<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:29:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:29:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمد کی ’اجازت‘ دینے کی رپورٹس پر چینی کی قیمتوں میں اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1231648/</link>
      <description>&lt;p&gt;ملک کے مختلف حصوں میں چینی 10 روپے مہنگی ہو کر 150 روپے فی کلو تک جا پہنچی، جبکہ رپورٹس ہیں کہ ملوں کی جانب سے حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ 10 لاکھ سے 15 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1829491/sugar-prices-surge-amid-reports-of-export-permission"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق کراچی ہول سیلر گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین رؤف ابراہیم نے بتایا کہ گزشتہ 10 روز کے دوران چینی کی تھوک قیمتیں 7 سے 8 روپے فی کلو اضافے  کے بعد 138 سے 139 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں، جس کی وجہ چینی برآمد کرنے کی ممکنہ اجازت دینے کی رپورٹس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت کو ملوں کے دباؤ پر برآمدات کی اجازت نہیں دینی چاہیے، ورنہ مقامی منڈی میں چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور میں بھی چینی کی فی کلو قیمتیں 10 روپے بڑھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس گزشتہ سال کے اچھے ذخائر موجود ہیں، اور چینی کی برآمدات کی اجازت دے کر افراتفری جیسی صورتحال پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1210751"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رؤف ابراہیم نے یاد کیا کہ گزشتہ برس صارفین نے چینی 185 روپے فی کلو تک کی قیمت پر خریدی تھی، جس کی وجہ طلب و رسد کا فرق تھا، جو اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کمشنر کراچی نے چینی کی تھوک اور خوردہ قیمت بالترتیب فی کلو 123 روپے اور 130 روپے مقرر کی ہے، جو صارفین کو شاید ہی کسی دکان پر ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے مالی سال 2024 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران 33 ہزار 101 ٹن (2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر) کی چینی برآمد کی ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران ایک لاکھ 72 ہزار 182 ٹن (8 کروڑ 30 لاکھ ڈالر) چینی برآمد کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسٹیک ہولڈرز کے اجلاس میں چینی کی برآمدات، ملکی ضروریات اور مستقبل میں قلت کو روکنے پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں چینی کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں قلت اور مصنوعی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے لیے کریک ڈاؤن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی ملز مالکان کا مؤقف تھا کہ ملک میں چینی کے سرپلس ذخائر 15 سے 16 لاکھ ٹن کے ہیں، جسے برآمد کرکے زرمبادلہ حاصل کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت سے پہلے مرحلے میں 10 لاکھ ٹن اور باقی برآمدات مئی اور جون تک کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملک کے مختلف حصوں میں چینی 10 روپے مہنگی ہو کر 150 روپے فی کلو تک جا پہنچی، جبکہ رپورٹس ہیں کہ ملوں کی جانب سے حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ 10 لاکھ سے 15 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1829491/sugar-prices-surge-amid-reports-of-export-permission"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق کراچی ہول سیلر گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین رؤف ابراہیم نے بتایا کہ گزشتہ 10 روز کے دوران چینی کی تھوک قیمتیں 7 سے 8 روپے فی کلو اضافے  کے بعد 138 سے 139 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں، جس کی وجہ چینی برآمد کرنے کی ممکنہ اجازت دینے کی رپورٹس ہیں۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت کو ملوں کے دباؤ پر برآمدات کی اجازت نہیں دینی چاہیے، ورنہ مقامی منڈی میں چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور میں بھی چینی کی فی کلو قیمتیں 10 روپے بڑھی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے پاس گزشتہ سال کے اچھے ذخائر موجود ہیں، اور چینی کی برآمدات کی اجازت دے کر افراتفری جیسی صورتحال پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1210751"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رؤف ابراہیم نے یاد کیا کہ گزشتہ برس صارفین نے چینی 185 روپے فی کلو تک کی قیمت پر خریدی تھی، جس کی وجہ طلب و رسد کا فرق تھا، جو اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔</p>
<p>حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کمشنر کراچی نے چینی کی تھوک اور خوردہ قیمت بالترتیب فی کلو 123 روپے اور 130 روپے مقرر کی ہے، جو صارفین کو شاید ہی کسی دکان پر ملے۔</p>
<p>پاکستان نے مالی سال 2024 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران 33 ہزار 101 ٹن (2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر) کی چینی برآمد کی ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران ایک لاکھ 72 ہزار 182 ٹن (8 کروڑ 30 لاکھ ڈالر) چینی برآمد کی تھی۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسٹیک ہولڈرز کے اجلاس میں چینی کی برآمدات، ملکی ضروریات اور مستقبل میں قلت کو روکنے پر غور کیا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں چینی کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں قلت اور مصنوعی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے لیے کریک ڈاؤن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>چینی ملز مالکان کا مؤقف تھا کہ ملک میں چینی کے سرپلس ذخائر 15 سے 16 لاکھ ٹن کے ہیں، جسے برآمد کرکے زرمبادلہ حاصل کرنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے حکومت سے پہلے مرحلے میں 10 لاکھ ٹن اور باقی برآمدات مئی اور جون تک کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1231648</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Apr 2024 10:54:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عامر شفاعت خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/2510471041b97b6.jpg?r=104834" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/2510471041b97b6.jpg?r=104834"/>
        <media:title>—فائل  کریٹیو کامنز فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
