<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 09:52:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 09:52:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جن ممالک کو بوجھ سمجھ کر کاندھے سے اتارا، آج انہیں دیکھ کر شرمسار ہوتے ہیں، وزیراعظم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1231588/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جن ممالک کو ہم نے بوجھ سمجھ کر اپنے کاندھے سے اتار دیا تھا، آج ہم ان کو دیکھ کر شرمسار ہوتے ہیں، ہمیں اپنی برآمدی صنعت کو مضبوط اور اگلے 5 سال میں برآمدات کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں کاروباری برداری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تاجر برادری سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی کیونکہ آپ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے بعد نئی حکومت آئی ہے، سندھ پیپلز پارٹی ہے، وفاق اور بلوچستان میں اتحادی حکومت ہے، پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حمایت یافتہ حکومت ہے، ہمیں اس سے غرض نہیں کہ کس کی حکومت کہاں ہے، ہمیں اس سے غرض ہونی چاہیے کہ ہمیں اپنی ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر ہم اکٹھے ہو جائیں، اپنی توانائیاں اکٹھی کریں اور اپنے قابل اذہان کو اکٹھا کر کے سمجھیں کہ مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے حل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231571"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں آپ سے بطور وزیراعظم نہیں بلکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر بات کررہا ہوں تاکہ میں آپ کے مشوروں سے اچھی پالیسیاں بنا سکیں اور پاکستان کے لیے دن رات محنت کریں، ہمیں ضرورت ہے کہ برآمدی صنعت کو مضبوط کریں اور تہیہ کریں کہ اگلے 5سال میں برآمدات کو دگنا کریں گے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کریں، زراعت میں انقلاب لے کر آئیں اور اپنے مثبت پہلوؤں کو استعمال کرتے ہوئے اس ملک کو اقوام عالم میں اس کا جائز مقام دلائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے، عصر حاضر کی تاریخ میں بہت مثالیں موجود ہیں، آپ دنیا میں پاکستان کے سفیر ہیں اور ہمیں آج آپ کی ضرورت ہے، ہم چاہتے ہیں ہماری حقیقی صنعتی اور زرعی ترقی ہو، پاکستان کے اندر ہمارے برآمدات دوگنی ہو جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جن ممالک کو ہم نے بوجھ سمجھ کر اپنے کاندھے سے اتار دیا تھا، آج دیکھیں وہ بوجھ کہاں کہاں چلا گیا اور ہم ان کو دیکھ کر شرمسار ہوتے ہیں، یہ عظیم ملک بہت قربانیوں سے بنا ہے اور اب تہیہ کریں کہ پاکستان کو بنانا ہے تو آپ کی بصیرت اور اجتماعی محنت سے یہ ضرور بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نجکاری کا عمل انتہائی شفاف ہو گا اور اس میں بیروکریٹس کی جانب سے کسی بھی قسم کے التوا کی اجازت نہیں دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ 2700ارب روپے عدالتی چارہ جوئی کی وجہ سے پھنسا ہوا ہے، اگر کاروباری برادری کا ہے تو انہیں چلا جانا چاہیے اور اگر نہیں ہے تو دوسرے فریق کو مل جانا چاہیے لیکن کئی سال گزر چکے ہیں اور دونوں طرف کے وکیل ملے ہوئے ہیں جو عدالتوں سے جا کر تاریخ لے لیتے ہیں جبکہ دوسری جانب قرضوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نشست کے دوران کاروباری برادری نے وزیراعظم کو بھارت اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے بھی تعلقات بہتر بنانے کی تجویز پیش کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جن ممالک کو ہم نے بوجھ سمجھ کر اپنے کاندھے سے اتار دیا تھا، آج ہم ان کو دیکھ کر شرمسار ہوتے ہیں، ہمیں اپنی برآمدی صنعت کو مضبوط اور اگلے 5 سال میں برآمدات کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>کراچی میں کاروباری برداری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تاجر برادری سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی کیونکہ آپ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے بعد نئی حکومت آئی ہے، سندھ پیپلز پارٹی ہے، وفاق اور بلوچستان میں اتحادی حکومت ہے، پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حمایت یافتہ حکومت ہے، ہمیں اس سے غرض نہیں کہ کس کی حکومت کہاں ہے، ہمیں اس سے غرض ہونی چاہیے کہ ہمیں اپنی ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر ہم اکٹھے ہو جائیں، اپنی توانائیاں اکٹھی کریں اور اپنے قابل اذہان کو اکٹھا کر کے سمجھیں کہ مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے حل کرنا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231571"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں آپ سے بطور وزیراعظم نہیں بلکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر بات کررہا ہوں تاکہ میں آپ کے مشوروں سے اچھی پالیسیاں بنا سکیں اور پاکستان کے لیے دن رات محنت کریں، ہمیں ضرورت ہے کہ برآمدی صنعت کو مضبوط کریں اور تہیہ کریں کہ اگلے 5سال میں برآمدات کو دگنا کریں گے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کریں، زراعت میں انقلاب لے کر آئیں اور اپنے مثبت پہلوؤں کو استعمال کرتے ہوئے اس ملک کو اقوام عالم میں اس کا جائز مقام دلائیں۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے، عصر حاضر کی تاریخ میں بہت مثالیں موجود ہیں، آپ دنیا میں پاکستان کے سفیر ہیں اور ہمیں آج آپ کی ضرورت ہے، ہم چاہتے ہیں ہماری حقیقی صنعتی اور زرعی ترقی ہو، پاکستان کے اندر ہمارے برآمدات دوگنی ہو جائیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جن ممالک کو ہم نے بوجھ سمجھ کر اپنے کاندھے سے اتار دیا تھا، آج دیکھیں وہ بوجھ کہاں کہاں چلا گیا اور ہم ان کو دیکھ کر شرمسار ہوتے ہیں، یہ عظیم ملک بہت قربانیوں سے بنا ہے اور اب تہیہ کریں کہ پاکستان کو بنانا ہے تو آپ کی بصیرت اور اجتماعی محنت سے یہ ضرور بنے گا۔</p>
<p>انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نجکاری کا عمل انتہائی شفاف ہو گا اور اس میں بیروکریٹس کی جانب سے کسی بھی قسم کے التوا کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ 2700ارب روپے عدالتی چارہ جوئی کی وجہ سے پھنسا ہوا ہے، اگر کاروباری برادری کا ہے تو انہیں چلا جانا چاہیے اور اگر نہیں ہے تو دوسرے فریق کو مل جانا چاہیے لیکن کئی سال گزر چکے ہیں اور دونوں طرف کے وکیل ملے ہوئے ہیں جو عدالتوں سے جا کر تاریخ لے لیتے ہیں جبکہ دوسری جانب قرضوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔</p>
<p>نشست کے دوران کاروباری برادری نے وزیراعظم کو بھارت اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے بھی تعلقات بہتر بنانے کی تجویز پیش کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1231588</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Apr 2024 17:36:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/24170030cc81c86.png?r=170113" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/24170030cc81c86.png?r=170113"/>
        <media:title>وزیراعظم شہباز شریف کراچی میں کاروباری برادری سے خطاب کررہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
