<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 14:34:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 14:34:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’ایکس‘ پر پابندی ختم کی جائے، خواجہ سعد رفیق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1231057/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ  مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر (ایکس) پر  پابندی  ختم  کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹر پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کے دور میں لگائی گئی اس پابندی کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جگ ہنسائی سے بچا جائے اور سیاست کا مقابلہ  صرف سیاست سے ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/04/18110635152e2d1.png?r=110946'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزارت داخلہ اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن (پی ٹی اے) کی جانب سے رپورٹس جمع کرائے جانے کے باوجود  ٹوئٹر کی سروس بحالی سے متعلق فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ ماہ 2 مئی جب کہ سندھ ہائی کورٹ نے بھی آئندہ ماہ 9 مئی تک سماعت ملتوی کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معزز عدالتوں کی جانب سے کیس کی سماعت ملتوی کیے جانے کے بعد ٹوئٹر کی سروس مزید تقریبا ایک ماہ تک بحال نہیں ہوسکے گی، کیوں کہ دونوں عدالتوں نے حکومت کو اس بار ایکس کی سروس بحال کرنے کے احکامات جاری نہیں کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں عدالتوں میں الگ الگ درخواست گزاروں کی جانب سے ٹوئٹر کی سروس کی بندش کے خلاف درخواستیں دائر ہیں، جن پر رواں برس فروری سے سماعتیں جاری ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی اے اور وزارت داخلہ سے 17 اپریل تک حتمی رپورٹ طلب کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزارت داخلہ نے جواب جمع کرادیا تھا، جس کے مطابق ایکس کی پاکستان میں بندش خلاف قانون نہیں اور مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ کی سروس کو بند کرنے سے کسی کا بنیادی حق تلف نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان بھر میں 17 فروری سے ٹوئٹر کی سروس معطل ہے اور گزشتہ دو ماہ کے دوران متعدد بار اس کی سروس کو جزوی طور پر بحال کیا گیا لیکن مکمل طور پر اسے آپریشنل نہ کیا جا سکا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ  مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر (ایکس) پر  پابندی  ختم  کی جائے۔</p>
<p>ٹوئٹر پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کے دور میں لگائی گئی اس پابندی کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔</p>
<p>خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جگ ہنسائی سے بچا جائے اور سیاست کا مقابلہ  صرف سیاست سے ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/04/18110635152e2d1.png?r=110946'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزارت داخلہ اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن (پی ٹی اے) کی جانب سے رپورٹس جمع کرائے جانے کے باوجود  ٹوئٹر کی سروس بحالی سے متعلق فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ ماہ 2 مئی جب کہ سندھ ہائی کورٹ نے بھی آئندہ ماہ 9 مئی تک سماعت ملتوی کردی تھی۔</p>
<p>معزز عدالتوں کی جانب سے کیس کی سماعت ملتوی کیے جانے کے بعد ٹوئٹر کی سروس مزید تقریبا ایک ماہ تک بحال نہیں ہوسکے گی، کیوں کہ دونوں عدالتوں نے حکومت کو اس بار ایکس کی سروس بحال کرنے کے احکامات جاری نہیں کیے۔</p>
<p>دونوں عدالتوں میں الگ الگ درخواست گزاروں کی جانب سے ٹوئٹر کی سروس کی بندش کے خلاف درخواستیں دائر ہیں، جن پر رواں برس فروری سے سماعتیں جاری ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی اے اور وزارت داخلہ سے 17 اپریل تک حتمی رپورٹ طلب کی تھی۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزارت داخلہ نے جواب جمع کرادیا تھا، جس کے مطابق ایکس کی پاکستان میں بندش خلاف قانون نہیں اور مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ کی سروس کو بند کرنے سے کسی کا بنیادی حق تلف نہیں ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ پاکستان بھر میں 17 فروری سے ٹوئٹر کی سروس معطل ہے اور گزشتہ دو ماہ کے دوران متعدد بار اس کی سروس کو جزوی طور پر بحال کیا گیا لیکن مکمل طور پر اسے آپریشنل نہ کیا جا سکا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1231057</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Apr 2024 11:28:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/18111807b8e4ceb.png?r=111823" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/18111807b8e4ceb.png?r=111823"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
