<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 03:09:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 03:09:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معاشی استحکام کے لیے وفاق اور صوبوں کو قریبی تعلق بنانا پڑے گا، وزیر اعظم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1231571/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی استقامت کے لیے وفاق اور صوبوں کو قریبی تعلق بنانا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ  کابینہ کی صدارت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج میں کراچی آیا اور میں شاہ صاحب کا شکر گزار ہوں، پچھلے دو تین ماہ میں میرا یہاں آنے کا پروگرام بنا مگر کچھ مجبوریوں کے باعث یہ نا ہوسکا، یہاں پر میرا گرم جوشی سے استقبال ہوا، میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ 8 فروری کے انتخابات کے نتیجے میں وفاق میں منقسم مینڈیٹ ملا، سندھ میں پیپلز پارٹی کو اللہ نے بھرپور موقع دیا، بلوچستان میں اتحادی حکومت ہے، پنجاب میں ہمیں مینڈیٹ ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے ہمیں صوبوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے وفاق میں گہرا تعاون اور گہرے تعلق کو پذیرائی دینے کی ضرورت ہے تاکہ مل کر پاکستان کے مسائل کو حل کرسکیں، ہر چیز سوچ کے مطابق پوری نا ہوسکے لیکن  معاشی استحکام کے لیے وفاق اور صوبوں کو قریبی تعلق بنانا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231526"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ مراد علی شاہ سے میرا بھائیوں والا تعلق بن گیا ہے، ہم فوری ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں، سندھ کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، میرا فرض ہے کہ میں اس رابطے کو مضبوط بناؤں مل کر، بعض اوقات ہمیں ایسے فیصلے کرنے ہوں جو ہمیں خود پسند نا ہوں پر ملک کی ترقی کے لیے وہ کرنے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے کہا کہ جیسے غیر ملکی وفود آرہے ہیں تو آنے والوے ہفتوں میں امید کی جاتی ہے کہ ایسے اور وفود آئیں گے سرمایہ کاری کے لیے، پر ضروری ہے کہ ہم میں آپس میں یکسوئی ہو، میں سمجھتا ہوں کہ میرا دورہ صوبہ سندھ کا مقصد ہے کہ میں یہ بتا سکوں کہ میںیہاں حاضر ہوں اور پاکستانی عوام کے لیے مل کر کام کریں گے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ میں اپنی طرف سے سندھ کی طرف سے آپ کو وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دیتا ہوں، جب ہم نے2022 میں شروع کیا تو تب ہمارے پاس بس 15،16 مہینے تھے اب ہمیں سفر کو  آگے بڑھانا ہے، اس وقت سندھ کی نمائندگی بہت زیادہ ہے کابینہ میں، سندھ کے لوگ امید کرتے ہیں کہ سندھ اور وفاقی حکومت ان کی امیدیں پوری کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی استقامت کے لیے وفاق اور صوبوں کو قریبی تعلق بنانا پڑے گا۔</p>
<p>سندھ  کابینہ کی صدارت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج میں کراچی آیا اور میں شاہ صاحب کا شکر گزار ہوں، پچھلے دو تین ماہ میں میرا یہاں آنے کا پروگرام بنا مگر کچھ مجبوریوں کے باعث یہ نا ہوسکا، یہاں پر میرا گرم جوشی سے استقبال ہوا، میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ 8 فروری کے انتخابات کے نتیجے میں وفاق میں منقسم مینڈیٹ ملا، سندھ میں پیپلز پارٹی کو اللہ نے بھرپور موقع دیا، بلوچستان میں اتحادی حکومت ہے، پنجاب میں ہمیں مینڈیٹ ملا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے ہمیں صوبوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے وفاق میں گہرا تعاون اور گہرے تعلق کو پذیرائی دینے کی ضرورت ہے تاکہ مل کر پاکستان کے مسائل کو حل کرسکیں، ہر چیز سوچ کے مطابق پوری نا ہوسکے لیکن  معاشی استحکام کے لیے وفاق اور صوبوں کو قریبی تعلق بنانا پڑے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231526"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ مراد علی شاہ سے میرا بھائیوں والا تعلق بن گیا ہے، ہم فوری ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں، سندھ کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، میرا فرض ہے کہ میں اس رابطے کو مضبوط بناؤں مل کر، بعض اوقات ہمیں ایسے فیصلے کرنے ہوں جو ہمیں خود پسند نا ہوں پر ملک کی ترقی کے لیے وہ کرنے ہوں گے۔</p>
<p>وزیر اعظم نے کہا کہ جیسے غیر ملکی وفود آرہے ہیں تو آنے والوے ہفتوں میں امید کی جاتی ہے کہ ایسے اور وفود آئیں گے سرمایہ کاری کے لیے، پر ضروری ہے کہ ہم میں آپس میں یکسوئی ہو، میں سمجھتا ہوں کہ میرا دورہ صوبہ سندھ کا مقصد ہے کہ میں یہ بتا سکوں کہ میںیہاں حاضر ہوں اور پاکستانی عوام کے لیے مل کر کام کریں گے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔</p>
<p>بعد ازاں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ میں اپنی طرف سے سندھ کی طرف سے آپ کو وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دیتا ہوں، جب ہم نے2022 میں شروع کیا تو تب ہمارے پاس بس 15،16 مہینے تھے اب ہمیں سفر کو  آگے بڑھانا ہے، اس وقت سندھ کی نمائندگی بہت زیادہ ہے کابینہ میں، سندھ کے لوگ امید کرتے ہیں کہ سندھ اور وفاقی حکومت ان کی امیدیں پوری کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1231571</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Apr 2024 14:43:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/24142823ea75a70.png?r=175447" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/24142823ea75a70.png?r=175447"/>
        <media:title>وزیر اعظم شہباز شریف— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
