<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 15:03:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 15:03:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو میزائل پرزے دینے کا الزام، امریکا نے 4 کمپنیوں پر پابندی عائد کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1231239/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ تعاون پر 4 کمپنیوں پرپابندی عائد کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں میں سے 3 کا تعلق چین اور ایک کا بیلارس سے ہے، انہوں نے کہا کہ پابندیوں کا مقصد کسی کو سزا دینا نہیں ہے بلکہ رویے کی تبدیلی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رویے تبدیل کرنے سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ نے کوئی وضاحت نہیں کی کہ آیا ان کا اشارہ کمپنیوں کی طرف ہے یا پاکستان کے رویے کی جانب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.state.gov/u-s-imposes-sanctions-on-suppliers-to-pakistans-ballistic-missile-program/"&gt;بیان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ایگزیکٹیو آرڈر (ای او) 13382 کے تحت 4 اداروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ یہ حکم نامہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان کی ترسیل کے ذرائع کو ہدف بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق  یہ ادارے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو میزائل سے متعلق آلات کی فراہمی کے لیے کام کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پابندیوں کے بعد ان کمپنیوں کے امریکا میں اثاثے منجمد کردئیے گئے، اس کے علاوہ ان کمپنیوں سے وابستہ افراد، جیسے ملازمین یا ایگزیکٹوز، کو کسی بھی وجہ سے امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ تعاون پر 4 کمپنیوں پرپابندی عائد کردی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں میں سے 3 کا تعلق چین اور ایک کا بیلارس سے ہے، انہوں نے کہا کہ پابندیوں کا مقصد کسی کو سزا دینا نہیں ہے بلکہ رویے کی تبدیلی ہے۔</p>
<p>تاہم رویے تبدیل کرنے سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ نے کوئی وضاحت نہیں کی کہ آیا ان کا اشارہ کمپنیوں کی طرف ہے یا پاکستان کے رویے کی جانب ہے۔</p>
<p>امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.state.gov/u-s-imposes-sanctions-on-suppliers-to-pakistans-ballistic-missile-program/">بیان</a></strong> کے مطابق ایگزیکٹیو آرڈر (ای او) 13382 کے تحت 4 اداروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ یہ حکم نامہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان کی ترسیل کے ذرائع کو ہدف بناتا ہے۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق  یہ ادارے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو میزائل سے متعلق آلات کی فراہمی کے لیے کام کر چکے ہیں۔</p>
<p>پابندیوں کے بعد ان کمپنیوں کے امریکا میں اثاثے منجمد کردئیے گئے، اس کے علاوہ ان کمپنیوں سے وابستہ افراد، جیسے ملازمین یا ایگزیکٹوز، کو کسی بھی وجہ سے امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1231239</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Apr 2024 16:13:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/200826492965d19.jpg?r=083316" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/200826492965d19.jpg?r=083316"/>
        <media:title>فائل فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
