<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 22:31:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Apr 2026 22:31:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیبلشمنٹ کے دیے نتائج پر کب تک سمجھوتہ کرتے رہیں گے؟ مولانا فضل الرحمٰن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1232005/</link>
      <description>&lt;p&gt;جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے سوال اٹھایا  ہے کہ اسٹیبلشمنٹ جو نتائج دے، اس پر کب تک سمجھوتہ کرتے رہیں گے، جو ہمارے محکوم ہونے چاہیے تھے، وہ ہمارے آقا بنے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری قومی اسمبلی کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے  رہنما اسد قیصر نے اسپیکر ایاز صادق سے احتجاج کرنے کے پارٹی کے آئینی حق کو یقینی بنانے کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/eZCJ3Rj8Aew?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسد قیصر نے کہا کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ پی ٹی آئی کو اس کے جائز حقوق کیوں نہیں دیے جا رہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہم سویلین بالادستی اور آزاد عدالتیں چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی رہنما کے بعد اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے  مولانا فضل الرحمٰن فضل نے کہا کہ اسد قیصر کی درخواست حق بجانب  ہے، جلسہ کرنا پی ٹی آئی کا حق ہے، میں اسد قیصر کے مطالبے کی حمایت کرتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231976"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  حلف برداری کے بعد میں پہلی مرتبہ ایوان میں آیا ہوں،
حکومت میں موجود جماعتوں کے سینئر  لوگ مینڈیٹ پر سوال اٹھا رہےہیں، ہم نے سودے کیے اور جمہوریت بیچ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا  کہ  اس ملک کی آزادی میں نہ بیوروکریسی اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا  کہ  کیا یہ عوامی پارلیمنٹ ہے یا اسٹیبلشمنٹ کی ترتیب دی ہوئی پارلیمنٹ ہے ؟ ماضی میں ایک صدر نے 5  وزیراعظم تبدیل کیے، بڑی مشکل سے پارلیمانی جمہوریت پر اتفاق ہوا اور لوگوں کو ووٹ کا حق ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمٰن نے سوال اٹھایا کہ قائد اعظم کا پاکستان آج کہاں ہے ؟ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرے گی، اسٹیبلشمنٹ جو نتائج دے، اس پر کب تک سمجھوتے کرتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ سیاستدان معلومات کی بنیاد پر بات کرتا ہے، ہماری معلومات یہ ہیں اس بار اسمبلی بیچی گئی اور خریدی گئی، جیتنے والے بھی پریشان اور ہارنے والے بھی پریشان، جیتنے والے اپنے ہی منڈیٹ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم اس لیے کمزور ہیں کیونکہ ہم نے جمہوریت بیچی،  ہمیں الیکشن میں نکلنے ہی نہیں دیا گیا، ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ریاست ہے، کیا آپ لاہور کے نتائج سے مطمئن ہیں؟۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="پی-ٹی-آئی-اکثریتی-جماعت-ہے-تو-اسے-حکومت-دے-دو" href="#پی-ٹی-آئی-اکثریتی-جماعت-ہے-تو-اسے-حکومت-دے-دو" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’پی ٹی آئی اکثریتی جماعت ہے تو  اسے  حکومت دے دو‘&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمٰن  نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے استفسار
کیا کہ کیا آپ مطمئن ہیں، ایاز صادق نے جواب دیا میں مطمئن ہوں، جس پر سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اللہ آپ کو مطمئن رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں آج بھی ہمدردری کی بنیاد پر میاں نواز شریف، شہباز شریف اور برخوردار بلاول بھٹو سے یہ کہتا ہوں کہ آپ عوام کے لوگ ہیں، چلیں اکھٹیں عوام میں جاتے ہیں، چھوڑو اس اقتدار کو، آئیں، ادھر بیٹھیں، اور اگر واقعی اکثریتی جماعت پی ٹی آئی ہے تو دے دو ان کو حکومت، لیکن شاید میری بات احمقوں والی سی لگ رہی ہو گی کہ کیا کہہ رہا ہوں، آج بھی وقت ہے سنبھلنے کا، لیکن ہم سنبھلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم نوکری کرنے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عزم کر رکھا ہے کہ اس غلامی کے خلاف جنگ لڑیں گے، میدان عمل میں آکر جنگ لڑیں گے ، عوام میں جا کر لڑیں گے، آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر لڑیں گے اور ملک کو اس غلامی سے نجات دلائیں گے، ہم پر یا توعالمی قوتیں حکومت کر رہی ہیں یا پھر اسٹیبلشمنٹ حکومت کر رہی ہے، یہ نظام ہمیں قبول نہیں ہے، ہماری پوزیشن اس حوالے سے واضح ہے، اس لیے ہمارا پیغام ہر سطح پر چلا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے سوال اٹھایا  ہے کہ اسٹیبلشمنٹ جو نتائج دے، اس پر کب تک سمجھوتہ کرتے رہیں گے، جو ہمارے محکوم ہونے چاہیے تھے، وہ ہمارے آقا بنے ہوئے ہیں۔</p>
