<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 12:44:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 12:44:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران، جوہری بم کیلئے مطلوبہ یورینیم حاصل کرنے سے ہفتوں کی دوری پر ہے، ایٹمی توانائی ایجنسی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1231591/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کے لیے مطلوبہ افزودہ یورینیم حاصل کرنے سے مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں کی دوری پر دور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن نشریاتی ادارے ’ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو)‘ کو &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.dw.com/en/irans-nuclear-activities-raises-eyebrows-at-iaea/a-68893952"&gt;&lt;strong&gt;انٹرویو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دیتے ہوئے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی نے واضح کیا کہ ایران جوہری بم بنانے کے لیے کافی افزودہ یورینیم حاصل کرنے سے مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں کی دوری پر دور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی واضح کیا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایران کے پاس اس وقت جوہری ہتھیار موجود ہے یا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1187695"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہتھیاروں کے درجے کی سطح کے قریب یورینیم کی افزودگی خطرے کی گھنٹی ہے، لیکن کوئی بھی اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا کہ ایران اب جوہری ہتھیار رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایک فنکشنل نیوکلیئر وارہیڈ کو آزادانہ طور پر فاسائل مواد کی تیاری کے علاوہ بہت سی دوسری چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رافیل گروسی نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی اور ایران کی جوہری تنصیبات تک بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی کی کمی نے اس کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے ایرانی ہم منصبوں کو بار بار بتاتا رہا ہوں کہ اس سرگرمی سے خدشات جنم لیتے ہیں اور اس حقیقت کے ساتھ مزید پیچیدہ ہوتے ہیں کہ ہمیں رسائی اور مرئیت کی وہ مطلوبہ سطح نہیں مل رہی ہے جو میرے خیال میں ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب آپ ان سب کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں تو یقیناً آپ کو بہت سارے سوالیہ نشانات ملتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کے لیے مطلوبہ افزودہ یورینیم حاصل کرنے سے مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں کی دوری پر دور ہے۔</p>
<p>جرمن نشریاتی ادارے ’ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو)‘ کو <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.dw.com/en/irans-nuclear-activities-raises-eyebrows-at-iaea/a-68893952"><strong>انٹرویو</strong></a> دیتے ہوئے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی نے واضح کیا کہ ایران جوہری بم بنانے کے لیے کافی افزودہ یورینیم حاصل کرنے سے مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں کی دوری پر دور ہے۔</p>
<p>ساتھ ہی واضح کیا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایران کے پاس اس وقت جوہری ہتھیار موجود ہے یا ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1187695"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہتھیاروں کے درجے کی سطح کے قریب یورینیم کی افزودگی خطرے کی گھنٹی ہے، لیکن کوئی بھی اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا کہ ایران اب جوہری ہتھیار رکھتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایک فنکشنل نیوکلیئر وارہیڈ کو آزادانہ طور پر فاسائل مواد کی تیاری کے علاوہ بہت سی دوسری چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>رافیل گروسی نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی اور ایران کی جوہری تنصیبات تک بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی کی کمی نے اس کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے ایرانی ہم منصبوں کو بار بار بتاتا رہا ہوں کہ اس سرگرمی سے خدشات جنم لیتے ہیں اور اس حقیقت کے ساتھ مزید پیچیدہ ہوتے ہیں کہ ہمیں رسائی اور مرئیت کی وہ مطلوبہ سطح نہیں مل رہی ہے جو میرے خیال میں ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب آپ ان سب کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں تو یقیناً آپ کو بہت سارے سوالیہ نشانات ملتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1231591</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Apr 2024 17:47:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/2417401107e9d59.jpg?r=174426" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/2417401107e9d59.jpg?r=174426"/>
        <media:title>ان کا کہنا تھا کوئی بھی اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا کہ ایران اب جوہری ہتھیار رکھتا ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
