<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 10:55:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 10:55:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ: 8 لڑکیوں سے جنسی زیادتی کرنے والے 24 ملزمان کو 30 سال تک قید کی سزا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1231904/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانیہ میں 8 لڑکیوں کے ساتھ  جنسی زیادتی کرنے والے  24 افراد  کو  30 سال تک قید کی سزا سنادی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/uk-england-leeds-68911740"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پولیس نے  بدسلوکی، جس میں عصمت دری اور اسمگلنگ جیسے جرائم بھی شامل ہیں،  کو انتہائی نفرت انگیز قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سزائیں 1999 اور 2012 کے درمیان شمالی کرکلیز کے علاقے میں 8 لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تحقیقات کے بعد عمل میں آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے کہا کہ آپریشن کا مرکز بٹلے اور ڈیوزبری کے گرد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسٹ یارکشائر پولیس نے بتایا کہ دوران سماعت  جیوری نے چونکا دینے والے جرم کی تفصیلات سنی  جس میں بتایا گیا کہ  متاثرین کے ساتھ  بدسلوکی کی جاتی  اور ان کا سودا کیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2018 کے آخر میں پورے ویسٹ یارکشائر سے گرفتاریاں کی گئیں اور دسمبر 2020 میں ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسٹ یارکشائر پولیس کے ڈی ٹی سی ایچ انسپکٹر اولیور کوٹس نے کہا کہ اکیلے ہی عصمت دری کے 14 جرائم کا مرتکب آصف علی  نے اس پیمانے پر خوفناک جنسی زیادتی کا ارتکاب کیا جس پر یقین کرنا ناممکن ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانیہ میں 8 لڑکیوں کے ساتھ  جنسی زیادتی کرنے والے  24 افراد  کو  30 سال تک قید کی سزا سنادی گئی۔</p>
<p>بی بی سی کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/uk-england-leeds-68911740">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پولیس نے  بدسلوکی، جس میں عصمت دری اور اسمگلنگ جیسے جرائم بھی شامل ہیں،  کو انتہائی نفرت انگیز قرار دیا ہے۔</p>
<p>یہ سزائیں 1999 اور 2012 کے درمیان شمالی کرکلیز کے علاقے میں 8 لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تحقیقات کے بعد عمل میں آئی ہیں۔</p>
<p>پولیس نے کہا کہ آپریشن کا مرکز بٹلے اور ڈیوزبری کے گرد تھا۔</p>
<p>ویسٹ یارکشائر پولیس نے بتایا کہ دوران سماعت  جیوری نے چونکا دینے والے جرم کی تفصیلات سنی  جس میں بتایا گیا کہ  متاثرین کے ساتھ  بدسلوکی کی جاتی  اور ان کا سودا کیا جاتا تھا۔</p>
<p>2018 کے آخر میں پورے ویسٹ یارکشائر سے گرفتاریاں کی گئیں اور دسمبر 2020 میں ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔</p>
<p>ویسٹ یارکشائر پولیس کے ڈی ٹی سی ایچ انسپکٹر اولیور کوٹس نے کہا کہ اکیلے ہی عصمت دری کے 14 جرائم کا مرتکب آصف علی  نے اس پیمانے پر خوفناک جنسی زیادتی کا ارتکاب کیا جس پر یقین کرنا ناممکن ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1231904</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Apr 2024 10:15:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/28093451dcbcf87.jpg?r=093501" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/28093451dcbcf87.jpg?r=093501"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
