<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:09:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:09:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بشریٰ بی بی کو بنی گالا سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا تحریری فیصلہ جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1232783/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بنی گالا سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا تحریری فیصلہ جاری ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس حسن اورنگزیب نے 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا ہےکہ درخواست گزار  کے مطابق اُنہیں بنی گالا میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، درخواست گزار چاہتی ہیں کہ انہیں جیل میں رکھا جائے تاکہ ان کی تنہائی دور ہو،  عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ قید تنہائی میں رکھنا صرف سزا نہیں بلکہ ٹارچر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کی سزا کو مزید سخت بنا دیا گیا ہے، رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے سے بشریٰ بی بی کے بچے آسانی سے گھر نہیں آ جا سکتے، ان کے شوہر کے بچوں اور خاندان کے افراد کو بھی گھر آنے کے لیے سپرنٹنڈنٹ جیل یا عدالت سے اجازت لینی پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232682"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں کہ رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے کے نوٹیفکیشن کے اجرا سے قبل پراپرٹی کے مالک سے اجازت لی گئی، رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کر پرائیویٹ پراپرٹی کا ورچوئیل قبضہ حاصل کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق  پراپرٹی کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کر اسے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1232682"&gt;گزشتہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے بشریٰ بی بی کی بنی گالا سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست منظور کرلی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی حکم کے بعد  سابق خاتون اول کو جیل منتقل کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 2 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بنی گالا سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;16 اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سزا یافتہ سابق وزیر اعظم و بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بنی گالا سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی تھی جبکہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ وکلا خود بھی نہیں چاہتے کہ بشری بی بی جیل چلی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اسی روز سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سب جیل بنی گالا سے اڈیالہ جیل منتقلی سے متعلق درخواست بحالی کی اپیل دائر کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1223231"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;18 اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی بنی گالا سے اڈیالہ جیل منتقلی کی عدم پیروی پر خارج کی گئی درخواست کو دوبارہ بحال کرتے ہوئے سماعت 22 اپریل تک ملتوی کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پس منظر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 31 جنوری کو بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ریفرنس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں اسی روز عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی گرفتاری دینے کے لیے خود اڈیالہ جیل پہنچیں جہاں ان کو تحویل میں لے لیا گیا تھا اور بشریٰ بی بی کو بنی گالا منتقل کرکے رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;6 فروری کو بشریٰ بی بی نے بنی گالا کو سب جیل قرار دینے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;12 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ کیس میں سزا یافتہ سابق وزیر اعظم و بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بنی گالا کو سب جیل قرار دینے کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;16 فروری کو پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی گرتی ہوئی صحت کے حوالے سے رپورٹس سامنے آنے کے بعد ان کی فوری طور پر طبی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بنی گالا سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا تحریری فیصلہ جاری ہوگیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس حسن اورنگزیب نے 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا ہےکہ درخواست گزار  کے مطابق اُنہیں بنی گالا میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، درخواست گزار چاہتی ہیں کہ انہیں جیل میں رکھا جائے تاکہ ان کی تنہائی دور ہو،  عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ قید تنہائی میں رکھنا صرف سزا نہیں بلکہ ٹارچر ہے۔</p>
<p>فیصلے کے مطابق بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کی سزا کو مزید سخت بنا دیا گیا ہے، رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے سے بشریٰ بی بی کے بچے آسانی سے گھر نہیں آ جا سکتے، ان کے شوہر کے بچوں اور خاندان کے افراد کو بھی گھر آنے کے لیے سپرنٹنڈنٹ جیل یا عدالت سے اجازت لینی پڑتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232682"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تحریری فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں کہ رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے کے نوٹیفکیشن کے اجرا سے قبل پراپرٹی کے مالک سے اجازت لی گئی، رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کر پرائیویٹ پراپرٹی کا ورچوئیل قبضہ حاصل کر لیا گیا۔</p>
<p>فیصلے کے مطابق  پراپرٹی کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کر اسے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1232682">گزشتہ</a></strong> روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے بشریٰ بی بی کی بنی گالا سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست منظور کرلی تھی۔</p>
<p>عدالتی حکم کے بعد  سابق خاتون اول کو جیل منتقل کردیا گیا تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 2 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بنی گالا سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔</p>
<p>16 اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سزا یافتہ سابق وزیر اعظم و بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بنی گالا سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی تھی جبکہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ وکلا خود بھی نہیں چاہتے کہ بشری بی بی جیل چلی جائیں۔</p>
<p>بعد ازاں اسی روز سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سب جیل بنی گالا سے اڈیالہ جیل منتقلی سے متعلق درخواست بحالی کی اپیل دائر کردی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1223231"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>18 اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی بنی گالا سے اڈیالہ جیل منتقلی کی عدم پیروی پر خارج کی گئی درخواست کو دوبارہ بحال کرتے ہوئے سماعت 22 اپریل تک ملتوی کردی تھی۔</p>
<h1><a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پس منظر</h1>
<p>واضح رہے کہ 31 جنوری کو بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ریفرنس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔</p>
<p>بعدازاں اسی روز عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی گرفتاری دینے کے لیے خود اڈیالہ جیل پہنچیں جہاں ان کو تحویل میں لے لیا گیا تھا اور بشریٰ بی بی کو بنی گالا منتقل کرکے رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا گیا تھا۔</p>
<p>6 فروری کو بشریٰ بی بی نے بنی گالا کو سب جیل قرار دینے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔</p>
<p>12 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ کیس میں سزا یافتہ سابق وزیر اعظم و بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بنی گالا کو سب جیل قرار دینے کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر ہوگئی تھی۔</p>
<p>16 فروری کو پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی گرتی ہوئی صحت کے حوالے سے رپورٹس سامنے آنے کے بعد ان کی فوری طور پر طبی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1232783</guid>
      <pubDate>Thu, 09 May 2024 11:18:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمرمہتاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/09110518d272f88.jpg?r=110528" type="image/jpeg" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/09110518d272f88.jpg?r=110528"/>
        <media:title>—فائل فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