<p>اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری قومی اسمبلی کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے  رہنما اسد قیصر نے اسپیکر ایاز صادق سے احتجاج کرنے کے پارٹی کے آئینی حق کو یقینی بنانے کی درخواست کی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/eZCJ3Rj8Aew?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسد قیصر نے کہا کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ پی ٹی آئی کو اس کے جائز حقوق کیوں نہیں دیے جا رہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہم سویلین بالادستی اور آزاد عدالتیں چاہتے ہیں۔</p>
<p>پی ٹی آئی رہنما کے بعد اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے  مولانا فضل الرحمٰن فضل نے کہا کہ اسد قیصر کی درخواست حق بجانب  ہے، جلسہ کرنا پی ٹی آئی کا حق ہے، میں اسد قیصر کے مطالبے کی حمایت کرتا ہوں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1231976"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ  حلف برداری کے بعد میں پہلی مرتبہ ایوان میں آیا ہوں،
حکومت میں موجود جماعتوں کے سینئر  لوگ مینڈیٹ پر سوال اٹھا رہےہیں، ہم نے سودے کیے اور جمہوریت بیچ دی۔</p>
<p>انہوں نے کہا  کہ  اس ملک کی آزادی میں نہ بیوروکریسی اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا  کہ  کیا یہ عوامی پارلیمنٹ ہے یا اسٹیبلشمنٹ کی ترتیب دی ہوئی پارلیمنٹ ہے ؟ ماضی میں ایک صدر نے 5  وزیراعظم تبدیل کیے، بڑی مشکل سے پارلیمانی جمہوریت پر اتفاق ہوا اور لوگوں کو ووٹ کا حق ملا۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمٰن نے سوال اٹھایا کہ قائد اعظم کا پاکستان آج کہاں ہے ؟ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرے گی، اسٹیبلشمنٹ جو نتائج دے، اس پر کب تک سمجھوتے کرتے رہیں گے۔</p>
<p>سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ سیاستدان معلومات کی بنیاد پر بات کرتا ہے، ہماری معلومات یہ ہیں اس بار اسمبلی بیچی گئی اور خریدی گئی، جیتنے والے بھی پریشان اور ہارنے والے بھی پریشان، جیتنے والے اپنے ہی منڈیٹ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم اس لیے کمزور ہیں کیونکہ ہم نے جمہوریت بیچی،  ہمیں الیکشن میں نکلنے ہی نہیں دیا گیا، ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ریاست ہے، کیا آپ لاہور کے نتائج سے مطمئن ہیں؟۔</p>
<h4><a id="پی-ٹی-آئی-اکثریتی-جماعت-ہے-تو-اسے-حکومت-دے-دو" href="#پی-ٹی-آئی-اکثریتی-جماعت-ہے-تو-اسے-حکومت-دے-دو" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’پی ٹی آئی اکثریتی جماعت ہے تو  اسے  حکومت دے دو‘</h4>
<p>مولانا فضل الرحمٰن  نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے استفسار
کیا کہ کیا آپ مطمئن ہیں، ایاز صادق نے جواب دیا میں مطمئن ہوں، جس پر سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اللہ آپ کو مطمئن رکھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں آج بھی ہمدردری کی بنیاد پر میاں نواز شریف، شہباز شریف اور برخوردار بلاول بھٹو سے یہ کہتا ہوں کہ آپ عوام کے لوگ ہیں، چلیں اکھٹیں عوام میں جاتے ہیں، چھوڑو اس اقتدار کو، آئیں، ادھر بیٹھیں، اور اگر واقعی اکثریتی جماعت پی ٹی آئی ہے تو دے دو ان کو حکومت، لیکن شاید میری بات احمقوں والی سی لگ رہی ہو گی کہ کیا کہہ رہا ہوں، آج بھی وقت ہے سنبھلنے کا، لیکن ہم سنبھلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم نوکری کرنے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عزم کر رکھا ہے کہ اس غلامی کے خلاف جنگ لڑیں گے، میدان عمل میں آکر جنگ لڑیں گے ، عوام میں جا کر لڑیں گے، آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر لڑیں گے اور ملک کو اس غلامی سے نجات دلائیں گے، ہم پر یا توعالمی قوتیں حکومت کر رہی ہیں یا پھر اسٹیبلشمنٹ حکومت کر رہی ہے، یہ نظام ہمیں قبول نہیں ہے، ہماری پوزیشن اس حوالے سے واضح ہے، اس لیے ہمارا پیغام ہر سطح پر چلا جانا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1232005</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Apr 2024 20:57:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/04/2917582345e665c.png?r=175833" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/04/2917582345e665c.png?r=175833"/>
        <media:title>مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس ملک کی آزادی میں نہ بیوروکریسی اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے—فوٹو:ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
