<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:41:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:41:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوٹیوب پر بھی اے آئی ٹولز فیچرز پیش کیے جانے کا امکان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1231289/</link>
      <description>&lt;p&gt;میٹا کی جانب سے اپنے تمام پلیٹ فارمز، واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹ متعارف کرائے جانے کے بعد اسٹریمنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر بھی ایسے بوٹس متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک سال کے دوران بہت سارے پلیٹ فارمز اور آپریٹنگ سسٹمز کی جانب سے اے آئی ٹولز فیچرز پیش کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے یا پھر پلیٹ فارمز کی جانب سے ایسے ٹولز پیش کیے جانے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یوٹیوب نے بھی نومبر 2023 میں ہی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://support.google.com/youtube/thread/242690316/testing-new-experimental-generative-ai-features?hl=en"&gt;&lt;strong&gt;اعلان کیا تھا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کہ اس نے ویب سائٹ پر اے آئی ٹولز کی آزمائش شروع کردی ہے، تاہم اب اے آئی ٹولز کو بڑے پیمانے پر آزمائش کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق یوٹیوب پر اے آئی اسسٹنٹ ٹول پیش کیا جائے گا، جہاں صارفین میسیجز کرکے معلومات حاصل کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ فیچر کے تحت یوٹیوب کی ایپلی کیشن اور ڈیسک ٹاپ پر آسک (Ask AI)
کا ٹیب دیا جائے گا، جہاں صارفین تحریری طور پر اپنے سوالات لکھ کر معلومات حاصل کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی مذکورہ فیچر کے تحت ممکنہ طور پر صارفین کو آواز (وائس) کے ذریعے بھی سوالات یا معلومات حاصل کرنے کا اختیار دیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیچر کے تحت صارفین ہر ویڈیو سے متعلق بھی سوال اور معلومات حاصل کرسکیں گے، یعنی وہ پوچھ سکیں گے، مذکورہ ویڈیو میں شامل مواد حقیقی ہے یا اے آئی ہے اور اسے کہاں شوٹ کیا گیا، وغیرہ، جیسے سوالات بھی کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکنہ طور پر اگلے چند ماہ میں یوٹیوب پر مذکورہ فیچر کو بڑے پیمانے پر آزمائش کے لیے پیش کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>میٹا کی جانب سے اپنے تمام پلیٹ فارمز، واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹ متعارف کرائے جانے کے بعد اسٹریمنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر بھی ایسے بوٹس متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>گزشتہ ایک سال کے دوران بہت سارے پلیٹ فارمز اور آپریٹنگ سسٹمز کی جانب سے اے آئی ٹولز فیچرز پیش کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے یا پھر پلیٹ فارمز کی جانب سے ایسے ٹولز پیش کیے جانے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>اگرچہ یوٹیوب نے بھی نومبر 2023 میں ہی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://support.google.com/youtube/thread/242690316/testing-new-experimental-generative-ai-features?hl=en"><strong>اعلان کیا تھا</strong></a> کہ اس نے ویب سائٹ پر اے آئی ٹولز کی آزمائش شروع کردی ہے، تاہم اب اے آئی ٹولز کو بڑے پیمانے پر آزمائش کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق یوٹیوب پر اے آئی اسسٹنٹ ٹول پیش کیا جائے گا، جہاں صارفین میسیجز کرکے معلومات حاصل کر سکیں گے۔</p>
<p>مذکورہ فیچر کے تحت یوٹیوب کی ایپلی کیشن اور ڈیسک ٹاپ پر آسک (Ask AI)
کا ٹیب دیا جائے گا، جہاں صارفین تحریری طور پر اپنے سوالات لکھ کر معلومات حاصل کر سکیں گے۔</p>
<p>ساتھ ہی مذکورہ فیچر کے تحت ممکنہ طور پر صارفین کو آواز (وائس) کے ذریعے بھی سوالات یا معلومات حاصل کرنے کا اختیار دیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>فیچر کے تحت صارفین ہر ویڈیو سے متعلق بھی سوال اور معلومات حاصل کرسکیں گے، یعنی وہ پوچھ سکیں گے، مذکورہ ویڈیو میں شامل مواد حقیقی ہے یا اے آئی ہے اور اسے کہاں شوٹ کیا گیا، وغیرہ، جیسے سوالات بھی کر سکیں گے۔</p>
<p>ممکنہ طور پر اگلے چند ماہ میں یوٹیوب پر مذکورہ فیچر کو بڑے پیمانے پر آزمائش کے لیے پیش کردیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1231289</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Apr 2024 22:23:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/202028084a8fcdf.jpg?r=202855" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/202028084a8fcdf.jpg?r=202855"/>
        <media:title>—فوٹو: یوٹیوب
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
