<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 00:04:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 00:04:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کانگریس کے بعد امریکی سینیٹ سے بھی ٹک ٹاک پر پابندی کا بل منظور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1231610/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی کانگریس (ایوان نمائندگان) کے بعد امریکی سینیٹ نے بھی شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کو ایک سال کے اندر کسی امریکی فرد یا کمپنی کو فروخت نہ کرنے کی صورت میں اس پر امریکا میں پابندی کا بل منظور کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/technology/2024/04/23/tiktok-ban-senate-vote-sale-biden/"&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن پوسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق امریکی سینیٹ میں ٹک ٹاک پر مجوزہ پابندی کے بل کی حمایت میں 79 ووٹ پڑے جب کہ اس کی مخالفت میں محض 18 ووٹ پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینیٹ نے اسرائیل، یوکرین اور تائیوان کی امداد کا بل بھی منظور کیا اور اب تمام بلز امریکی صدر جوبائیڈن کو بھیجے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی صدر نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ کانگریس اور سینیٹ سے پاس ہونے والے تمام بلز کو من و عن سے تسلیم کرتے ہیں اور وہ ان پر فوری دستخط کرلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231432"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوبائیڈن کے دستخط کے بعد تمام بلز قانون بن جائیں گے اور ٹک ٹاک قانونی طور پر اس بات کا پابند بن جائے گا کہ وہ اپنے امریکی شیئرز کسی امریکی شہری یا کمپنی کو فروخت کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کے مطابق ٹک ٹاک کو آئندہ ایک سال کے اندر اندر اپنے امریکی شیئرز کسی بھی امریکی شہری یا کمپنی کو فروخت کرنے ہوں گے اور ایپلی کیشن میں امریکی شہریوں کا تمام ڈیٹا امریکا میں ہی رہے گا، دوسری صورت میں ایک سال کے بعد ٹک ٹاک پر امریکا میں پابندی عائد ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کے تحت اگر ٹک ٹاک اپنے امریکی شیئرز فروخت کرنے میں ناکام جاتا ہے تو ایک سال بعد گوگل پلے اسٹورز سمیت ایپل پلے اسٹورز سے امریکا میں ٹک ٹاک کو ڈاؤن لوڈ نہیں کیا جا سکے گا اور نہ ہی اس کی سروس امریکا میں چلے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ٹک تاک نے امریکی کانگریس اور سینیٹ سے مجوزہ پابندی کے بلز کے خلاف قانونی جنگ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک کے مطابق وہ مجوزہ پابندی کے بلز اور قوانین کے خلاف امریکی عدالتوں میں اپیلیں دائر کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت گزشتہ چند سال سے ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر اس پر وقتا بوقتا جزوی پابندیاں عائد کرتی آ رہی ہے اور گزشتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایسے ہی ٹک ٹاک پر پابندی کے بلز اور آرڈیننس جاری کیے تھے لیکن امریکی عدالتوں نے ایپلی کیشن کو ریلیف دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی کانگریس (ایوان نمائندگان) کے بعد امریکی سینیٹ نے بھی شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کو ایک سال کے اندر کسی امریکی فرد یا کمپنی کو فروخت نہ کرنے کی صورت میں اس پر امریکا میں پابندی کا بل منظور کرلیا۔</p>
<p>امریکی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/technology/2024/04/23/tiktok-ban-senate-vote-sale-biden/"><strong>واشنگٹن پوسٹ</strong></a> کے مطابق امریکی سینیٹ میں ٹک ٹاک پر مجوزہ پابندی کے بل کی حمایت میں 79 ووٹ پڑے جب کہ اس کی مخالفت میں محض 18 ووٹ پڑے۔</p>
<p>امریکی سینیٹ نے اسرائیل، یوکرین اور تائیوان کی امداد کا بل بھی منظور کیا اور اب تمام بلز امریکی صدر جوبائیڈن کو بھیجے جائیں گے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی صدر نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ کانگریس اور سینیٹ سے پاس ہونے والے تمام بلز کو من و عن سے تسلیم کرتے ہیں اور وہ ان پر فوری دستخط کرلیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231432"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جوبائیڈن کے دستخط کے بعد تمام بلز قانون بن جائیں گے اور ٹک ٹاک قانونی طور پر اس بات کا پابند بن جائے گا کہ وہ اپنے امریکی شیئرز کسی امریکی شہری یا کمپنی کو فروخت کرے۔</p>
<p>بل کے مطابق ٹک ٹاک کو آئندہ ایک سال کے اندر اندر اپنے امریکی شیئرز کسی بھی امریکی شہری یا کمپنی کو فروخت کرنے ہوں گے اور ایپلی کیشن میں امریکی شہریوں کا تمام ڈیٹا امریکا میں ہی رہے گا، دوسری صورت میں ایک سال کے بعد ٹک ٹاک پر امریکا میں پابندی عائد ہوجائے گی۔</p>
<p>بل کے تحت اگر ٹک ٹاک اپنے امریکی شیئرز فروخت کرنے میں ناکام جاتا ہے تو ایک سال بعد گوگل پلے اسٹورز سمیت ایپل پلے اسٹورز سے امریکا میں ٹک ٹاک کو ڈاؤن لوڈ نہیں کیا جا سکے گا اور نہ ہی اس کی سروس امریکا میں چلے گی۔</p>
<p>ادھر ٹک تاک نے امریکی کانگریس اور سینیٹ سے مجوزہ پابندی کے بلز کے خلاف قانونی جنگ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔</p>
<p>ٹک ٹاک کے مطابق وہ مجوزہ پابندی کے بلز اور قوانین کے خلاف امریکی عدالتوں میں اپیلیں دائر کرے گا۔</p>
<p>امریکی حکومت گزشتہ چند سال سے ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر اس پر وقتا بوقتا جزوی پابندیاں عائد کرتی آ رہی ہے اور گزشتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایسے ہی ٹک ٹاک پر پابندی کے بلز اور آرڈیننس جاری کیے تھے لیکن امریکی عدالتوں نے ایپلی کیشن کو ریلیف دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1231610</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Apr 2024 21:19:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/242117155db22e0.jpg?r=211749" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/242117155db22e0.jpg?r=211749"/>
        <media:title>—فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
