<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 11:28:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 11:28:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئین میں کہاں لکھا ہے کابینہ قانون سے بالاتر ہے؟ چیف جسٹس</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1231766/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جناح میڈیکل یونیورسٹی کے 600 سو کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کابینہ قانون سے بالاتر ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار عمر سومرو نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ نے ان ملازمین کی ریگولرائزیشن کی منظوری دی تھی مگر پھر بھی انہیں برطرف کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کابینہ کیسے ریگولرائزیشن  کی منظوری دے سکتی ہے؟ قانون اگر ریگولرائزیشن کی اجازت دیتا ہے تو بتائیں، آئین میں کہاں لکھا ہے کابینہ قانون سے بالاتر ہے؟ سندھ اسمبلی قانون بنا دے ان کے پاس اختیار ہے پھر قانون کے تحت کرتے رہیں ریگولرائز۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل درخواست گزار نے کہا کہ رولز آف بزنس میں یونیورسٹی ملازمین کو ریگولرائز کرنے کا قانون ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231696"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رولز آف بزنس کو تقرری اور ریگولرائزیشن کا قانون مت بنائیں اس کا اطلاق یہاں نہیں ہوگا، سرکاری اداروں کی بہت بری حالت ہے، صرف کنٹریکٹ پر بھرتیاں کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ پی آئی اے کو دیکھیں اتنا عملہ بھر دیا ہے کہ وہ ہر دن بڑھتا چلا گیا، پاکستان کی تمام جامعات میں 6 ماہ سے زیادہ ایڈہاک پر بھرتی پر پابندی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آپ ریگولرائز کرنے کا عمل شروع کرنے کا حکم دے دیں، چیف جسٹس نے کہا کہ سرکار اور  پارلیمان کا کام ہم نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں عدالت نے جناح میڈیکل یونیورسٹی کے 600 سو کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کی درخواست مسترد کردی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جناح میڈیکل یونیورسٹی کے 600 سو کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کابینہ قانون سے بالاتر ہے؟</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار عمر سومرو نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ نے ان ملازمین کی ریگولرائزیشن کی منظوری دی تھی مگر پھر بھی انہیں برطرف کردیا گیا۔</p>
<p>چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کابینہ کیسے ریگولرائزیشن  کی منظوری دے سکتی ہے؟ قانون اگر ریگولرائزیشن کی اجازت دیتا ہے تو بتائیں، آئین میں کہاں لکھا ہے کابینہ قانون سے بالاتر ہے؟ سندھ اسمبلی قانون بنا دے ان کے پاس اختیار ہے پھر قانون کے تحت کرتے رہیں ریگولرائز۔</p>
<p>وکیل درخواست گزار نے کہا کہ رولز آف بزنس میں یونیورسٹی ملازمین کو ریگولرائز کرنے کا قانون ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231696"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رولز آف بزنس کو تقرری اور ریگولرائزیشن کا قانون مت بنائیں اس کا اطلاق یہاں نہیں ہوگا، سرکاری اداروں کی بہت بری حالت ہے، صرف کنٹریکٹ پر بھرتیاں کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ پی آئی اے کو دیکھیں اتنا عملہ بھر دیا ہے کہ وہ ہر دن بڑھتا چلا گیا، پاکستان کی تمام جامعات میں 6 ماہ سے زیادہ ایڈہاک پر بھرتی پر پابندی ہونی چاہیے۔</p>
<p>وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آپ ریگولرائز کرنے کا عمل شروع کرنے کا حکم دے دیں، چیف جسٹس نے کہا کہ سرکار اور  پارلیمان کا کام ہم نہیں کریں گے۔</p>
<p>بعد ازاں عدالت نے جناح میڈیکل یونیورسٹی کے 600 سو کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کی درخواست مسترد کردی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1231766</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Apr 2024 15:59:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/26141509a74505b.png?r=155910" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/26141509a74505b.png?r=155910"/>
        <media:title>چیف جسٹس — فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
