<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 13:55:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 13:55:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو خبردار کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1231539/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ تجارت کرنے والوں کو خبردار کردیا، نائب ترجمان محکمہ خارجہ ویدانت پٹیل نے کہا کہ ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر ممکنہ پابندیاں لگ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.state.gov/briefings/department-press-briefing-april-23-2024/"&gt;پریس ریلیز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق واشنگٹن میں  پریس بریفنگ کے دوران نائب ترجمان محکمہ خارجہ ویدانت پٹیل سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ ایرانی صدر پاکستان کے دورے پر ہیں اور ان کے دورے کے دوران پاکستان اور ایران نے 8 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے اور دو طرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے پر بھی اتفاق کیا، امریکا ان معاہدوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب میں نائب ترجمان محکمہ خارجہ ویدانت پٹیل نے واضح کیا کہ ایران سے تجارت کرنے والوں پر ممکنہ پابندیاں لگ سکتی ہیں، تمام ممالک کو پابندیوں کےممکنہ خطرے سے آگاہ رہنے کا مشورہ دیتے ہیں، تاہم پاکستان خارجہ پالیسی کے تحت ایران کے ساتھ معاملات دیکھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231403"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین اور بیلاروس کمپنیوں پر پابندیوں سے متعلق سوال پر نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ  یہ ادارے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی ترسیل کے ذرائع تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وہ تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی سپلائی کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 22 اپریل کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی 3 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین روزہ دورے کے دوران پاکستان اور ایران کے مابین مختلف جہتوں پر گفتگو ہوئی، ملاقاتوں میں ایران پاک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، زراعت، تجارت، رابطے، توانائی، عوامی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ تجارت کرنے والوں کو خبردار کردیا، نائب ترجمان محکمہ خارجہ ویدانت پٹیل نے کہا کہ ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر ممکنہ پابندیاں لگ سکتی ہیں۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.state.gov/briefings/department-press-briefing-april-23-2024/">پریس ریلیز</a></strong> کے مطابق واشنگٹن میں  پریس بریفنگ کے دوران نائب ترجمان محکمہ خارجہ ویدانت پٹیل سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ ایرانی صدر پاکستان کے دورے پر ہیں اور ان کے دورے کے دوران پاکستان اور ایران نے 8 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے اور دو طرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے پر بھی اتفاق کیا، امریکا ان معاہدوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟</p>
<p>جواب میں نائب ترجمان محکمہ خارجہ ویدانت پٹیل نے واضح کیا کہ ایران سے تجارت کرنے والوں پر ممکنہ پابندیاں لگ سکتی ہیں، تمام ممالک کو پابندیوں کےممکنہ خطرے سے آگاہ رہنے کا مشورہ دیتے ہیں، تاہم پاکستان خارجہ پالیسی کے تحت ایران کے ساتھ معاملات دیکھ سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231403"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چین اور بیلاروس کمپنیوں پر پابندیوں سے متعلق سوال پر نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ  یہ ادارے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی ترسیل کے ذرائع تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وہ تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی سپلائی کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔</p>
<p>واضح رہے کہ 22 اپریل کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی 3 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔</p>
<p>تین روزہ دورے کے دوران پاکستان اور ایران کے مابین مختلف جہتوں پر گفتگو ہوئی، ملاقاتوں میں ایران پاک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، زراعت، تجارت، رابطے، توانائی، عوامی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1231539</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Apr 2024 12:00:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/24090705c37eabf.jpg?r=090717" type="image/jpeg" medium="image" height="422" width="703">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/24090705c37eabf.jpg?r=090717"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
