<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 10:10:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 10:10:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی بحری جہاز کے عملے کو چھوڑ دیا جائے گا، ایران</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1231869/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل  کے ساتھ منسلک پرتگال کے جھنڈے والے بحری جہاز کے عملے کو قونصلر رسائی دے دی گئی ہے اور توقع ہے کہ انہیں رہا کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی خبر کے مطابق ایرانی میڈیا نے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان کے اس اہم بیان کو رپورٹ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے اپنے پرتگالی ہم منصب  کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’جہاز کے عملے کی رہائی کا انسانی مسئلہ ہمارے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹ میں ان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شپ کا عملہ تہران میں ان کے سفارت کاروں کے حوالے کر دیا جائے گا، میڈیا رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ پیش رفت کب تک ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230727"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ آریز کو ’بحری قوانین کی خلاف ورزی‘ پر  قبضے میں تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ  شپ اسرائیل سے منسلک تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی نے آریز کو گورٹل شپنگ سے لیز پر لیا ہے جو کہ سے منسلک زوڈیاک میری ٹائم کے ساتھ ملحقہ ہے جو جزوی طور پر اسرائیلی تاجر ایال اوفر کی ملکیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1230715"&gt;3 اپریل کو&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اسرائیلی بحری جہاز قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسداران انقلاب کی بحری فورسز کے خصوصی ہیلی کاپٹر کو بحری جہاز پر اتار کر اس پر قبضہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230885"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دمشق میں اسرائیلی حملے کے جواب میں 13 اپریل کو رات گئے ایران نے اسرائیلی سرزمین پر اپنے پہلے براہ راست حملے میں میزائل اور دھماکا خیز ڈرونز داغے تھے جب کہ بعد ازاں اسرائیل نے بھی ایران پر جوابی حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان ایرانی دفتر ناصر کنانی نے کہا تھا بحری قوانین کی خلاف ورزی اور ایرانی حکام کی کال کو نظر انداز کرنے کے بعد یہ بحری جہاز ایران کے سمندری حدود میں داخل ہوا، ایران کو یقین ہے کہ اس جہاز کے اسرائیل سے تعلقات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کہ اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ ایران بحری قزاقی کر رہا ہے لہٰذا اس پر پابندیاں لگائی جانی چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاٹز نے کہا تھا کہ خامنہ ای کی آیت اللہ حکومت ایک مجرمانہ حکومت ہے جو حماس کے جرائم کی حمایت کرتی ہے اور اب بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بحری قزاقوں جیسی کارروائیاں کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خارجہ نے کہا کہ میں یورپی یونین اور دنیا کے دیگر ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیں اور ایران پر ابھی پابندیاں لگائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل  کے ساتھ منسلک پرتگال کے جھنڈے والے بحری جہاز کے عملے کو قونصلر رسائی دے دی گئی ہے اور توقع ہے کہ انہیں رہا کر دیا جائے گا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی خبر کے مطابق ایرانی میڈیا نے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان کے اس اہم بیان کو رپورٹ کیا ہے۔</p>
<p>ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے اپنے پرتگالی ہم منصب  کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’جہاز کے عملے کی رہائی کا انسانی مسئلہ ہمارے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔‘</p>
<p>میڈیا رپورٹ میں ان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شپ کا عملہ تہران میں ان کے سفارت کاروں کے حوالے کر دیا جائے گا، میڈیا رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ پیش رفت کب تک ہوگی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230727"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایرانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ آریز کو ’بحری قوانین کی خلاف ورزی‘ پر  قبضے میں تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ  شپ اسرائیل سے منسلک تھا۔</p>
<p>ایم ایس سی نے آریز کو گورٹل شپنگ سے لیز پر لیا ہے جو کہ سے منسلک زوڈیاک میری ٹائم کے ساتھ ملحقہ ہے جو جزوی طور پر اسرائیلی تاجر ایال اوفر کی ملکیت ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1230715">3 اپریل کو</a></strong> ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اسرائیلی بحری جہاز قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔</p>
<p>پاسداران انقلاب کی بحری فورسز کے خصوصی ہیلی کاپٹر کو بحری جہاز پر اتار کر اس پر قبضہ کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1230885"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دمشق میں اسرائیلی حملے کے جواب میں 13 اپریل کو رات گئے ایران نے اسرائیلی سرزمین پر اپنے پہلے براہ راست حملے میں میزائل اور دھماکا خیز ڈرونز داغے تھے جب کہ بعد ازاں اسرائیل نے بھی ایران پر جوابی حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔</p>
<p>ترجمان ایرانی دفتر ناصر کنانی نے کہا تھا بحری قوانین کی خلاف ورزی اور ایرانی حکام کی کال کو نظر انداز کرنے کے بعد یہ بحری جہاز ایران کے سمندری حدود میں داخل ہوا، ایران کو یقین ہے کہ اس جہاز کے اسرائیل سے تعلقات ہیں۔</p>
<p>جب کہ اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ ایران بحری قزاقی کر رہا ہے لہٰذا اس پر پابندیاں لگائی جانی چاہئیں۔</p>
<p>کاٹز نے کہا تھا کہ خامنہ ای کی آیت اللہ حکومت ایک مجرمانہ حکومت ہے جو حماس کے جرائم کی حمایت کرتی ہے اور اب بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بحری قزاقوں جیسی کارروائیاں کر رہی ہے۔</p>
<p>وزیر خارجہ نے کہا کہ میں یورپی یونین اور دنیا کے دیگر ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیں اور ایران پر ابھی پابندیاں لگائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1231869</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Apr 2024 18:13:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/271749524297bd0.png?r=181235" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/271749524297bd0.png?r=181235"/>
        <media:title>ایرانی میڈیا نے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان کے اس اہم بیان کو رپورٹ کیا ہے—فوٹو: رائٹرز/فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
