہاؤسنگ اسکیم کے مالک معیز احمد خان کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1231051</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Apr 2024 10:29:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبارویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/1810061424718ff.jpg?r=100627" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="757">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/1810061424718ff.jpg?r=100627"/>
        <media:title>سابق لیفٹننٹ جنرل فیض حمید— فائل فوٹو:آئی ایس پی آر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
