<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 09:38:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 09:38:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر قسط کی منظوری کیلئے آئی ایم ایف بورڈ اجلاس 29 اپریل کو ہوگا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1231454/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 29 اپریل کو ہوگا، جس میں پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) معاہدے کے آخری جائزے کی منظوری دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1829119/imf-board-to-approve-11bn-on-29th"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سفارتی ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ایونٹ کیلنڈر کے مطابق جائزہ اجلاس 29 اپریل کو صبح 10 بجے ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 اپریل کو آئی ایم ایف نے اجلاس کا شیڈول جاری کردیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ 29 اپریل کو نائجریا کے قرض پروگرام کا جائزہ لیا جائے گا، بعد ازاں یکم مئی کو ہونے والے اجلاس میں کریباتی اور مونٹی نیگرو کے پروگراموں کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم پاکستان کا نام فہرست میں شامل نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام دونوں کے سابقہ ​​بیانات میں عندیہ دیا گیا تھا کہ بورڈ 29 اپریل کو اجلاس میں ایس بی اے پروگرام کے تحت ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی آخری قسط جاری کرنے کی منظوری دے گا، جس کا معاہدہ جون 2023 میں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کیلنڈر کے بعد پاکستان میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا تھا کہ ملک بورڈ کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے، کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ پاکستان کو آخری قسط کی وصولی کے لیے دوبارہ مذاکرات کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231238"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے سابق عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں، مزید کہا کہ آئی ایم ایف اس طریقے سے کام نہیں کرتا، اگر کسی پروگرام میں تاخیر کا فیصلہ ہوتا ہے، تو یہ خفیہ طور پر نہیں، کھلے عام کیا جاتا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی تھی کہ اگرچہ شیڈول کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اجلاس میں تاخیر ہو سکتی ہے، لیکن اس کا عام طور پر اسٹاف لیول ایگریمنٹ کے بعد کسی پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 مارچ کو پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول کا معاہدہ طے پا گیا تھا، اس پیش رفت کے نتیجے میں پاکستان کے لیے قرض کی آخری قسط کی مد میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالر جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگئی تھی، پاکستان کو 2 اقساط کی مد میں آئی ایم ایف سےایک ارب 90 کروڑ ڈالرز مل چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 29 اپریل کو ہوگا، جس میں پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) معاہدے کے آخری جائزے کی منظوری دی جائے گی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1829119/imf-board-to-approve-11bn-on-29th"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق سفارتی ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ایونٹ کیلنڈر کے مطابق جائزہ اجلاس 29 اپریل کو صبح 10 بجے ہوگا۔</p>
<p>20 اپریل کو آئی ایم ایف نے اجلاس کا شیڈول جاری کردیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ 29 اپریل کو نائجریا کے قرض پروگرام کا جائزہ لیا جائے گا، بعد ازاں یکم مئی کو ہونے والے اجلاس میں کریباتی اور مونٹی نیگرو کے پروگراموں کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم پاکستان کا نام فہرست میں شامل نہیں تھا۔</p>
<p>آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام دونوں کے سابقہ ​​بیانات میں عندیہ دیا گیا تھا کہ بورڈ 29 اپریل کو اجلاس میں ایس بی اے پروگرام کے تحت ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی آخری قسط جاری کرنے کی منظوری دے گا، جس کا معاہدہ جون 2023 میں ہوا تھا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کیلنڈر کے بعد پاکستان میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا تھا کہ ملک بورڈ کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے، کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ پاکستان کو آخری قسط کی وصولی کے لیے دوبارہ مذاکرات کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231238"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عالمی بینک کے سابق عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں، مزید کہا کہ آئی ایم ایف اس طریقے سے کام نہیں کرتا، اگر کسی پروگرام میں تاخیر کا فیصلہ ہوتا ہے، تو یہ خفیہ طور پر نہیں، کھلے عام کیا جاتا ہے ۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی تھی کہ اگرچہ شیڈول کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اجلاس میں تاخیر ہو سکتی ہے، لیکن اس کا عام طور پر اسٹاف لیول ایگریمنٹ کے بعد کسی پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔</p>
<p>20 مارچ کو پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول کا معاہدہ طے پا گیا تھا، اس پیش رفت کے نتیجے میں پاکستان کے لیے قرض کی آخری قسط کی مد میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالر جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگئی تھی، پاکستان کو 2 اقساط کی مد میں آئی ایم ایف سےایک ارب 90 کروڑ ڈالرز مل چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1231454</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Apr 2024 09:35:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/2309322455581b9.jpg?r=093232" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/2309322455581b9.jpg?r=093232"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
